آر ڈی برمن اپنی شیریں موسیقی سے سامعین کے دلوں پر جادو کرنے والے عظیم موسیقار

Updated: June 27, 2020, 3:02 AM IST | Mumbai

 بالی ووڈ میں اپنی شیریں موسیقی سے سامعین کے دلوں پرجادو کرنے والے عظیم موسیقارراہل دیو برمن عرف آر ڈی برمن آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن آج بھی ان کی آوازکاجادو محسوس کیا جاسکتاہے۔

RD Burman Photo: INN
آر ڈی برمن۔ تصویر: آئی این این

سالگرہ کے موقع پر خراج عقیدت 
 بالی ووڈ میں اپنی شیریں موسیقی سے سامعین کے دلوں پرجادو کرنے والے عظیم موسیقارراہل دیو برمن عرف آر ڈی برمن آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن آج بھی ان کی آوازکاجادو محسوس کیا جاسکتاہے ۔اس آوازکو سن کر سامعین کے دل سے بس ایک ہی صدا نکلتی ہے’’چرا لیا ہے تم نے جو دل کو.....‘‘۔ آر ڈی برمن کی پیدائش ۲۷؍جون۱۹۳۹ء کو کلکتہ میں ہوئی۔ ان کے والد ایس ڈی برمن مشہور فلمی موسیقار تھے۔گھر میں موسیقی کا ماحول ہونے کی وجہ سے ان کا رجحان بھی موسیقی کی جانب ہو گیا۔ انہوں نے اپنے والد سے موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ استاد علی اکبر خان سے سرودکی تعلیم حاصل کی۔فلم انڈسٹری میں ’پنچم دا‘ کے نام سے مشہور آر ڈی برمن کو یہ نام اس وقت ملا جب انہوں نے اداکار اشوک کمار کو موسیقی کے ۵؍ سُر’ سارے گاماپا ‘گا کر سنایا۔۹؍ برس کی عمر میں پنچم دا نے اپنی پہلی دھن’’ا ے میری ٹوپی پلٹ کے آ‘‘ بنائی ۔ بعدازاں ان کے والد سچن دیو برمن نے اس دھن کا استعمال۱۹۵۶ء میں ریلیز ہونے والی فلم فنٹوش میں کیا۔ علاوہ ازیں ان کی تیار کردہ دھن’’سرجو تیراچکرائے‘‘ بھی گرودت کی فلم ’’پیاسا‘‘ میں استعمال کی گئی۔
 آر ڈی برمن نے فلمی کریئر کا آغاز اپنے والد کے ساتھ بطورمعاون موسیقارکیا۔ ان فلموں میں ’’ چلتی کا نام گاڑی(۱۹۵۸ء) اور کاغذ کے پھول (۱۹۵۹ء) جیسی سپر ہٹ فلمیں بھی شامل ہیں ۔ بطور موسیقار انہوں نے اپنے فلمی سفر کا آغاز ۱۹۶۱ء میں اداکار محمود کی فلم ’’چھوٹے نواب‘‘ سے کیا تھالیکن اس فلم سے انہیں کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوئی۔ فلم چھو ٹے نواب میں آر ڈی برمن کے کام کرنے کا قصہ کافی دلچسپ ہے۔ ہوا یوں کہ فلم چھوٹے نواب کیلئے محمود، موسیقار ایس ڈی برمن کو لینا چاہتے تھے لیکن ان کی ایس ڈی برمن سے کوئی جان پہچان نہیں تھی۔آر ڈی برمن چونکہ ایس ڈی برمن کے بیٹے تھے لہٰذا محمود نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بارے میں آر ڈی برمن سے بات کریں گے۔ ایک دن محمودآرڈی برمن کو اپنی گاڑی میں بٹھا کرسیرو تفریح کے لئے نکل گئے۔ سفر اچھا تھا‘ اس لئے آر ڈی برمن اپنا ماؤتھ آرگن نکال کر بجانے لگے۔ ان کی دھن سے محمود اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے ایس ڈی برمن کے بجائے آر ڈی برمن کو اپنی فلم چھوٹے نواب میں موسیقی دینے کا موقع فراہم کیا۔دریں اثناآر ڈی برمن نے اپنے والد کیساتھ بطورمعاون موسیقار بندھنی (۱۹۶۳ء)،۳ ؍دیویاں (۱۹۶۵ء) اور گائیڈ جیسی فلموں کیلئے بھی موسیقی دی۔ پنچم دابطور موسیقار کسی حد تک۱۹۶۵ء میں ریلیز ہونے والی فلم بھوت بنگلہ سے فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس فلم کا گانا ’’آؤ ٹوئسٹ کریں ‘‘ سامعین میں بہت مقبول ہوا۔فلموں میں موسیقی دینے کے ساتھ ساتھ پنچم دا غیر فلمی نغموں کی موسیقی سے بھی سامعین کے دل جیتنے میں کامیاب رہے۔ سامعین کو محظوظ کرنے والے پنچم دا۴؍ جنوری۱۹۹۴ءکو اس دنیاسے رخصت ہوگئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK