منا ڈے کے والد اُنہیں وکیل بنانا چاہتے تھے لیکن اُن کی دلچسپی موسیقی میں تھی

Updated: May 01, 2021, 1:56 PM IST | Agency | Mumbai

ہندوستانی سنیما کی دنیا میں منا ڈے کو ایک ایسے گلوکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی لاجواب گلوکاری کے ذریعے کلاسیکی موسیقی کو مخصوص شناخت دلائی۔

Manna Dey .Picture:INN
منا ڈے۔تصویر :آئی این این

ہندوستانی سنیما کی دنیا میں منا ڈے کو ایک ایسے گلوکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی لاجواب گلوکاری کے ذریعے کلاسیکی موسیقی کو مخصوص شناخت دلائی۔ پربودھ چندر ڈے عرف منا ڈے کی پیدائش یکم مئی ۱۹۱۹ء کو کولکاتا میں ہوئی تھی۔ ان کے والد  انہیں وکیل بنانے کے خواہش مند تھے لیکن ان کا رجحان موسیقی کی جانب  تھا اور وہ اسی میدان میں اپنا مستقبل بنانا چاہتے تھے۔منا ڈے نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے چچا كاے سی  ڈے سے حاصل کی۔ منا ڈے۴۰ء کی دہائی میں اپنے چچا کے ساتھ موسیقی کے میدان میں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے ممبئی آ گئے۔۱۹۴۳ء میں فلم ’تمنا‘ میں بطور گلوکار انہیں ثریا کے ساتھ گانے کا موقع ملا۔حالانکہ اس سے پہلے وہ فلم رام راج میں کورس کے طور پر گانا گاچکے تھے۔دلچسپ بات یہ ہےکہ یہی ایک واحد فلم تھی جسے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے دیکھا تھا۔
 سال ۱۹۵۰  میں موسیقار ایس ڈی برمن کی فلم مشعل میں منا ڈے کو’اوپر گگن وشال‘ نغمہ گانے کا موقع ملا جس کی کامیابی کے بعد بطور گلوکار وہ اپنی شناخت قائم کرنےمیں کامیاب ہو گئے۔ انہیں اپنے کریئر کے ابتدائی  دور میں زیادہ شہرت نہیں ملی۔ اس کی اہم وجہ یہ رہی کہ ان کی پختہ آواز کسی گلوکار پر فٹ نہیں بیٹھتی تھی، یہی وجہ ہے کہ ایک زمانے میں وہ کامیڈین محمود اور کریکٹر ایکٹر پران کے لئے نغمہ گانے کیلئے  مجبور تھے اور اس وقت بھی انہوں نے ہار نہیں مانی ۔
 ۱۹۶۱ءمیں موسیقارسلیل چودھری کی موسیقی میں فلم’ کابلی والا‘کی کامیابی کے بعد مناڈے  شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچے۔ اس فلم میں ان کی آواز میں پریم دھون کا لکھا ہوا نغمہ پر’اے میرے پیارے وطن اے میرے بچھڑے چمن‘ آج بھی سامعین کی آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔
 اداکارپران کے لئے انہوں نے فلم اپکار میں’قسمیں وعدے پیار وفا‘ اور زنجیر میں’یاری ہے ایمان میرا یار میری زندگی‘جیسے نغمے گائے۔ اسی دور میں انہوں نے فلم پڑوسن میں مزاحیہ اداکار محمود کے لئے’ایک چتر نار‘ نغمہ گایا  تو انہیں محمود کی آواز سمجھا جانے لگا۔
 معروف گلوکار مناڈ ے کے بارے میں لوگوں کا خیال  تھا کہ وہ صرف کلاسیکل نغمے ہی گاسکتے ہیں لیکن بعد میں انہوں نے ’اے میرے پیارے وطن‘،’ اے میری زہرہ جبیں‘،’یہ رات بھیگی بھیگی‘،’ نہ تو کارواں کی تلاش ہے‘ اور’اے بھائی ذرا دیکھ کے چلو‘جیسے بہترین نغمے گا کر ناقدین کا منہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا۔
 مشہور موسیقار انل وشواس نے ایک بار کہا تھا کہ مناڈے  ہر وہ گانا گا سکتے ہیںجو محمد رفیع، کشور کمار یا مکیش نے گایا ہے لیکن ان میں کوئی بھی مناڈے کا ہر گانا نہیں گا سکتا ۔ اسی طرح آواز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد رفیع نے ایک بار کہا تھا’’ آپ لوگ میرے گانے سنتے ہیں لیکن اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں کہوں گا کہ میں منا ڈے کے گانے ہی سنتا ہوں۔‘‘
 مناڈے اپنی گلوکاری سے الفاظ کے پیچھے چھپے تاثرات کو  بڑی خوبصورتی سے سامنے لاتے تھے شاید یہی وجہ ہے کہ ہندی کے مشہور شاعر ہری ونش رائے بچن نے اپنی غیر معمولی  شاہکار’مدھو شالا ‘کو آواز دینے کے لئے منا ڈے کا انتخاب کیا تھا۔
 فلموں میں قابل ذکر خدمات کے لئے انہیں۱۹۷۱ء میں پدم شری  ایوارڈ اور۲۰۰۵ء میں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گيا۔ علاوہ ازیں ۱۹۶۹ء میں فلم ’میرے حضور‘ اور۱۹۷۱ء میں بنگلہ فلم ’نشی پدما‘  كکیلئے بہترین گلوکار  اور۱۹۷۰ء میں آئی فلم ’میرا نام جوکر‘  کے لئے بہترین گلوکار کے فلم فیئر  ایوارڈ سے بھی  نوازےگئے۔ فلموں میں موسیقی کے سفر میں  ان کی قابل ذکر شراکت کے پیش نظر انہیں  ۲۰۰۷ء میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا۔  اپنے۵؍ دہائی کے طویل کریئر میں تقریباً ۳۵۰۰؍ نغمے      گاکر   شائقین کے دلوں  میں خاص جگہ بنانے والے منا ڈے۲۴؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK