موتی لال کو فطری اداکار اور ہندی سنیما کا پہلا سپر اسٹار قرار دیا جاتا ہے

Updated: November 22, 2020, 5:36 AM IST | Anees Amrohi

انہوںنے ایک شاہانہ زندگی گزاری اور اپنی مقبولیت کو برقرار رکھتے ہوئے فلمی دنیا میں اسٹارڈم قائم کیا۔ انہوںنے اسٹوڈیو کی ملازمت والی روایت کی زنجیروں کو توڑکر اداکاروں کو ’آزاد‘ کرایا اور انہیں آزادانہ زندگی گزارنے کا حق بھی دلوایا۔ اس دور میں جب امیروں کے پاس کاریں ہوا کرتی تھیں ، موتی لال ہوائی جہاز اُڑایا کرتے تھے

Actor Motilal
اداکار موتی لال

آج ہم ہندوستانی سنیما کے پہلے سُپراسٹار کے بطور اداکار راجیش کھنہ کا نام لیتے ہیں، اُس کے بعد سپراسٹار امیتابھ بچن کو جانتے ہیں جبکہ سچائی یہ ہے کہ راجیش کھنہ  سے پہلے بلیک اینڈ وہائٹ کے زمانے میں موتی لال پہلے سپراسٹار تھے۔ ان کا جلوہ ہی الگ  تھا۔ اس دور میں جب امیروں کے پاس کاریں ہوا کرتی تھی ،موتی لال ہوائی جہاز اُڑایا کرتے تھے۔
 جن لوگوں نے۱۹۵۶ء میں ریلیز  راج کپور کی فلم ’جاگتے رہو‘ دیکھی ہے، وہ اس فلم کے ایک گانے پر لڑکھڑاتے ہوئے اداکار موتی لال کو کبھی نہیں بھول پاتے۔موتی لال راج ونش۴؍دسمبر۱۹۱۰ء میں شملہ کے ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد ایک جانے مانے ماہر تعلیم تھے۔  یہ صرف ایک سال ہی کے تھے کہ اُن کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی پرورش اُن کے چچا نے کی جو اُتر پردیش  میں  ایک مشہور سول سرجن تھے۔انہیں پہلے شملہ ہی کے ایک انگریزی میڈیم اسکول میں داخل کرایا گیا۔ اس کے بعد اُتر پردیش اور پھر وہ دہلی میں منتقل ہو گئے جہاں انہوںنے اسکول سے لے کر کالج تک کی تعلیم حاصل کی۔
 کالج کی تعلیم سے فارغ ہوکر موتی لال نیوی میں ملازمت کی غرض سے بمبئی آگئے تھے مگر یہاں آکر وہ بیمار ہو گئے اور نیوی کے امتحان میں نہیں بیٹھ سکے۔شاید ان کی قسمت میں نیوی نہیں تھا۔ایک دن وہ اپنے دوست اور اداکار ہریش کے ساتھ ساگر اسٹوڈیو میں فلم کی شوٹنگ دیکھنے گئے۔ وہاں ہدایت کار کے پی گھوش نے شہری طرز کے اِس نوجوان کو دیکھا۔ انہوںنے چوبیس برس کے موتی لال کو فلم میں اداکاری کرنے اور ہیرو کا رول ادا کرنے کا موقع دیا۔۱۹۳۴ء میں ریلیز اس فلم کا نام تھا ’شہر کا جادو‘ اور ہیروئن تھیں سبیتا دیوی۔
 فلم کے ہٹ ہوتے ہی ساگر فلم کمپنی نے دوبارہ موتی لال اور سبیتا دیوی کی اِس جوڑی کو سی ایم  لوہار کی ہدایت میں بنی فلم ’سلور کنگ‘ میں دُہرایا۔ اس فلم کے دیگر فنکاروں میں یعقوب، تارا بائی اور پانڈے تھے۔ ان دونوں فلموں میں  اس جوڑی کو اس قدر پسند کیا گیا کہ ساگر فلم کمپنی نے اپنی اگلی چار فلموںڈاکٹر مدھولیکا، جیون لتا، لگن بندھن اور تھری ہنڈریڈ ڈیز اینڈ آفٹر میں بھی انہی دونوں کو پیش کیا۔
  اس کے بعد موتی لال رنجیت اسٹوڈیو چلے گئے۔ انہوں نے ہدایت کار محبوب خان کے ساتھ بھی کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔۱۹۳۷ء میں ’جاگیردار‘،۱۹۳۸ءمیں ’ہم، تم اور وہ‘،۱۹۴۳ء میں’تقدیر‘ اور۱۹۴۲ء میں کیدار شرما کی فلم ’ارمان اور۱۹۴۴ء میں فلم ’کلیان‘ میں کام کرکے  انہوں نے کافی شہرت حاصل کی۔سبیتا دیوی کے ساتھ کئی فلمیں لگاتار کامیاب ہونے کی وجہ سے موتی لال اور سبیتا دیوی کے معاشقے کی افواہیں اڑنے لگیں۔ موتی لال نے اِن افواہوںپر قابو پانے کیلئے دہلی کی ایک لیڈی ڈاکٹر سے شادی کر لی۔ اُن کی شادی میں اُس زمانے کی کئی اہم شخصیات نے شرکت کی تھی، جن میں سب سے نمایاں نام سروجنی نائیڈو کا لیا جا سکتا ہے۔
 موتی لال  ایک ایسے فطری اداکار تھے جنہوںنے اپنی اداکارانہ صلاحیتوں سے کئی بہترین کرداروں کو زندگی بخشی۔ اُن کی چمکدار آنکھیں اور ہونٹوں پر ایک مخصوص قسم کی مسکراہٹ اُن کی پہچان بن گئی تھی۔ موتی لال کی ایک فلم ’مستانہ‘ تھی جس میں انہوںنے چارلی چیپلن کی ’دی کِڈ‘ والا کردار ادا کیا تھا۔ کئی ناقدینِ فلم کا خیال ہے کہ دُکھی دل کے ساتھ مسکرانا مشہور فلمساز و ہدایتکار اور اداکار راج کپور نے موتی لال  ہی سے سیکھا تھا۔موتی لال ہندوستانی سنیما کے پہلے سُپر اسٹار تھے۔ انہوںنے ایک شاہانہ زندگی گزاری اور اپنی مقبولیت کو برقرار رکھتے ہوئے فلمی دنیا میں اسٹارڈم قائم کیا۔ انہوںنے اسٹوڈیو کی ملازمت والی روایت کی زنجیروں کو توڑکر اداکاروں کو آزاد کرایا  اور انہیں آزادانہ زندگی گزارنے کا حق بھی دلوایا۔
 موتی لال کا فیلٹ ہیٹ پہننا اُس زمانے میں اُن کی پہچان بن گئی تھی۔ وہ کیمرے کے پیچھے نجی زندگی میں بھی فیلٹ ہیٹ پہن کر گھوما کرتے تھے۔فلم ’دیوداس، اناڑی، لیڈر اورمسٹر سمپت‘ میں اُن کا فیلٹ ہیٹ پہننے کا انداز اتنا پسند کیا گیا کہ فلم’دو دیوانے‘ میں اُن کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کرنے والی شوبھنا سمرتھ اُن پر ایسی فدا ہوئیں کہ زندگی بھر کی دوست بن گئیں۔۱۹۶۵ء میں پیش کی گئی بمل رائے کی فلم ’دیوداس‘ کے اُس شرابی کردار چُنّی لال کو کون بھول سکتا ہے؟ حالانکہ اس فلم کے مرکزی کردار میں دلیپ کمار موجود تھے مگر موتی لال نے اپنے مکالموںکی ادائیگی اور اپنی فطری اداکاری سے اپنے لئے اس فلم میں وہی مقام بنا لیا جو ہیرو کے طور پر دلیپ کمار نے حاصل کیا تھا۔اس فلم کی کامیابی میں جہاں ساحرؔ لدھیانوی کے نغموں، بمل رائے کی ہدایت، ایس ڈی برمن کی موسیقی، شرت چندر کی کہانی اور دلیپ کمار کی بے مثال اداکاری کا دخل تھا، وہیں موتی لال کی موجودگی بھی فلم کی شہرت میں اضافے کا سبب بنی تھی۔’دیوداس‘ میں معاون اداکار کے طورپر موتی لال کو اس سال کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔۱۹۶۱ء میں موتی لال کو فلم ’پرکھ‘ میں بہترین معاون اداکار کیلئے دوسری بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے اپنے زمانے کی تقریباً سبھی بڑی، مشہور اور مقبول اداکارائوں کے ساتھ کام کیا۔ سبیتا دیوی، گوہر بائی، مایا بنرجی، روزی، مادھوری، خورشید، وینا، منور سلطانہ، شمیم، وَن مالا، نرگس، نسیم بانو، ثریا، انجلی، نورجہاں، گیتا نظامی، ممتاز شانتی ، سنیہہ پربھا پردھان، مینا کماری، مدھوبالا اور مینا شوری وغیرہ نے موتی لال کے ساتھ ہیروئن کے کردار ادا کئے تھے۔
 ۱۹۴۳ء میں بمبئی ٹاکیز کی فلم’تقدیر‘ میں موتی لال ہیرو تھے اور ہیروئن تھیں نرگس۔ اس فلم کی ہدایت نجم نقوی امروہوی نے کی تھی اور نغمہ نگار مہر انصاری کے گیتوں کی دُھن موسیقار رفیق غزنوی نے ترتیب دی تھی۔ اس فلم کا یہ گانا ’ظالم جوانی، کافر ادائیں.....‘‘ خود موتی لال کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھا۔ انہوں نے۱۹۴۹ء میں مینا شوری کے ساتھ فلم ’ایک تھی لڑکی‘ میں ایک کامیڈی کردار بھی ادا کیا تھا۔ اس فلم کے ہدایت کار مینا شوری کے شوہر روپ کے شوری تھے۔ ونود ای آر کی موسیقی میں نغمہ نگار عزیز کشمیری نے فلم کے گیت لکھے تھے۔ اس فلم کا یہ نغمہ.... ’’لارا لپا لارا لپا لائی رکھ دا‘‘ بے حد مقبول ہوا تھا اور اسی فلم کے بعد مینا شوری کو ’لارا لپّا گرل‘ کا ٹائٹل ملا تھا۔اداکارہ شوبھنا سمرتھ نےجب۱۹۵۰ء میں اپنی بیٹی نوتن کیلئے ایک فلم ’ہماری بیٹی‘ بنائی تو موتی لال نے اس فلم میں نوتن کے باپ کا کردار ادا کیا۔ موتی لال نے۱۹۵۹ء میں فلم’اناڑی‘ میں بھی نوتن کے سرپرست کا کردار ادا کیا تھا مگر وہ نگیٹیو رول تھا، جس کو موتی لال نے بڑی خوبی اور چابک دستی سے ادا کیا تھا۔ انہوں نے۱۹۵۲ء میں ایس ایس واسن کی فلم’مسٹر سمپت‘ میں ایک یادگار کردار ادا کیا۔
 ۱۹۵۹ء میں جیمنی اسٹوڈیو کے مشہور ہدایت کار ایس ایس واسن کی فلم ’پیغام‘ میں موتی لال نے ایک سرمایہ دار بزنس مین کا کردار بڑی خوبی سے ادا کیا تھا۔ اس فلم میں ہیرو دلیپ کمار کے ساتھ وجینتی مالا ہیروئن تھیں۔ جہاں یہ فلم دلیپ کمار وجینتی مالا کی ہٹ جوڑی کی وجہ سے یاد کی جاتی ہے، وہیں موتی لال کی بہترین کردارسازی کیلئے بھی پہچانی جاتی ہے۔۱۹۶۴ء میں دلیپ کمار وجینتی مالا کی فلم ’لیڈر‘ میں موتی لال نے ایک ویلن کا کردار بڑی خوبی سے ادا کیا ہے۔ یہ کردا ر حالانکہ نگیٹیو  ہے مگر موتی لال نے اپنی فطری اداکاری سے اس میں بھی الگ ہی پہچان بنائی۔ ۱۹۶۵ء میں یش چوپڑہ کی ہدایت میں بنی ملٹی اسٹارر فلم ’وقت‘ میں موتی لال نے سنیل دت کے مقابل ایک وکیل کا کردار کیا ہے مگر اس چھوٹے سے کردار میں بھی انہوں نے بہترین اداکاری کرتے ہوئے اپنی شناخت قائم رکھی ہے۔۱۹۶۵ء میں انہوں نے اپنی ہدایت میں ایک فلم ’چھوٹی چھوٹی باتیں‘ بنائی مگر فلم کی ریلیز سے قبل ہی  وہ اِس دُنیا سے رُخصت ہو گئے۔
 موتی لال تقریباً دو دہائیوں تک ہندوستانی سنیما کے سنہرے پردے پر گلیمرس انداز میں چھائے رہے۔ جہاں بلراج ساہنی دیہاتی کرداروں میں جان ڈال دیتے تھے، وہیں موتی لال شہر کے بانکے اور باسلیقہ نوجوان کے کردار بخوبی نبھاتے تھے۔موتی لال اکیلے ایسے اداکار تھے جن کے پاس اپنا ذاتی ہوائی جہاز تھا۔ وہ اپنا جہاز اکثر شوبھنا سمرتھ کے گھر کے اوپر اُڑایا کرتے تھے۔ حالانکہ موتی لال شادی شدہ تھے اور اُن کی بیوی دہلی میں ڈاکٹر تھیں لیکن دونوں میں تعلقات زیادہ بہتر نہیں رہتے تھے۔ اُن کی آخری فلم ’چھوٹی چھوٹی باتیں‘ کو جب نیشنل ایوارڈ ملا تو خود موتی لال یہ ایوارڈ لینے کیلئے زندہ نہیں تھے لہٰذا اُن کیلئے یہ ایوارڈ اُن کی ڈاکٹر بیوی نے حاصل کیا تھا۔
 اس کے علاوہ نئی نئی گاڑیاں رکھنے کا بھی موتی لال کو بہت شوق تھا۔ ایک زمانے میں اُن کے پاس چار گاڑیاں ہوا کرتی تھیں۔ وہ اکثر دوستوں سے کہتے تھے کہ میرا بس چلے تو میں باتھ روم میں بھی کار سے ہی جائوں۔ موتی لال کو تیراکی کا بھی بے حد شوق تھا۔اُنہیں سفید کپڑے پہننے کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ شاید اسی لئے اُن کے دل میں نیوی میں جانے کا شوق پیدا ہو گیا تھا کیونکہ نیوی کی ڈریس سفید ہی ہوتی ہے۔ اُن کا خیال تھا کہ سفید ڈریس والے نیوی کے نوجوانوں پر لڑکیاں زیادہ فدا ہوتی ہیں۔نوتن اور تنوجہ کی ماں اور اداکارہ کاجول کی نانی شوبھنا سمرتھ نے اُن کے بُرے دنوں میں کافی مدد کی۔۱۹۵۰ء کے زمانے میں ان دونوں کے معاشقے کو لے کر بڑے چرچے ہوتے تھے اور اِن چرچوں کی وجہ ہی سے شوبھنا سمرتھ کی طلاق ہو گئی تھی۔ تب موتی لال نے ہی اُن کے بچوں کی پرورش کی ذمہ داری نبھائی تھی۔
 موتی لال نے اپنے ہم عصر اداکاروں، سہراب مودی اور پرتھوی راج کپور کے تھیٹر کے انداز کی اداکاری سے الگ ہٹ کر فطری اداکاری کے بہترین نمونے پیش کئے، جس کیلئے دلیپ کمار بھی پہچانے جاتے تھے۔ہندی سنیما کے مقبول اداکار نصیرالدین شاہ نے ایک جگہ ہندوستانی سنیما کے تین بہترین اداکاروں کا ذکر کیا ہے، جن میں بلراج ساہنی اور یعقوب کے علاوہ تیسرا نام موتی لال کا ہی لیا ہے۔
 موتی لال نے اپنے اداکارانہ فن کے اظہار کیلئے چہرے کے تاثرات کو بے حد اہمیت دی ہے۔ موتی لال کی تقدیر نے اُن کو ایک ہی دن میں سُپراسٹار نہیں بنایا بلکہ۲۴؍سال کی انتھک محنت، لگن اور جہد مسلسل سے وہ اس مقام کو حاصل کر سکے تھے۔ انہیں گھوڑوں کی ریس کا بہت شوق تھا۔ وہ اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ ریس میں ضائع کر دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اپنے رئیسانہ ٹھاٹ باٹ اور طرزِ زندگی سے انہوں نے جو کمائی لٹائی، اس کی وجہ سے اُن کو اپنے آخری دنوں میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ قلاشی کے دَور سے نکلنے کیلئے کریکٹر ایکٹر کے طور پر کئی فلموں میں کام کرنا پڑا۔
 آخرکار خراب معاشی حالات اور لمبی بیماری کی وجہ سے ۱۷؍ جون ۱۹۶۵ء کو وہ دن آ گیا جب ممبئی میں ہندوستانی سنیما کے پہلے سپر اسٹار موتی لال کا انتقال ہو گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK