فلم میں امریش پوری کی موجودگی ناظرین کو سنیماہال تک کھینچ لاتی تھی

Updated: January 12, 2021, 11:50 AM IST | Agency | Mumbai

بحیثیت ویلن فلم انڈسٹری میں امریش پوری نے جومقام حاصل کیاوہ ان کی بہترین اداکاری اور سخت محنت کا نتیجہ تھا۔ امریش پوری نے اپنے کریئرکا آغاز اسٹیج سے کیا۔کئی برسوں تک وہ اس سے جڑے رہے۔ اس کے بعد انہیں فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔

Amrish Puri .Picture :INN
امریش پوری۔ تصویر:آئی این این

بحیثیت ویلن فلم انڈسٹری میں امریش پوری نے جومقام حاصل کیاوہ ان کی بہترین اداکاری اور سخت محنت کا نتیجہ تھا۔ امریش پوری نے اپنے کریئرکا آغاز اسٹیج سے کیا۔کئی برسوں تک وہ اس سے جڑے رہے۔ اس کے بعد انہیں فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔آہستہ آہستہ انہوں نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ابتدا میں مختصرسا رول ادا کرنے  والے اس شخص کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ ایک دن شہرت کی بلندیوں کو چھولے گا اور ایک منجھے ہوئے اداکار کی شکل میں اپنی شناخت بنائے گا۔ اسٹیج سے اپنی اداکاری کا سفر شروع کرنے والے امریش پوری نے اپنی ایسی امیج بنائی کہ فلم میں ان کی موجودگی ناظرین کو سنیماہال تک کھینچ لے جاتی تھی۔ بلند آواز، پرکشش شخصیت اور مکالموں کی بہترین انداز میں ادائیگی ‘چہرے کی سختی اور آنکھوں کے خوف کے سبب وہ ایک عرصہ تک بالی ووڈ میں بطور ویلن بے تاج بادشاہ بنے رہے۔انبالہ میں۲۲؍جون۱۹۲۲ءکو پیدا ہوئے امریش پوری کیریکٹر آرٹسٹ چمن پوری اور ویلن مدن پوری کے سب سے چھوٹے بھائی تھے۔کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فلموں کا رخ کیا۔لیکن بطور ہیرو مسترد کر دیئے جانے کے بعد وہ فطری طور پر بہت مایوس ہوئے۔ بادل نخواستہ انہوں نے اپنی معاشی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے وزارت محنت میں ملازمت اختیار کرلی۔لیکن ان کا دل اداکاری کی طرف ہی مائل رہا۔آخر کار انہوں نے ایک دن ملازمت چھوڑدی اور اسٹیج اداکاری کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اسی دوران ان کی ملاقات ستیہ دیو دوبے سے ہوئی۔ اس ملاقات نے امریش پوری کی دنیا ہی بدل دی۔ستیہ دیو دوبے بہترین ہدایت کار تھے۔ انہوں نے امریش پوری کی اداکاری کو دیکھ کر ان کے اندرچھپی ہوئی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ ڈرامہ ’’اندھا یگ‘‘ میں امریش پوری کی اداکاری سے متاثر ہوکر انہوں نے تقریباً ۵۰ ؍ڈراموں میں انہیں کام دیا اور ان کے اندر چھپی ہوئی فنکارانہ صلاحیتوں کواجاگر کیا۔ اپنے زمانے کے مشہور ویلن کے این سنگھ امریش پوری کے آئیڈیل تھے۔انہی سے متاثر ہوکر انہوں نے اپنے آپ کو ویلن کے روپ میں ڈھالا اور وہ اس میں اس قدر کامیاب ہوئے کہ فلم انڈسٹری میں ویلن کو اہم مقام اور رتبہ دیا جانے لگا۔ ڈراموں میں ان کی بہترین اداکاری کو دیکھ کر پہلی مرتبہ سکھ دیو نے فلم ’ریشما اور شیرا‘ میں ایک رول کے لیے سائن کیا۔لیکن کنڑ فلم ’’کاڑو‘‘ سے امریش پوری کو فلمی دنیا میں پہچان ملی اور یہ فلم امریش پوری کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی۔ مشہور آرٹ فلم ساز شیام بینیگل نے جب یہ فلم دیکھی تو وہ ان کی اداکاری کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے اور انہیں اپنی فلم’’ منتھن‘‘ اور’’ نشانت‘‘ میں کاسٹ کیا۔پھر تو ان کی کامیابی کا سفر شروع ہوگیا۔شیام بینیگل ان کی طلسماتی اداکاری سے بے حدمتاثر ہوئے اور انہوں نے اپنی ہر فلم میں امریش پوری کے لیے ایک رول مخصوص کیا۔وجیتا،کلیگ، سورج کا ساتواں گھوڑا میں امریش پوری آرٹ فلموں کے ایک مضبوط اور کامیاب اداکار کے طورپر ابھرے۔اب امریش پوری ہدایت کار اورناظرین دونوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔جس فلم میں بھی انہیں اداکاری کا موقع ملا‘ اس میں انہوں نے اپنی ان مٹ چھاپ چھوڑی۔ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ناظرین ہیرو کے مقابلے انہیں زیادہ اہمیت دینے لگے۔ انہیں تقریباً ہر فلم میں امریش پوری کودیکھنے کی عادت سی پڑگئی تھی۔
 فیروز خان کی فلم ’قربانی‘ سے ان کا فلمی سفر آرٹ سے کمرشیل فلموں کی جانب بڑھا اور ان کی شہرت اس وقت بلندیوں کو چھونے لگی جب انہوں نے فلم ’’مسٹر انڈیا‘‘میں مگیمبوکا مشکل ترین کردار اس قدر جادوئی انداز میں نبھایا کہ لوگ انگشت بدنداں رہ گئے اور ہرخاص و عام کی زبان پر اس فلم کا ڈائیلاگ مگیمبو خوش ہوا عام ہوگیا۔خود امریش پوری نے ’’مسٹر انڈیا‘‘کے بارے میں کہا تھا کہ یہ فلم میرے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس فلم نے میرے لیے کمرشیل فلموں کے دروازے کھول دیئے۔حالاں کہ میں نے اس سے قبل بھی ایک سے بڑھ کر ایک کردار نبھائے لیکن مگیمبو حقیقی معنوں میں چھایا رہا۔ ویلن کے کردار میں وہ بہت مقبول ہوئے اور شہرت ان کے قدم چومنے لگی ۔یہاں تک کہ وہ ایک فلم کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے تک معاوضہ لیتے تھے۔انہوں نے ایمان دھرم،آکروش ،غدر،دامنی،دیو،جانی دشمن، دوستانہ،کلیگ، شکتی،دھرم ستیہ ، گاندھی،مسٹر انڈیا، شہنشاہ، وراثت، تری دیو، عجوبہ،سوداگر،مجھے کچھ کہنا ہے،دل والے دلہنیا لے جائیں گے،چائنا گیٹ،گردش،پردیس،چاچی۴۲۰،لال بادشاہ،کوئلہ ،رام لکھن،گھائل، آج کا ارجن،میری جنگ، کرن ارجن،جھوٹ بولے کوا کاٹے،تال،ہلچل سمیت تقریباً دو سوفلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ پردے پر برائیوں کی ساری حدود توڑنے والا نیز غریبوں اور مظلوموں پرظلم کے پہاڑ توڑنے والا یہ شخص اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی نیک انسان تھا۔اکثروہ سماجی سرگرمیوں میں متحرک رہتے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلم انڈسٹری سے جڑے لوگوں کی شادی کی خوشی ہو یا موت کا غم امریش پوری شریک ہونے والوں میں پہلے شخص ہوتے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ زیادہ ترفلموں میں انہوں نے منفی رول ادا کئے۔ ۱۲؍جنوری ۲۰۰۵ء کو جب ان کا جسد خاکی جوہوکے وردان بنگلہ میں رکھا ہوا تھا تو پاس ہی نصیرالدین شاہ اور اوم پوری جیسے بڑے اداکار اس طرح کھڑے تھے جیسے وہ یتیم ہوگئے ہوں۔ یقیناً امریش پوری کا اس دارفانی سے کوچ کرجانافلم انڈسٹری کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK