مینا کماری کے فلمی کریئر کا آغازچار سال کی عمر ہی سے ہوگیا تھا

Updated: March 22, 2020, 11:27 AM IST | Anees Amrohi

ان کے والدعلی بخش بڑی تنگی میں گزر بسر کر رہے تھے۔انہی دنوں پرکاش پکچرس کی فلم ’لیدر فیس‘ (۱۹۳۹ء) وجے بھٹ کی ہدایت میں بن رہی تھی جس میںانہیں ایک چھوٹی بچی کی ضرورت تھی۔ ایک دوست کے مشورے پر علی بخش، مہ جبین یعنی مینا کماری کو لے کر وجے بھٹ سے ملے۔ اُس وقت مہ جبین کی عمر چار سال تھی۔ وجے بھٹ نے مہ جبین کو بے بی مینا کا نام دے کر اس فلم کیلئے پسند کر لیا

Meena Kumari - Pic : INN
مینا کماری ۔ تصویر : آئی این این

 بالکل اسی قسم کا ایک افسانہ یکم اگست ۱۹۳۲ء کو پریل، ممبئی کے ایک سرکاری اسپتال میں شروع ہوا۔ درمیان میں بہت سے کلائمکس آنے کے بعد اس افسانے کا آخری باب بھی ممبئی ہی کے ایک اسپتال میں انجام پایا۔ اس آخری باب کا آخری منظر ختم ہوا رحمت آباد، ممبئی کے  قبرستان میں۔ یہ افسانہ شروع ہوا مہ جبین کے نام سے اور درمیان میں یہ نام تبدیل ہوتے رہے۔ ہر کلائمکس میں ایک نیا نام.... اور یہ نام تھے بے بی مینا، مینا کماری، نازؔ، منجو، وغیرہ۔ اس افسانے کا اختتام ایک بہت ہی خوبصورت، پاک اور پوتر نام پر ہوا.... یعنی ’پاکیزہ‘ پر۔
 مہ جبیں کے والد ماسٹر علی بخش اپنے وقت کے مانے ہوئے ہارمونیم استاد اور موسیقار تھے۔ان کی بیوی اقبال بیگم ایک رقاصہ تھیں۔ اقبال بیگم نے ۱۹۳۲ء میں ممبئی کے اسپتال میں مہ جبین کو جنم دیا۔ مہ جبین جب پیٹ میں تھی ، تو اقبال بیگم کو مکمل یقین تھا کہ اس بار لڑکا ہی ہوگا۔ اس سے قبل اقبال بیگم ایک لڑکی خورشید کو جنم دے چکی تھیں لیکن جب  مہ جبین کی پیدائش ہوئی تو انہیں بڑی مایوسی ہوئی۔ یہی وجہ تھی کہ ماں نے کبھی مہ جبین کو بھرپور پیار نہیں دیا۔ حالانکہ مہ جبین کے بعد اقبال بیگم نے پھر ایک لڑکی مدھو کو جنم دیا۔
 یہیں سے مہ جبین میں پیار کی پیاس پنپتی رہی۔ بچپن ہی میں  اُس کی توجہ پھولوں اور پودوں کی طرف مبذول ہو گئی اور اس کا زیادہ وقت اپنے باندرہ کے مکان ’اقبال منزل‘ کے آگے ایک چھوٹے سے باغیچے میں پھولوں اور کیاریوں کی دیکھ بھال کرنے اور کھیلنے کودنے میں گزرنے لگا۔ والد علی بخش کویہ بات ناگوار گزری اور ایک دن انہوں نے مہ جبین پر پابندی لگا دی۔ مہ جبین کو اس بات پر بہت غصہ آیا اور اس نے چڑکر اپنے سامنے والے مکان پر پتھر پھینکنے شروع کر دئیے۔ پڑوسی نے علی بخش سے شکایت کی اور مہ جبین کو سخت سزا دینے کی مانگ کی۔ مہ جبین کے یہ پڑوسی فلموں کے موسیقار اعظم نوشاد علی تھے۔
 اُن دنوں علی بخش بڑی تنگی میں گزر بسر کر رہے تھے۔ پرکاش پکچرس کی فلم ’لیدر فیس‘ (۱۹۳۹ء) وجے بھٹ کی ہدایت میں بن رہی تھی۔ وجے بھٹ کو ایک چھوٹی بچی کی ضرورت تھی۔ ایک دوست کے مشورے پر علی بخش، مہ جبین کو لے کر وجے بھٹ سے ملے۔ اُس وقت مہ جبین کی عمر چار سال تھی۔ وجے بھٹ نے مہ جبین کو بے بی مینا  کا نام دے کر اس فلم کیلئے پسند کر لیا۔
 مہ جبین کو بچپن  ہی سے محرومیوں اور مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ فلم ’لیدر فیس‘ کے پہلے ہی شاٹ میں بے بی مینا نے کیمرے کے سامنے بڑی آسانی سے قدرتی انداز میں شاٹ دیا۔ وجے بھٹ نے خوش ہوکر بے بی مینا کو انعام میں ۲۵؍ روپے دئیے۔ اتنے روپے انعام میں پاکر علی بخش خوشی خوشی بچی مینا کو گود میں اُٹھائے گھر پہنچے۔ بچی نے سوچا کہ آج ماں سے بھی پیار ملے گا، لیکن جیسے ہی بچی کو باپ کی گود میں دیکھا، ماں اقبال بیگم نے غصے سے کہا ’’نیچے اُتر کمبخت! اتنی بڑی ہو گئی اور گود میں چڑھی ہوئی ہے۔‘‘ بچی کی خوشی کا پھول کمھلا گیا۔ یہ ایک بہت بڑا کلائمکس تھا مہ جبین کی زندگی کے افسانے کا۔
 ’لیدر فیس‘ کے بعد ۱۹۴۰ء میں ’ایک ہی بھول‘، ۱۹۴۱ء میں ’بہن، کسوٹی، نئی روشنی‘، ۱۹۴۲ء میں ’غریب‘،۱۹۴۳ء میں ’پرتگیہ‘ اور ۱۹۴۴ء میں ’لال حویلی‘ جیسی فلموں میں بے بی مینا نے بطور چائلڈ آرٹسٹ کافی مقبولیت حاصل کر لی۔ بے بی مینا نے بچپن کی دہلیز چھوڑکر جب جوانی کے میدانِ کارزار میں قدم رکھا تو ہیروئن کے روپ میں جاگیردار اور الطاف کے ساتھ اُس کی ایک فلم شروع ہوئی ’داداجی‘ مگر ایک حادثے میں اُس فلم کے تمام نگیٹِو جل کر خاک ہو گئے اور اس طرح اس کی بطور ہیروئن پہلی فلم پردے کی زینت بننے سے محروم رہ گئی۔ اس سے قبل ’بچوں کا کھیل‘ (۱۹۴۶ء)، ’پیا گھر آجا‘ (۱۹۴۷ء)، ’شری گنیش مہیما‘(۱۹۵۰)، ’ہنومان پاتال وجئے‘ (۱۹۵۱ء)،’لکشمی نارائن‘ (۱۹۵۱ء) اور’الٰہ دین اینڈ دی ونڈر فل لیمپ‘ (۱۹۵۲ء) میں بھی وہ کام کر چکی تھی۔ فلم’بچوں کا کھیل‘ کے ہیرو تھے مشہور مزاحیہ اداکار آغا اور بے بی مینا اب میناکماری کے نام سے پہچانی جانے لگی تھی۔ ۱۹۵۲ء میں ہی میناکماری فلم ’مدہوش‘ میں پہلی بار ہیروئن بن کر پردۂ سمیں پر جلوہ گر ہوئی۔ موہن دیسائی اس فلم کے ہیرو تھے اور جے بی ایچ واڈیا کی ہدایت میں یہ فلم تیار ہوئی تھی۔ فلم ’مدہوش‘ کے فوراً بعد ہی مینا کماری کی فلم’بیجو باورا‘ (۱۹۵۲ء) نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ اس فلم کے ہدایتکار ’لیدر فیس‘ والے وجے بھٹ ہی تھے اور ہیرو بھارت بھوشن تھے۔ یہ فلم میناکماری کیلئے میل کا پتھر ثابت ہوئی کیونکہ اس سے قبل وہ کاسٹیوم ڈراموں اورمذہبی قسم کی فلموں میں ہی کام کرتی رہی تھی۔ فلم ’بیجو باورا‘ نے میناکماری کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں آگئی تھیں۔ ۱۹۵۴ء میں جب فلم فیئر ایوارڈ قائم کئے گئے تو اسی فلم ’بیجو باورا‘ کیلئے میناکماری کو بہترین اداکاری کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کے موسیقار بھی وہی نوشاد علی تھے جن کے گھر پر بچپن میں میناکماری نے پتھر برسائے تھے۔