؍ ۷؍ سال بعد محرومی،قرض، امراض اور اموات

Updated: May 02, 2021, 11:48 AM IST | P. Chidambaram | Mumbai

بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت سات سال مکمل کرچکی ہے۔ ان سات برسوں میں کیاکچھ ہوا ، سب پر ظاہر ہے۔ حکمرانی کیسی ہونی چاہئے اور کس طرزِ حکمرانی کا مشاہدہ ملک کررہا ہے یہ سمجھنا ضروری ہے۔

There are about26 crore families in the country who face hunger every morning.Picture:Inquilab
ملک کے کم و بیش ۲۶؍ کروڑ خاندان ایسے ہیں جنہیں روزانہ صبح بھوک کا سامنا ہوتا ہے تصویر انقلاب

ل پہلے بی جے پی کو غیر معمولی اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار حاصل ہوا تھا۔ اب جبکہ ہم بی جے پی کے جاری اقتدار کے تیسرے سال میں داخل ہورہے ہیں، یہ دریافت کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ کس قسم کا طرز حکمرانی ہے اور اس کو کس طرح سمجھنا چاہئے۔
 ملک کے کم و بیش ۲۶؍ کروڑ خاندان ایسے ہیں جنہیں روزانہ صبح بھوک کا سامنا ہوتا ہے جبکہ کون نہیں جانتا کہ ہندوستان اناج، دالوں، باجرہ، دودھ، سبزی ترکاری اور پھلوں کی پیداوار کا بڑا مرکز ہے۔ اسی طرح گوشت اور مچھلی کا بھی۔ جب اتنی پیداوار ہے تو اُصولی طور پر ہونا یہ چاہئے کہ صبح اُٹھنے والے ہر شہری کو مناسب غذا میسر ہو۔ اگر ہم ترقی کررہے ہیں تو ہر سال اُن کے کھانے کی پلیٹ کو بہتر ہونا چاہئے۔ اگر طلبہ کو مناسب مقدار میں غذا نہ ملے تو وہ خون کی کمی کا شکار ہوں گے یا تغذیہ کی کمی سے لاحق ہونے والے دیگر مسائل میں گرفتار ہوں گے۔ این ایف ایچ ایس ۴  (نیشنل فیملی ہیلتھ سروے ۴  (برائے ۱۶۔۲۰۱۵ء) اب تک کا سب سے مکمل سروے تھا جس کے مطابق ۵۸ء۶؍ فیصد بچے خون کی کمی کا شکار تھے، ۳۸ء۴؍ فیصد بچوں کی جسمانی نشوونما میں بگاڑ پیدا ہوا جبکہ ۱۰؍ سال پہلے کے این ایف ایچ ایس۔۳؍ کی تفصیل بالکل مختلف تھی۔ سال ۲۰۔۲۰۱۹ء کیلئے یہ سروے شروع تو کیا گیا تھا مگر وبائی حالات کی وجہ سے مکمل نہیں کیا جاسکا۔ تاہم، ۲۲؍ ریاستوں کی تفصیل جو جاری کی گئی، بتاتی ہے کہ خون کی کمی اور نشوونما کی دقتوں کا شکار بچوں کی تعداد ۱۸؍ ریاستوں میں بڑھی ہے ۔
 غور طلب ہے کہ ملک میں اناج بڑی مقدار میں موجود ہونے کے باوجود بچوں کو مناسب غذا نہیں مل پاتی۔ اس کی وجہ سے جو نقصان ہوسکتا ہے وہ ہورہا ہے۔ یہاں مجھے چند دیگر حقائق پر روشنی ڈالنے دیجئے۔ جب سے این ڈی اے ۲؍ کا دور شروع ہوا ہے، جی ڈی پی، اس کی بہتری کی رفتار اور فی کس آمدنی گھٹی ہے۔مزدوروں کی شراکت کا فیصد کم ہوا ہے۔ بے روزگاری بدستور بڑھی ہے۔ ہول سیل پرائز انڈیکس اور غذائی افراط زر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔  
 حکمرانی کے نقائص سے پیدا شدہ یہ مسائل جوں کے توں ہی تھے کہ کورونا کی وباء پھیل گئی۔جنوری ۲۰۲۰ء میں کورونا کے پہلے مریض کی خبر مشتہر ہوئی تھی۔ معاشی حالات کی خرابی اس سے پہلے ہی طشت از بام ہونے لگی تھی۔ وباء ایک قدرتی آفت تھی جو انسانی غلطیوں اور خامیوں کی وجہ سے زیادہ تکلیف دہ ہوگئی۔ غور کیجئے تو محسوس ہوتا ہے کہ قصور اُن کا ہے جو اقتدار میں ہیں۔ قصور ان کا نہیں جنہوں نے انہیں اقتدار بخشا۔
 مالی سال ۲۲۔۲۰۲۱ء کی ابتداء ایک ماہ قبل ہوئی ہے اور پہلے ہی مہینے میں بالکل صاف ہے کہ یہ سال بھی معاشی ابتری کا سال ہوگا۔ روزگار ختم ہونگے، مردوں کے مقابلے میں خواتین کے روزگار کے ذرائع زیادہ متاثر ہونگے اور غیر منظم زمرہ، منظم زمرہ سے زیادہ ہلکان ہوگا۔ یہی نہیںلوگوں کی اُجرتیں، تنخواہیں اور آمدنی متاثر ہوگی، بہتیری چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتی فرموں اور کارخانوں کو تالہ لگ جائیگا، عموماً دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت ہوتی ہے جب کام کی تلاش میں لوگ شہری علاقوں کا رُخ کرتے ہیں مگر معیشت کی حالت کے ابتر ہونے کی وجہ سے ہجرت کا رُخ بدل جائیگا جو شہروں سے دیہاتوں کی طرف ہونے لگے گا اور بہت سے لوگ غربت اور قرض کے دلدل میں پھنسے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ خدا کرے کہ ایسا نہ ہو مگر موجودہ حالات مستقبل کا یہی اندازہ پیش کررہے ہیں کہ عوام کی جو حالت ۲۰۔۲۰۱۹ء میں یا  ۲۱۔۲۰۲۰ء میں تھی،رواں مالی سال میں اس سے زیادہ خراب ہوگی۔ اس دوران جب جب، جہاں جہاں لاک ڈاؤن لگے گا، ریاستی معیشت کے علاوہ قومی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ۱۷؍ اپریل کو وزیر اعظم کے اس اعلان کے بعد لاک ڈاؤن کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے کہ ’’ہم ۲۰۲۰ء میں کووڈ کو شکست دے چکے ہیں۔‘‘  گزشتہ سال سے ایک چیز مختلف ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اس سال لاک ڈاؤن وغیرہ کی ذمہ داری ریاستی وزرائے اعلیٰ پر ڈال دی گئی ہے۔ 
 اب تک کے معاشی بحران اور وبائی حالات سے نمٹنے کیلئے مرکزی حکومت نے صرف اور صرف جھوٹ، برا بھلا کہنے اور ٹرولنگ کرنے والے تنخواہ دار کارکنوں کا سہارا لیا ہے۔ کیا آپ سوچ سکتے تھے کہ (۱) وباء پھیلی ہوگی اور وزیر اعظم انتخابی ریلیوں سے خطاب کررہے ہوں گے اور اس دوران وزرائے اعلیٰ کے فون کالس کا جواب نہیں دیں گے جو نہایت پریشانی کے عالم میںاُن سے رابطہ کرنا چاہیں گے؟ (۲) وزیر صحت بار بار یہی کہیں گے ملک میں ویکسین کی کمی ہے نہ آکسیجن سیلنڈروں کی، ریمڈیسیور کی کمی ہے نہ اسپتالوں میں بیڈس کی؟ (۳) ایک وزیر غیر ملکی ٹیکے درآمد کرنے کی اجازت کے مشورے کا مذاق اُڑائے گا اور جب حکومت خود یہ فیصلہ کرے گی کہ غیر ملکی ٹیکے درآمد کئے جائیں تو وہ وزیر اپنے مضحکہ پر معافی نہیں مانگے گا؟ (۴) وزیر مالیات کی جانب سے اُس وقت خاموشی کا مظاہرہ ہوگا جب سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا ’’کووی شیلڈ‘‘ کیلئے ۳؍ ہزار کروڑ کا مطالبہ کرے گا؟ (۵) مرکز لازمی لائسنسوں کی گنجائش پیدا نہیں کرے گا تاکہ کووی شیلڈ اور کو ویکسین کو بیک وقت کئی مقامات پر مینوفیکچر کیا جاسکے؟ (۶) حکومت ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ الگ الگ قیمت متعین کریں؟ اور (۷) برسراقتدار جماعت کے اراکین پارلیمان ایسے شدید وبائی دور میں بھی خاموش رہنے کو ترجیح دیں گے؟ 
 حکمرانی جسے کہتے ہیں وہ پیش گوئی کرنے، حالات سازگار بنانے، منصوبہ بندی کرنے، وسائل تقسیم کرنے، اُمورِ آئندہ کو سمجھ کر مناسب پیش بندی کرنے، سرگرمیوں کو مربوط کرنے اور فیصلوں کو نافذ کرنے کا نام ہے۔ مگر ہم جو حکمرانی دیکھ رہے ہیں وہ اس حد تک غیر معیاری ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہم لینڈلائن فون، ٹائپ رائٹر اور بلیک بورڈ کے دور میں پہنچ گئے ہوں۔ محرومی،قرض، امراض اور اموات، جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں سب اسی غیر معیاری حکمرانی کا نتیجہ ہے۔ کیا ۲۰۱۹ء میں غیر معمولی اکثریت عطا کرنے والے ملک کے عوام کو ایسی ہی حکومت ملنی چاہئے تھی؟ میرا جواب ہے نہیں

food Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK