فلسطین کے بغیر عرب اتحاد کا تصور ممکن نہیں

Updated: September 07, 2022, 9:51 AM IST | Mumbai

سات دہائیاں گزر گئیں مگر فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ کوشش کی جارہی ہے کہ اسے فوقیت حاصل نہ رہے۔ اس کوشش کو ناکام بنانے کیلئے عرب اتحاد ضروری ہے مگر عرب اتحاد فلسطین کی شمولیت کے بغیر بے اثر ہی ہوگا

palestine
فلسطین

یسا لگتا ہے کہ اسرائیل نے عرب ملکوں کو شیشے میں اُتارنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ ان کے درمیان فلسطین کا مسئلہ ضمنی اور کم اہم ہوتا جارہا ہے جبکہ یہی وہ مسئلہ ہے جو اسرائیل اور عرب ملکوں کے درمیان نزاع کی بنیاد رہا ہے۔ مگر اب اسرائیل سے تعلقات بنتے جارہے ہیں، مستحکم ہوتے جارہے ہیں اور عرب ممالک گویا ’’راہِ راست پر‘‘ آتے جارہے ہیں۔ 
 مگر یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ کئی چیزیں ایسی ہیں جو بدلی نہیں جاسکتیں۔ مثال کے طور پر ۳۱؍ جولائی اور یکم اگست کی عرب لیگ کی وہ میٹنگ جو قاہرہ میں منعقد کی گئی۔ اس میٹنگ میں فلسطین ہی کا موضوع حاوی رہا۔ میٹنگ کے اخیر میں تمام شرکاء نے اتفاق رائے سے یہ بیان جاری کیا کہ عرب ممالک اسرائیل کے بائیکاٹ کے اپنے موقف کو بحال کریں اور اس پر سختی سے کاربند رہیں جب تک آخر الذکر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کرتا۔
 اس بیان یا اعلامیہ میں سخت زبان استعمال کی گئی ہے جس کا مشورہ عرب لیگ کے نائب سکریٹری جنرل نے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی اور یک جہتی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اُن تمام کمپنیوں (کی مصنوعات) کا بائیکاٹ کیا جائے جو اسرائیلی قبضے کی حمایت کرتی ہیں۔ 
 اس دو روزہ میٹنگ یا کانفرنس میں عرب علاقائی دفاتر سے وابستہ فوجی افسران ِرابطہ شریک ہوئے جو اس خیال کے حامل تھے کہ اسرائیل کا بائیکاٹ، عدم سرمایہ کاری اور پابندیاں جس حد تک بھی نافذ ہیں اُن کی ستائش کی جانی چاہئے۔ عرب علاقائی دفاتر سے وابستہ فوجی افسرانِ رابطہ کی بائیکاٹ کی مہم پر مغربی طاقتیں اثر انداز ہونا چاہتی ہیں کیونکہ یہ دفاتر اسرائیل کے خلاف عالمی اقدام اور کارروائی کی حمایت کرتے ہیں۔ عرب افسران کی جانب سے جو مشورے دیئے گئے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اسرائیل کا بائیکاٹ مارچ ۲۰۱۹ء کی تیونس عرب چوٹی کانفرنس کے خطوط پر ہونا چاہئے جس میں طے کیا گیا تھا کہ فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کے خلاف مزاحمت ہو، اسرائیل کا بائیکاٹ کیا جائے کیونکہ بائیکاٹ ایسا اقدام ہے جو مؤثر بھی ثابت ہوتا ہے اور عالمی سطح پر ، کسی حد تک اسے قانونی جواز بھی حاصل ہے۔
 اس سلسلے میں اگر کوئی شک و شبہ کا اظہار کرتے ہوئے کہے کہ اسرائیل تو اپنے منصوبوں پر بلا روک ٹوک عمل کررہا ہے لہٰذا ایسے بیانات یا اعلامیوں کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے یا ایسی کانفرنسوس سے کیا حاصل ہوتا ہے۔ بات درست ہے مگر اس سے کم از کم یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ عربوں کا مجموعی موقف اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔ جولائی کے تیسرے ہفتے میں جب صدرِ امریکہ جو بائیڈن مشرق وسطیٰ کے دورہ پر آئے تھے تب اُن پر بھی یہی واضح کیا گیا تھا کہ (اسرائیل سے تعلقات بھلے ہی استوار ہورہے ہوں مگر) عالم عرب کا مجموعی موقف غیر تبدیل شدہ ہے۔ ممکن ہے کہ دورۂ مشرق وسطیٰ سے بائیڈن نے توقع کی ہو کہ اسرائیل کے تئیں عربوں کے رویہ میں مزید نرمی آئیگی مگر وہ اس قسم کا کوئی تحفہ لے جانے میں ناکام رہے حالانکہ اُن کی سیاسی جماعت (ڈیموکریٹک پارٹی) کے اسرائیل نواز اراکین کو رام کرنے میں اُن کا یہ دورہ معاون ثابت ہوا ہو۔ اگر ایسا ہو بھی جائے تو یہ ایسی سیاسی کامیابی ہے جس کا تعلق امریکی سیاست سے ہے، بین الاقوامی سیاست سے نہیں۔
 امریکی افسران جو بات نہیں سمجھتے وہ یہ ہے کہ فلسطینی اور عرب  عوام کیلئے فلسطین ایسا جذباتی، ثقافتی اور روحانی موضوع ہے جس کی جڑیں گہرائی تک موجود ہیں۔ ٹرمپ اور اُن کے داماد جیرڈ کرشنیر ہوں، بائیڈن ہوں یا کوئی حکمراں یا صدر، وہ اس جذباتی، ثقافتی اور روحانی رشتے کو نہ تو توڑ سکتا ہے نہ ہی اس کی اہمیت کو کم کرسکتا ہے۔    فلسطین سے فلسطینی عوام کے جذباتی لگاؤ اور عقیدت کو سمجھنے کیلئے تاریخ کا مطالعہ کرنے والا کوئی بھی انصاف پسند شخص گواہی دے گا کہ مسئلۂ فلسطین کوئی سیاسی موضوع نہیں ہے جس کی بنیاد موقع پرستی یا سیاسی و جغرافیاتی مفادات پر رکھی گئی ہو۔ جدید عرب تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امریکی، اسرائیلی، مغربی اور ان سب کے حامی لوگ چاہے جہاں رہتے ہوں، ان کا دباؤ کوئی معنی نہیں رکھتا خواہ یہ دباؤ کتنے ہی منظم انداز میں ڈالا جائے۔ اس کے برخلاف عرب اتحاد کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو، مسئلۂ فلسطین کے حل کئے جانے کا مطالبہ عرب اُمور میں ہمہ وقت ترجیحاً شامل رہے گا۔ سرزمین فلسطین سے اہل فلسطین کی جذباتی وابستگی ہی کا نتیجہ ہے کہ عربوں کی شاعری، دیگر فنون لطیفہ، اسپورٹس اور ثقافتی سرگرمیوں نیز دیگر اُمور میں فلسطینی کاز کو فو قیت حاصل رہتی ہے، یہ موضوع کبھی پس پشت نہیں جاتا۔
 حال ہی میں واشنگٹن ڈی سی کے عرب سینٹر نے ایک اوپینین پول کیا تھا جس میں ۱۳؍ ملکوں کے ۲۸؍ ہزار ۲۸۸؍ عرب باشندوں  کے خیالات جاننے کی کوشش کی گئی۔ ان لوگوں نے توثیق کی کہ ۳۵۰؍ ملین سے زیادہ عرب باشندے فلسطین کو بالکل اُسی طرح ایک اہم موضوع قرار دیتے ہیں جیسا کہ اُن کے آباء و اجداد کے نزدیک یہ ایک اہم موضوع تھا۔ معلوم ہوا کہ اگر سابقہ نسلوں کے خیال میں فلسطین ایک جذباتی اور روحانی مسئلہ تھا تو اب بھی ہے یعنی موجودہ نسل کیلئے بھی اس کی وہی اہمیت ہے۔
 ۲۰۲۰ء کے اواخر کا عرب فلسطین انڈیکس پہلی مرتبہ تیار نہیں کیا گیا بلکہ ۲۰۱۱ء سے ۲۰۲۰ء تک کا یہ ساتواں جدول تھا اور ہر بار اس حقیقت کی توثیق ہوئی کہ عرب عوام فلسطین کو اپنے دل کی گہرائیوں میں پاتے ہیں اور اس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوسکتے۔ اس اوپینین انڈیکس کے مطابق، ۸۱؍ فیصد لوگ امریکہ کی فلسطین پالیسی سے نالاں ہیں جبکہ ۸۹؍ فیصد اور ۸۱؍ فیصد عوام علی الترتیب اسرائیل اور امریکہ کے بارے میں محسوس کرتے ہیں کہ واشنگٹن اور تل ابیب دیگر ملکوں کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔
  عرب اوپینین انڈیکس کے لئے اپنی رائے دینے والوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی پائی گئی جن کا کہنا تھا کہ فلسطین صرف اہل فلسطین کیلئے جذباتی موضوع نہیں، تمام عربوں کیلئے ہے۔ ان میں ۸۹؍ فیصد سعودی اور ۸۸؍ فیصد قطری باشندوں کا بھی یہی موقف تھا۔ عرب عوام میں بہت سے معاملات میں عدم اتفاق ہوسکتا ہے بلکہ ہوتا ہے۔ اُن کے درمیان تنازع بھی ہوسکتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے جنگ بھی کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں مگر فلسطین کے بارے میں ان میں رتی برابر بھی عدم اتفاق نہیں۔ اگر حکومتیں فلسطین کو حاشئے پر ڈال دیں تو اُن کے عوام اپنی حکومتوں کو فلسطین کو مرکزی اہمیت دینے پر مجبور کردیتے ہیں۔ ماضی میں ایسا کئی بار ہوا ہے۔n

palestine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK