وشاکھاپٹنم کے نوجوان کوہ پیما اور مارشل آرٹس چمپئن انمیش ورما نے۹۲؍دنوں میں کوہ دماوند، کلی منجارو، ماؤنٹ گیلوے، البرس سمیت ۷؍آتش فشاں پہاڑ عبورکئے ،یہ کارنامہ گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہوا ہے، وہ ماؤنٹ ایوریسٹ بھی سرچکے ہیں۔
انمیش ورما-تصویر:آئی این این
وشاکھاپٹنم، آندھرا پردیش کے رہنے والے کوہ پیما اور مارشل آرٹس چمپئن انمیش ورما نےحال ہی ۷؍ آتش فشاں پہاڑوں کو سر کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے یہ پُر خطر اور مشکل مہم محض ۹۲؍دنوں میں مکمل کی ہے، اس وجہ سے ان کا نام گنیز بک آ ف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا ہے۔ قبل ازیں وہ ماؤنٹ ایوریسٹ سمیت کئی بڑی چوٹیوں کو سر چکے ہیں۔ ساتھ ہی وہ پون کلیان کی فلم ‘تھمّوڈو’ سے متاثر ہو کر کک باکسنگ اور تائیکوانڈو کے میدان میں بھی نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
کچھ لوگ زندگی کو آسان راستوں سے گزارتے ہیں، لیکن انمیش ورما نے چیلنجز کو ہی اپنا راستہ بنایا۔ برفانی چوٹیوں پر چڑھنا، جہاں خون جمادینے والی ہوا سرگوشیاں کرتی ہے، اور رِنگ میں تیزی سے حریفوں کو شکست دینا، یہی ان کی پہچان ہے۔ وہ ایک بین الاقوامی کوہ پیما اور عالمی مارشل آرٹس چمپئن ہیں۔ انمیش ورما نے محض۹۲؍ دنوں میں سات آتش فشانی چوٹیوں کو سر کر کے مارچ۲۰۲۶ء میں گنیز ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام درج کرایا۔ روس سے انٹارکٹیکا تک پھیلا ان کا یہ سفر نہ صرف ہندوستان کی نوجوان طاقت کو عالمی سطح پر متعارف کراتا ہے بلکہ نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ انہوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سمیت کئی اہم چوٹیوں کو سر کیا اور عالمی مارشل آرٹس میں سونے کا تمغہ بھی حاصل کیا۔ ان کی یہ کامیابی مستقبل کے کوہ پیماؤں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں ایڈونچر اسپورٹس کو بھی فروغ دیتی ہے۔
مارشل آرٹس کے شوقین
ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرچکے انمیش ورما وشاکھاپٹنم کے ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جہاں مارشل آرٹس سے گہرا لگاؤ تھا۔ ان کے والد اور چچا اس فن میں مہارت رکھتے تھے، جس کی وجہ سے بچپن ہی سے انمیش کی دلچسپی بڑھی۔ فلموں کے ایکشن مناظر، خاص طور پر پون کلیان کی فلم ‘تھمّوڈو’ نے انہیں مزید متاثر کیا۔ اسکول میں کوچ جی کنک راؤ سے ملاقات کے بعد ان کی صلاحیتوں کو درست سمت ملی۔ ان کی رہنمائی میں انمیش نے کئی مقابلے جیت کر قومی سطح تک رسائی حاصل کی۔ انہوں نے کک باکسنگ اور تائیکوانڈو میں بھی مہارت حاصل کی۔ ان تمام کامیابیوں کے پیچھے ان کے خاندان اور دوستوں کا مضبوط ساتھ رہا۔
ماؤنٹ البرس سے آغاز
انمیش ورما نے اکتوبر۲۰۲۴ء میں روس کے ماؤنٹ البرس سے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اس کے بعد تقریباً ۳؍ماہ میں انہوں نے کئی براعظموں کا سفر کیا۔ آخرکار۲۳؍ جنوری۲۰۲۵ء کو انٹارکٹیکا کے ماؤنٹ سڈلی پر کامیاب چڑھائی کے ساتھ انہوں نے اپنے ریکارڈ ساز سفر کو مکمل کیا۔ ’سیون وولکینک سمٹس‘ دنیا کے ہر براعظم کے بلند ترین آتش فشانی پہاڑوں کا مجموعہ ہے، جسے کوہ پیمائی کی مشکل ترین مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ مختلف بلندیاں، بدلتا موسم اور دشوار گزار راستے اسے نہایت چیلنجنگ بناتے ہیں۔
فٹنس اور تیاری
انمیش ورما کیلئے کم وقت میں مسلسل چڑھائیاں مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، جہاں وقت کا درست استعمال نہایت اہم ثابت ہوا۔ اس مہم کے دوران انہیں۳۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک کی سردی، تیز ہوائیں، برفانی طوفان اور آکسیجن کی کمی جیسے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر انٹارکٹیکا اور جنوبی امریکہ میں۔ ماؤنٹ سڈلی اس مہم کا سب سے مشکل مرحلہ تھا، جہاں محدود وسائل اور تنہائی میں چڑھائی ایک بڑا امتحان تھی۔ برسوں کی محنت، سخت تربیت، مضبوط جسمانی فٹنس اور ذہنی استقامت کے باعث انمیش نے اس چیلنج کو کامیابی سے مکمل کیا۔
دو دنیاؤں کا حسین امتزاج
انمیش ورما کے مطابق ایورسٹ پر چڑھنا صرف بلندی حاصل کرنا نہیں بلکہ فطرت کے ساتھ توازن قائم کرنے کا تجربہ ہے، جہاں ہر قدم حدود کو عبور کرنے اور حالات کا احترام کرنے کے درمیان ہوتا ہے۔ اس میں اندرونی سکون، سانس پر توجہ اور وجدان پر بھروسہ ضروری ہوتا ہے۔ مارشل آرٹس بھی یہی سکھاتا ہے کہ ہر حرکت میں توجہ، درستگی اور کنٹرول کا توازن ہونا چاہیے۔ یہ ذہن پر قابو پانے اور درست فیصلے کرنے کا فن ہے۔ انمیش کے لیے یہ دونوں دنیائیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ پہاڑوں سے حاصل ہونے والی ذہنی طاقت انہیں مقابلوں میں مضبوط بناتی ہے، جبکہ مارشل آرٹس کا نظم و ضبط انہیں مشکل حالات میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ ان کے لیے ہر چوٹی صرف کامیابی نہیں بلکہ خود کو بہتر بنانے اور خوف پر قابو پانے کی علامت ہے۔
انمیش کی یہ حصولیابی نوجوانوں کو پیغام دیتی ہے کہ چیلنجز راستہ نہیں روکتے بلکہ آپ کو مضبوط بنا کر آگے بڑھاتے ہیں۔ جو اپنے خوف پر قابو پا لیتا ہے، وہی حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ نظم و ضبط اور محنت ہی خوابوں کو حقیقت میں بدلتے ہیں۔