شاعری کی بے پناہ کامیابی سےحوصلہ پاکرشکیل بدایونی نے ملازمت چھوڑ دی تھی

Updated: August 03, 2020, 7:21 AM IST | Agency | Mumbai

مشہور شاعر اور نغمہ نگار شکیل بدایونی کا اپنی زندگی کے تئیں نظریہ ان کے اس شعر میں پنہاں ہے۔

Shakeel Badayuni - Pic : INN
شیل بدایونی ۔ تصویر : آئی این این

مشہور شاعر اور نغمہ نگار شکیل بدایونی کا اپنی زندگی کے تئیں نظریہ ان کے اس شعر میں پنہاں ہے۔
`میں شکیل دل کا ہوں ترجماں کہ محبتوں کا ہوں رازداں
مجھے فخر ہے مری شاعری مری زندگی سے جدا نہیں `
 اتر پردیش کے بدایوں قصبے میں۳؍ اگست۱۹۱۶ء کو پیدا ہوئے۔ شکیل احمد عرف شکیل بدایونی بی اے کرنے کے بعد ۱۹۴۲ء میں دہلی پہنچے اور سپلائی محکمہ میں ملازمت کرلی۔ اس دوران وہ مشاعروں میں بھی حصہ لیتے رہے جس سے انہیں پورے ملک میں شہرت حاصل ہوئی۔
 اپنی شاعری کی بے پناہ کامیابی سے حوصلہ پاکر شکیل بدایونی نے سپلائی افسر کی ملازمت چھوڑ دی اور۱۹۴۶ء میں دہلی سے ممبئی آ گئے۔ ممبئی میں ان کی ملاقات اس وقت کے مشہور فلمساز اے آر کاردار اور عظیم موسیقار نوشاد سے ہوئی۔ نوشاد کے کہنے پر شکیل نے ’’ ہم دل کا افسانہ دنیا کو سنا دیں گے، ہر دل میں محبت کی آگ لگا دیں گے ‘‘ گیت لکھا۔ یہ گیت نوشاد کو کافی پسند آیا جس کے بعد انہیں فوراً کاردار صاحب کی `فلم ’درد‘  کیلئے سائن کر لیا گیا۔ ۱۹۴۷ء میں اپنی پہلی ہی فلم `’درد ‘ کے گیت ’ افسانہ لکھ رہی ہوں ۔۔۔‘‘ کی بے پناہ کامیابی سے شکیل بدایونی کامیابی کی چوٹی پر جا بیٹھے۔
 شکیل بدایونی نے نوشاد، روی، ہیمنت کمار، ایس ڈی برمن اور سی رام چندر جیسے ممتاز موسیقاروں کی دھُنوں پر ۲۵۰؍ سے زائد گیت لکھے۔ ان کے گیتوں کو محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، مکیش، شمشاد بیگم، ثریا، مہندر کپور، طلعت محمود، روی شنکر شرما، گیتا دت اور ہردئے ناتھ منگیشکر جیسے صفِ اول کے گلوکاروں نے اپنی آواز میں پیش کیا۔ دلاری (۱۹۴۹ء)، دیدار (۱۹۵۱ء)، مدر انڈیا (۱۹۵۷ء)، چودہویں کا چاند (۱۹۶۰ء)، مغلِ اعظم (۱۹۶۰ء)، گنگا جمنا (۱۹۶۱ء)، صاحب بی بی اور غلام ( ۱۹۶۲ء)، میرے محبوب (۱۹۶۳ء) دو بدن (۱۹۶۶ء) جیسی سپر ہٹ فلموں میں شکیل بدایونی کے نغموں نے دھوم مچا دی تھی۔  
 فلمی گیتوں کے علاوہ شاعری کے پانچ مجموعے غمہ فردوس، صنم و حرم، رعنائیاں، رنگینیاں، شبستاں کے نام سے شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کی کلیات بھی ان کی زندگی میں ہی شائع ہو گئی تھی تاہم ۱۹۶۹ء میں لکھی گئی سوانح عمری ۲۰۱۴ء  میں شائع ہوئی۔ ۲۰؍ اپریل  ۱۹۷۱ء کو ممبئی میں انتقال ہوا 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK