بنگلہ دیش کی معاشی سبقت

Updated: October 16, 2020, 11:42 AM IST | Editorial

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بنگلہ دیش کو ’’باٹم لیس باسکیٹ‘‘ کہا تھا یعنی ایسی ٹوکری جسے بھرنے کی کتنی ہی کوشش کیجئے، کبھی نہیں بھرتی۔ یہ اُس دور کی بات ہے جب بنگلہ دیش نیا نیا آزاد ہوا تھا اور اس کی ضروریات بے شمار تھیں

Bangladesh Economy - Pic : INN
بنگلہ دیش معشیت ۔ تصویر : آئی این این

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بنگلہ دیش کو ’’باٹم لیس باسکیٹ‘‘ کہا تھا یعنی ایسی ٹوکری جسے بھرنے کی کتنی ہی کوشش کیجئے، کبھی نہیں بھرتی۔ یہ اُس دور کی بات ہے جب بنگلہ دیش نیا نیا آزاد ہوا تھا اور اس کی ضروریات بے شمار تھیں۔ ابھی چند ماہ پہلے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے کے عبدل مومن نے اُس دور کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’۱۹۷۱ءمیں آزادی کے بعد ہمیں ہر چیز بیرونی ملکوں سے درآمد کرنی پڑتی تھی، یہ بڑا دردِ سر تھا کیونکہ ہمارا خزانہ خالی اور معاشی ساکھ بے حد کمزور تھی۔ چند ممالک مطلوبہ اشیاء برآمد کرنے پر آمادہ تھے مگر ان کی شرط یہ تھی کہ کوئی تیسرا ملک اس بات کی ضمانت لے کہ رقومات ڈوبیں گی نہیں۔‘‘
 ایسا نہیں کہتب سے لے کر اب تک کا پانچ دہائیوں پر محیط عرصہ بہت آسان اور ہموار راستوں کے سفر جیسا رہا ہو۔ سیاسی حالات، آسمانی آفات اور عالمی معاشی اثرات، ان سب سے لوہا لیتے ہوئے ڈھاکہ نے معاشی سبقت کو اپنا ہدف بنایا۔  اگر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا اندازہ ہے کہ۲۰۲۵ء تک بنگلہ دیش کی  فی کس آمدنی (پَر کیپیٹا جی ڈی پی) جو اِس وقت ۱۸۸۷؍ ڈالر ہے، ۲۷۵۶؍ ڈالر کے برابر ہوگی تو یہ اس کی قابل ستائش پیش رفت ہے۔ 
 اِدھر چند برسوں سے بنگلہ دیش عالمی برادری کی ستائشی نگاہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس کی جی ڈی پی کی ۶؍ تا ۸؍ فیصد شرح خاص طور پر اُن حالات میں چونکاتی رہی جب عالمی معاشی حالات مخدوش تھے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال کورونا کی وباء اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے اِس وقت بھی ہے مگر یہ ملک دوسروں کی طرح فکرمند نہیں ہے بلکہ ’’جس کی ٹوکری کبھی بھرتی نہیں تھی‘‘ آج اپنی معیشت کے ہر ممکن تحفظ اور  ترقی کے قابل ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکا؟
 اس کی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش نے معاشی استحکام سے توجہ نہیں ہٹائی، بدلتے ہوئے عالمی معاشی منظرنامے کو بغور دیکھا اور اس منظرنامے میں اپنی جگہ بنانے کی تدابیر اختیار کیں۔ اس نے اپنی مصنوعات برآمد کرنے کیلئے نئی منڈیوں کی تلاش کا سلسلہ جاری رکھا، بڑی تعداد میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مدعو اور قائل کیا، بیرونی ملکوں میں اس کے اپنے جو شہری برسرکار ہیں، ان کی ارسال کردہ رقومات سے بھی اسے بڑی مدد ملی اور اس نے جدید کاری کے منصوبوں (موڈرنائزیشن پروجیکٹس) پر کافی سرمایہ کاری کی۔ گارمینٹ انڈسٹری اس کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ڈھاکہ نے اس کے استحکام کو ہدف ِ خاص مقرر کیا۔ ۲۰۱۶ء کے اعداددوشمار بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیش، چین کے بعد گارمینٹ کا سب سےبڑا مینوفیکچرر ہے۔ اس کے پاس امریکہ جیسا مارکیٹ تو تھاہی، اس نے کناڈا اور آسٹریلیا جیسے ملکوں اور وہاں کی مارکیٹس سے بھی دوستی بڑھائی۔ بڑی خاموشی اور انہماک کے ساتھ جاری رہنے والا یہ معاشی سفر نت نئی منزلوں سے ہمکنار ہوتا رہا جسے جی ڈی پی کے آئینے میں دیکھا جائے تو تصویر زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔ اپنی آزادی کے ایک سال بعد ۱۹۷۲ء میں اس کا جی ڈی پی صرف ۶۲۸ء۸۲؍ کروڑ ڈالر تھا جبکہ ۲۰۱۸ء میں ۲۷۴۰۲ء۵؍ کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا اور آئندہ سال تک ۳۲؍ ہزار کروڑ تک پہنچنے کے امکانات روشن ہیں۔ شرح نمو کے معاملے میں بنگلہ دیش نے اُس ملک (پاکستان) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جس سے وہ علاحدہ ہوا تھا۔  
 ماہرین بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی معیشت نے ۲۰۰۹ء سے اب تک ۱۸۸؍ فیصد وسعت حاصل کی جو کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے چنانچہ تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ ایشیائی ملکوں میں جہاں چین اور ہندوستان کا نام آتا رہا، اب بنگلہ دیش کا تذکرہ بھی خصوصیت کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ ہنری کسنجر ضعیف العمری (۹۷؍ سال) کی وجہ سے بنگلہ دیش کا دورہ نہ کرپائیں مگر اس کے بارے میں معلومات حاصل کرکے یہ سبق ضرور سیکھیں کہ کسی ملک کو تحقیر کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہئے۔

bangladesh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK