مغربی ایشیا میں جنگی حالات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں جس کا اثر اب ایشیائی ممالک میں ایندھن کے بحران کی صورت میں نظر آنے لگا ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی فی الحال مستحکم ہے۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 12:03 PM IST | Hyderabad
مغربی ایشیا میں جنگی حالات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں جس کا اثر اب ایشیائی ممالک میں ایندھن کے بحران کی صورت میں نظر آنے لگا ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی فی الحال مستحکم ہے۔
مغربی ایشیا میں جنگی حالات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں جس کا اثر اب ایشیائی ممالک میں ایندھن کے بحران کی صورت میں نظر آنے لگا ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی فی الحال مستحکم ہے لیکن گیس سلنڈروں کی فراہمی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
تیل کی درآمدات میں کمی کے باعث مرکز نے تیل کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کمرشیل سلنڈروں کے مقابلے میں گھریلو (ڈومیسٹک) سلنڈروں کی فراہمی کو ترجیح دیں۔ اس فیصلہ کے نتیجہ میں مارکٹ میں کمرشیل سلنڈروں کی سپلائی تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے جس نے ہاسٹل انتظامیہ کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
حیدرآباد کے آئی ٹی کوریڈور میں تقریباً ۱۱؍ہزار ہاسٹلس موجود ہیں جن میں ۱۰؍لاکھ سے زائد آئی ٹی ملازمین اور طلباء مقیم ہیں۔ یہ تمام ہاسٹلس کمرشیل سلنڈروں کا استعمال کرتے ہیں۔ گیس کی قلت کے پیش نظر آئی ٹی کوریڈور ہاسٹلس ایسوسی ایشن نے کھانے کے مینیو میں بڑی کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق گیس کی بچت کے لئے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں۔
اب مینو میں چائے، کافی، ڈوسہ، پوری، بھجی اور چپاتی فراہم نہیں کی جائے گی۔ زیادہ تیل میں بننے والے اور دیر تک پکنے والے پکوانوں کو مینو سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اب صرف دال، چاول، رسم اور سانبھر جیسی اشیاء ہی باقاعدگی سے فراہم کی جائیں گی۔ ہاسٹلس میں طلباء کے لئے خود کھانا پکانے کی سہولت کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔اس فیصلہ سے آئی ٹی سیکٹر کے اہم علاقے بشمول منی کونڈا،رائے درگم، کونڈاپور، گچی باؤلی، مادھاپور، ہائی ٹیک سٹی، درگم چیرووا اور نانک رام گوڑہ کے ہاسٹلس متاثر ہوں گے۔ ایسوسی ایشن نے ہاسٹلس میں رہنے والے ملازمین اور طلباء سے اپیل کی ہے کہ وہ گیس کی سپلائی بحال ہونے تک انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
یہ بھی پڑھئے:ایران کا سخت انتباہ: جنگ بڑھی تو دنیا بھر میں جوابی کارروائی ممکن
حیدرآباد ی بریانی پر گیس کی قلت کا اثر، ہوٹل مالکان پریشان
حیدرآباد میں کمرشیل ایل پی جی گیس کی قلت کا اثر مشہور بریانی کے کاروبار پر بھی پڑنے لگا ہے۔ گیس سلنڈروں کی سپلائی کم ہونے کے باعث بریانی کے ہوٹلوں اور ریستورانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ہوٹل مالکین کے مطابق گزشتہ کچھ دنوں سے کمرشل گیس سلنڈر وقت پر دستیاب نہیں ہو رہے ہیں جس کے سبب کھانا پکانے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ بعض ہوٹلوں کو روزانہ تیار کی جانے والی بریانی کی مقدار کم کرنا پڑ رہی ہے جبکہ کچھ مقامات پر اس کی تیاری محدود کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انڈین ایئر لائن کمپنیوں کی طرف سے ریاض کے لیے پروازیں دوبارہ شروع ہوں گی
عام طور پر ویک اینڈ اور تہواروں کے موقع پر بریانی کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے مگر گیس کی کمی کے باعث اس طلب کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو کاروبار کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاجروں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کمرشیل ایل پی جی کی سپلائی جلد از جلد معمول پر لائی جائے تاکہ ہوٹلوں اور ریستورانوں کا کاروبار متاثر نہ ہو۔