میناکماری کبھی اسکول نہیں گئی تھی مگر اس کو اُردو، ہندی اور انگریزی کی خاصی معلومات تھی۔ اُسے مطالعہ کا بڑا شوق تھا اور خود شاعری بھی کرتی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مشہور کہانی کار، مکالمہ نگار کمال امروہوی سے میناکماری متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اُن دنوں کمال امروہی کی ہدایت میں بنی فلم’محل‘ کامیاب ہو چکی تھی۔
 کمال امروہی بذات خود اچھے ادیب اور شاعر تھے اور میناکماری بھی شاعری کی دیوانی تھی لیکن یہ ضروری نہیں کہ میناکماری کمال امروہی کی شاعری سے متاثر ہوکر ان کی طرف راغب ہوئی ہو۔ جیسا کہ اکثر لوگ کہتے ہیں۔ ’محل‘ کی بے پناہ کامیابی کے بعد اشوک کمار اور کمال امروہی میں بڑی قریبی دوستی ہو گئی تھی اور انہوں نے ’فلم کار‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کر لیا تھا۔ اس ادارے کی پہلی فلم ’انارکلی‘ کی کہانی اور اسکرین پلے کمال امروہی تحریر کر رہے تھے۔ ’انارکلی‘ کے مرکزی کردار کیلئے میناکماری کو کہانی سنانے اور اُس کا کردار سمجھانےکیلئے کمال امروہی دوسری بار اُس کے گھر گئے تھے۔ پہلی بار کمال امروہی سہراب مودی کے کہنے پر اُس کے گھر تب گئے تھے، جب وہ سات یا آٹھ برس کی بچی تھی اور فلم ’جیلر‘ میں ایک چائلڈ رول کیلئے اس کا انتخاب کرنا  تھا۔ بقول کمال امروہی.....
 ’’میناکماری اُس وقت دادر میں اپنے والد کے مکان کے آگے بنے ہوئے چھوٹے سے باغیچے میں کھیل رہی تھی۔ ماسٹر علی بخش نے جب بے بی مینا کو آواز دی تو وہ کیلا کھاتے ہوئے ایسے ہی میرے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تھی۔ اس کے پیر مٹی سے گندے ہو رہے تھے اور منہ پر کیلا کھانے کے نشان لگے ہوئے تھے۔ بعد میں ماسٹر علی بخش کے کہنے پر وہ گھر کے اندر گئی اور چہرہ وغیرہ صاف کرکے آئی۔ اس وقت سات آٹھ برس کی مینا کو دیکھ کر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آنے والے وقت کی یہ ایک کامیاب ترین اداکارہ بنے گی۔ حالانکہ’جیلر‘ میں بے بی مینا کو نہیں لیا گیا مگر میں جب بھی ڈبل ڈیکر بس کی اوپری منزل پر بیٹھ کر ملاڈ سے دادر ہوتا ہوا گزرتا تھا، تو میری آنکھیں خود بخود اُس مکان کی پہلی منزل کی طرف اُٹھ جاتی تھیں جہاں مینا رہتی تھی۔‘‘
 فلم’انارکلی‘کی  تیاریاں زور شور سے شروع ہو چکی تھیں۔ ایک دن میناکماری کسی فلم کی شوٹنگ سے فارغ ہوکر پونا سے بمبئی واپس آرہی تھیں کہ راستے میں کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ میناکماری اس حادثے میں زخمی ہو گئیں تو ان کو پونا کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اُن کا بایاں ہاتھ بُری طرح کچل گیا تھا۔ اسلئے ڈاکٹروں نے ان کے بائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی اُنگلی کاٹ دی۔ ابھی میناکماری اسپتال ہی میں تھیں کہ ایک دن کمال امروہی دل میں ’انارکلی‘ کا خواب، ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ اور میناکماری کی زندگی کا سب سے بڑا کلائمکس لئے اُن کے کمرے میں داخل ہوئے۔ اُن کی خیریت پوچھی اور ڈھارس بندھائی۔ میناکماری اُس وقت تک کئی اِسٹنٹ فلموں میں کام کر چکی تھیں لہٰذا اس حادثے کی وجہ سے وہ بہت مایوس ہو چکی تھیں۔ ایسے میں ایک بہترین اداکارہ بننے کا خواب کمال امروہی اُن کی آنکھوں میں بسا چکے تھے۔  ان کی تسلی سے پہلی بار میناکماری  کا حوصلہ بحال ہوا۔ کمال امروہی برابر وہاں جاتے رہے اور گھنٹوں مینا کے سرہانے بیٹھے رہتے۔ یہیں سے میناکماری اور کمال امروہی ایک دوسرے کے قریب آئے۔ 
 میناکماری کے حادثے کی خبر جب ممبئی پہنچی تو ان فلمسازوں نے دوسری اداکارائیں تلاش کرنی شروع کر دیں جن کی فلموں میں  وہ کام کر رہی تھیں۔ ان کی مقبولیت کا دور ابھی شروع نہیں ہوا تھا، ’بیجو باورا‘ اور ’پرنیتا‘ ابھی ریلیز نہیں ہوئی تھیں۔ ایسے حالات میں کمال امروہوی نے جس ’انارکلی‘ کیلئے انہیں سائن کرایا تھا، اس کے بھی ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ سامنے تھا۔ میناکماری بہت گھبرائی ہوئی اور ذہنی طور پر بہت پریشان تھیں۔ وہ اپنے مستقبل سے مایوس اور سہمی ہوئی تھیں۔
 ایسے وقت میں کمال امروہی نے انہیں حوصلہ دیا اور اسپتال کے بستر پر پڑی ہوئی مایوس میناکماری کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔ جیب سے ایک کامیاب ادیب نے قلم نکالا اور میناکماری کی ہتھیلی پر لکھا ’’تم ہی میری انارکلی ہو‘‘ اس جملے کے نیچے کمال امروہی نے اپنے دستخط کر دئیے۔اس جملے نے میناکماری کے دل میں کمال امروہی کیلئے اپنے پن کو جنم دیا۔میناکماری اور کمال امروہی میں جب قربت زیادہ بڑھی تو  مینا کماری کے والد کو اعتراض ہوا اور انہوںنے اس کی سخت مخالفت کی۔ ان کو اندیشہ تھا کہ ان کی سونے کی یہ چڑیااُڑ جائے گی۔ پھر بھی ۱۵؍ فروری ۱۹۵۲ء کو میناکماری نے کمال امروہی سے شادی کر لی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کمال امروہی کی پہلی بیوی آل زہرا محمودی اور تین بچے اُن کے آبائی وطن امروہہ میں موجود ہیں۔میناکماری نے شادی کی بات کو راز میں رکھا تھا اور اپنے والد ہی کے گھر میں رہنے لگیں۔ اس شادی کے بعد ۱۹۵۲ء میں ہی میناکماری کی فلم ’بیجو باورا‘ ریلیز ہوئی اور وہ اچانک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ اس فلم کی کامیابی کے ساتھ ہی میناکماری کو یہ احساس ہوا کہ اس نے شادی کرنے میں جلدبازی سے کام لیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK