کمال امروہوی کانام آتے ہی ذہن میں فلم ’پاکیزہ‘ کاخیال آتاہے

Updated: January 17, 2022, 1:26 PM IST | Agency | Mumbai

کمال امروہوی کانام ذہن میں آتے ہی فلم ’پاکیزہ‘کا خیال ضرور آتا ہے۔حالانکہ انہوں نے دیگر فلمیں بھی بنائی تھیں لیکن اس شاہکار فلم کے خالق کمال امروہوی کا یہ ڈریم پروجیکٹ تھا۔

Kamal Amrohi.Picture:INN
کمال امروہوی ۔ تصویر: آئی این این

کمال امروہوی کانام ذہن میں آتے ہی فلم ’پاکیزہ‘کا خیال ضرور آتا ہے۔حالانکہ انہوں نے دیگر فلمیں بھی بنائی تھیں لیکن اس شاہکار فلم کے خالق کمال امروہوی کا یہ ڈریم پروجیکٹ تھا۔بہترین ڈائیلاگ‘ موسیقی‘ نغمات اورمیناکماری کی بے مثال اداکاری کی بدولت اس فلم نے ناظرین کے دل و دماغ پرایسے نقوش ثبت کئے،جنہیں آج تک بھولا نہیں جاسکا۔ اس کے نغموں میں اس قدر کشش ہے کہ آج بھی جب فلم’پاکیزہ‘ کے نغمے کہیں سنائی دیتے ہیں تو لوگوں کے دل کی دھڑکنیں تھم جاتی ہیں اور لوگ ہمہ تن گوش ہوجاتے ہیں۔ویسے تواس فلم کے سبھی نغمے پسند کئے جاتے ہیں لیکن اس کا ایک گیت ’موسم ہے عاشقانہ۔۔۔‘  انتہائی مقبول ہوا۔دل کے ساز چھیڑنے والی موسیقی اور الفاظ کی بندش کے سبب اس فلم نے کامیابی کے ریکارڈ توڑے۔ آج اس فلم انڈسٹری کی کلاسک فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ’پاکیزہ‘کمال امروہوی کی ڈریم پروجیکٹ فلم تھی جس پر انہوں نے۱۹۵۸ءمیں کام شروع کردیاتھا۔ یہ عہد بلیک اینڈ وہائٹ فلموں کا تھا۔ یہ فلم بھی بلیک اینڈ وہائٹ بننے والی تھی۔ کچھ عرصہ بعد ہندوستان میں سنیما اسکوپ کا رواج ہوا تو انہوں نے۱۹۶۱ءمیں سنیما اسکوپ کی شکل میں بنانا شروع کردیا تھا۔ کمال امروہوی۱۷؍جنوری۱۹۱۸ءکو اترپردیش کے امروہہ ضلع میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے فلم انڈسٹری میں داخلہ کا واقعہ بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔کہاجاتا ہے کہ وہ بچپن میں انتہائی شرارتی تھے اور اپنی شرارتوں سے پورے گاؤں کی ناک میں دم کئے رہتے تھے۔ایک بار ان کی والدہ نے انہیں زبردست ڈانٹ پلائی تو انہوں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا کہ ایک دن وہ انتہائی مقبول افراد میں شمار کئے جائیں گے اور ان کے دامن کو سونے چاندی کے سکوں سے بھر دیں گے۔اس دوران ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے ان کی زندگی کے رخ کو بدل دیا۔ہوا یوں کہ ان کے بڑے بھائی نے ان کی شرارتوں سے تنگ آکر انہیں طمانچہ رسید  کر دیا۔  غصہ سے بپھرے کمال امروہوی گھرچھوڑ کر لاہور بھاگ  گئے۔ لا ہور نے ان کی زندگی کی سمت ہی بدل دی۔ انہوں نے بڑا آدمی بننے کا عزم کرلیا تھا۔انہوں نے خوب محنت کی اورقدیم لسانیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرلی۔وہ انتہائی ذہین تھے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے محض۱۸؍برس کی عمر میں ہی ایک اردو اخبار میں کالم نگاری شروع کردی۔ اخبار کے مدیر اُن کی صلاحیتوں کے اس قدر معترف ہوئے کہ اس زمانہ میں انہوں نے ۳۰۰؍ روپے ان کا مشاہرہ مقرر کردیا۔یہ اس وقت ایک خطیر رقم شمار کی جاتی تھی۔ کچھ دنوں تک اخبار میں کام کرنے کے بعد ان کا دل اس کام سے بھر گیا اور وہ کلکتہ آگئے اوروہاں سے پھربمبئی کا رخ کیا۔ لاہور میں کمال امروہوی کی ملاقات معروف نغمہ نواز اور اداکار کندن سہگل سے ہوئی ۔ کمال صاحب کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں فلم میں کام دلانے کیلئے سہراب مودی کے پاس بمبئی لائے۔ وہ یہاں آکر فلم انڈسٹری میں جدو جہد کرنے لگے۔ اسی دوران انہوں نے خواجہ احمد عباس تک رسائی کی۔ ان کی کہانی ’سپنوں کا محل‘ سے فلمساز و ہدایت کار اورمعروف کہانی نویس خواجہ احمد عباس بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے اس پر فلم بنانے کا ارادہ کرلیا۔اس کیلئے فلمساز بھی تلاش کرلیا گیا تھا  لیکن اس کے بعد کمال امروہوی کو معاشی تنگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے پاس کھانے کیلئے پیسہ تھا نہ سر چھپانے کیلئے گھر۔ ان کے ستارے گردش میں تھے۔ اسی دوران انہیں خبرملی کہ سہراب مودی کسی نئی اور اچھوتی کہانی کی تلاش میں ہیں۔وہ فوراً ان کے پاس پہنچے اور انہیں ۳؍ سو روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھ لیا۔ان کی کہانی پر مبنی فلم پکار (۱۹۳۹ء)انتہائی سپر ہٹ رہی۔کمال امروہوی کا جادو فلموں میں چل گیااور انہوں نے متعدد فلموں کیلئے کہانی، اسکرپٹ اور ڈائیلاگ تحریر کئے۔ فلم’ محل‘ کمال امروہوی کے کریئر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔یہ فلم تجسس اوررومانس سے بھری ہوئی تھی۔فلمساز اشوک کمار نے اس کی ہدایت کاری کی ذمہ داری کمال امروہوی کو سونپی۔ بہترین گیتوں اور موسیقی کے سبب یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی اور اس کے بعد سے ہی فلموں میں سسپنس کا رواج چل پڑا۔فلم کی زبردست کامیابی نے مدھوبالا اور لتامنگیشکر کو نئی شناخت فراہم کی۔اس سے حوصلہ پاکر کمال امروہوی نے۱۹۵۳ءمیں کمال پکچرس اور ۱۹۵۸ء میں کمالستان اسٹوڈیو کی بنیاد رکھی۔اس کے بینر تلے انہوں نے مینا کماری کو لے کرایک آرٹ فلم ’’دائرہ‘‘ بنائی لیکن یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ اسی دوران فلمساز و ہدایتکار کے آصف اپنی اہم فلم ’مغل اعظم‘ بنانے میں مصروف تھے۔اس کے ڈائیلاگ وجاہت مرزا لکھ رہے تھے۔کے آصف نے محسوس کیا کہ ایک ایسے ڈائیلاگ لکھنے والے کی ضرورت ہے جس کے تحریر کردہ ڈائیلاگ ناظرین کے دماغ میں برسوں تک گونجتے رہیں۔ اس کے لئے انہوں نے کمال امروہوی کا انتخاب کیا اور انہوں نے چارڈائیلاگ لکھنے والوں میں شامل کرلیا۔ان کے تحریر کردہ ڈائیلاگ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ عاشق و معشوق خط و کتابت میں ان کا استعمال کرتے تھے۔ اس فلم میں بہترین ڈائیلاگ لکھنے کے لئے انہیں فلم فیئرانعام سے بھی نوازا گیا۔
  کمال امروہوی نے فلم جیلر(۱۹۳۸ء) ، میں ہاری (۱۹۴۰ء)، بھروسہ (۱۹۴۰ء)، مذاق (۱۹۴۳ء)، پھول (۱۹۴۵ء)، شاہ جہاں (۱۹۴۶ء)، محل(۱۹۴۹ء)، دائرہ(۱۹۵۳ء)، دل اپنا اور پریت پرائی(۱۹۶۰ء)،مغل اعظم (۱۹۶۰ء)، پاکیزہ (۱۹۷۱ء)، شنکر حسین (۱۹۷۱ء) اور رضیہ سلطان (۱۹۸۳ء) فلموں کیلئے کہانی، ڈائیلاگ اور اسکرپٹ لکھی۔یہ سچ ہے کہ انہوں نے بڑی تعداد میں فلموں کے لئے اپنی خدمات پیش نہیں کیں لیکن جن چنندہ فلموں میں انہوں نے کام کیا پوری یکسوئی ، لگن اور جنون کے ساتھ کام کیا۔یہ صحیح ہے کہ ان کے کام کرنے کی رفتار انتہائی سست ہوتی تھی،جس کے سبب ان پر تنقید بھی کی جاتی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK