بیابانی صاحب کا چبوترہ

Updated: January 25, 2021, 11:59 AM IST | Dr Safdar

خطہ ودربھ کے تاریخی شہر اچلپور کے معروف بزرگ حضرت عبداللہ بیابانی ؒ اور ان کے چبوترہ کا تذکرہ ، ان کے مزار کے خوبصورت گنبد کے سامنے ایک بڑا چبوترہ ہے جو پکے فرش سے مزین ہے، مذکورہ بزرگ کی نسبت سے ہی اس محلے کا نام بھی بیابانی پڑگیا۔ یہ محلہ عہدِ قدیم سے ہی اچلپور کی دینی ، ملّی، ادبی اور ثقافتی تحریکوں کا مرکز رہا ہے ، بیابانی صاحب کا چبوترہ ، بیابانی کا دِل ہے، دربار ہے، چوپال ہے یہی بتاتا ہے کہ اہلِ بیابانی کا کیا حال ہے ،یہ کھیل کا میدان بھی ہے اور ادب کا ایوان بھی

Achalpur Mazar
اچلپور کے بیابانی میںواقع عبداللہ بیابانیؒ کا مزار اور وہ مشہور چبوترہ جوکئی تحریکات کا گواہ رہا ہے

 اچلپورمیرا وطن ہے۔ میرا سن پیدائش ۱۹۴۶ء ہے۔ میرا خاندان ۱۹۶۲ء میںاچلپور سے ہجرت کرکے امراؤتی آگیا۔ میں ۱۹۶۷ ء سے ۲۰۰۴ء تک بسلسلۂ ملازمت بروڑ میں رہا۔ پھر امراؤتی میں گھر بنایا اور فی الحال امراؤتی میں سکونت پذیر ہوں۔ دارالحجرت میں رہتے ہوئے بھی اچلپور میرے اندر سانس لیتا ہے۔ میرا’میں‘ مجھے باور کراتا رہتا ہے کہ ہم بروڑ؟...نہیں...امراؤتی... ؟ نہیں؟  اچلپور ؟ ہاں ہم اچلپور میں رہتے ہیں۔ اچلپور میرے اندر آباد ہے۔ میں اپنے ’میں‘ سے بھاگ کر کہاں جاسکتا ہوں۔ لہٰذا میں ..... اپنے ’میں‘ کے اندر ہی اپنے آپ کو دریافت کرتا رہتا ہوں۔اچلپور میں میرے گھر سے متّصل حضرت عبداللہ بیابانی ؒ کا مزار ہے۔ مزار کے خوبصورت گنبد کے سامنے ، گنبد سے ملحق ایک بڑا چبوترہ ہے جو پکے فرش سے مزین ہے۔ مذکورہ بزرگ کی نسبت سے محلے کا نام بیابانی ہے۔ بیابانی عہدِ قدیم سے اچلپور کی دینی ، ملّی، ادبی اور ثقافتی تحریکات کا مرکز رہا ہے۔ اردو کے معروف ہندو شاعر انباپرشاد طربؔ بیابانی میں رہتے تھے۔ ڈاکٹر سید نعیم الدین کا گھر اسی محلے میں ہے۔ طربؔ کو برار میں اردو کا پہلا صاحبِ دیوان ہندو شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اُسے شاعرِ اہل بیت بھی کہتے تھے۔ اچلپور کے متعدد قدیم شعراء طربؔ کے شاگرد ہوئے ہیں۔
  ڈاکٹر نعیم الدین کثیر اللسان عالم ادبیات تھے۔ آپ اردو ، عربی، فارسی، انگریزی، ترکی اور مراٹھی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ ڈاکٹر سید نعیم الدین جیسا کتاب دوست کوئی اور میری نظر سے نہیں گزرا۔ آپ نے اردو انگریزی، ترکی اور مراٹھی میں متعدد مقالات تحریر کئے ہیں۔ انشاء کا ترکی روز نامچہ حضرت نے اردو میں ترجمہ کرکے شائع کیا۔ عرفی ؔ کے غیر مطبوعہ قصائد کو آپ نے دریافت کیا۔ حضرت شاہ غلام حسین ایلچپوری کو پہلی بار سیّد نعیم الدین نے دریافت کرکے ادبی دنیا کے روبرو کیا۔ مراٹھی وشو کوش میں اردو فارسی ادیبوں اور شاعروں پر جو نوٹس شائع ہوئے ہیں، وہ آپ ہی کے قلم سےنکلے ہیں۔ اقبالیات کے سلسلے کی قابلِ قدر کتاب’ ’مرید ہندی‘ آپ کی تصنیف ہے۔ خوش فکر، خوش الحان شاعر صادق ایلچپوری بھی بیابانی کی دین  ہیں۔ آج بھی حیدر بیابانی، سید غلام علی بیابانی، متین اچلپوری، بیابانی ہی میں رہتے ہیں۔ حیدر بیابانی بچوں کے لئے مدّتوں سے نظمیں لکھ رہے ہیں۔ آپ کی متعدد کتابیں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان اوررحمانی پبلی کیشن(مالیگاؤں) نے شائع کی ہیں۔ سید غلام علی بیابانی معروف محقق ہیں۔ آپ نے کئی مخطوطات دریافت کئے۔ اُنہیں ایڈٹ کیا اور کار آمد مقدمات کے ساتھ اُنہیں شائع کیا ہے۔ متین اچلپوری بچوں کے معروف ادیب اور شاعر ہیں۔
 ان سب کا تعلق کسی نہ کسی طور بیابانی صاحب کے چبوترے سے رہا ہے۔حضرت محمد ابراہیم شرارؔ اور حضرت شیخ قاسم رضا کی دینی ، ملّی اور اصلاحی تحریکات میں بھی اہلِ چبوترہ ان کے دست و بازو رہے ہیں۔ اچلپور سے متعلق میری یادوں کا نقطۂ ارتکاز بیابانی صاحب کا چبوترہ ہے۔ بیابانی صاحب کا چبوترہ ، بیابانی کا دِل ہے، دربار ہے، چوپال  ہے یہی بتاتا ہے کہ اہلِ بیابانی کا کیا حال ہے۔ یہ کھیل کا میدان ہے، ادب کا ایوان ہے اور اہلِ بیابانی کی جان ہے۔ یہاں اہلِ بیابانی کی زندگی کے رنگ ڈھنگ کھلتےہیں۔ یہاں معلوم ہوتا ہے کہ کس کی کس سے جنگ ہے، کون کس کے سنگ ہے اور کون کتنا تنگ ہے۔ میرا مکان اس چبوترے سے بالکل لگا ہوا ہے۔ میں اس چبوترے کی دھوپ چھائوں ، اندھیرے اُجالے، صبح و شام ، دو پہر سبھی کا رازدار ہوں۔ اچلپور سے بچھڑے ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر بیابانی صاحب کا چبوترہ اپنی تمام خصوصیات اور روایات کے ساتھ میرے اندر سانسیں لے رہا ہے۔ یہیں ہم نے میرؔ و غالبؔ کو پڑھا، شعر کہے۔ عروض سیکھا، تقطیع کرنے کی مشق کی۔ اسی چبوترے پر ہمارے شعر لکھے گئے، پڑھے گئے۔ اسی صفحے پر حرف ناآشنا عبدالقدیر اور حسن ماموں کی مصوری کے نمونوں کی نمائش ہوئی، چوسر اور پہلوانی کے داؤ، پیچ سیکھے اور سکھائے گئے۔
  واضح رہے کہ جب میں ’ہم ‘ لکھتا ہوں تو اس سے مراد راقم الحروف اور معروف محقق سید غلام علی بیابانی ہیں۔ میلاد خوانی ، سوز خوانی، مرثیہ خوانی ہوتی رہی۔ یہاں لوگ اخبار پڑھتے ، حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کرتے اور ملّت اسلامیہ کا دم بھرتے۔ ڈھول کی تھاپ اور رثائی کلام کی لَے پر سِدّی کے میلے کے رقص کی تعلیم ہوتی۔ بھانڈ کے تماشے اور نکڑ ناٹک کی مشق ہوتی۔ خوش گویان بیابانی کی محفلیں سجتیں۔ گھروں میں چولھے ٹھنڈے ہوتے مگر خوش گویان بیابانی کی محفلیں گرم ہوتیں ۔ نہ اہل راحت سے پرخاش ہوتی نہ اپنے کاتب تقدیر سے شکایت۔ محرومیوں کے ساتھ جینے کا حوصلہ تھا۔ قضا و قدر نے جس مورچے پر کھڑا کردیا، ڈٹے ہوئے تھے۔ 
 ہمارا چبوترا ماشاء اللہ سحر خیز تھا۔ صبح کاذب سے پہلے چبوترہ جاگ اُٹھتا ۔ ہوں ہوں....ہوں ہوں...ہوں.. کے ہنکارے سارے محلے میں پھیل جاتے۔ لیجیے محلے کے پہلوان جمع ہوگئے۔ یہ مصروف ریاض ہیں۔ ہنکاروں کے ساتھ ڈنڈ بیٹھک لگا رہے ہیں۔بقدرِ ہمت و استعداد، ریاض کا سلسلہ جاری رہتا۔ اذانِ فجر سے ذرا پہلے یہ کام سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ نہا دھو کر نمازِ فجر پڑھتے ہیں۔ نماز کے بعد نمازی درگاہ شریف پر حاضر ہوتے ہیں، فاتحہ پڑھتے ہیں، سکونِ قلب کے ساتھ کچھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں کچھ وہیں چبوترے پر گنبد سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔یہ ماسٹرشبیر علی ہیں، چبوترے کے ایک سرے پر ایستادہ سنگی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں۔ کچھ دیر دم لیکر بلند آواز میں شروع ہوجاتے ہیں۔’’ سیّد بابا ! انڈے کا خاگینہ بن رہا ہے۔‘‘’’ شیخ محبوب! ......! مسور کی دال بن رہی ہے!‘‘ گھروں میں خواتین منھ میں دوپٹّے ٹھونس کر ہنستی ہیں۔ ’’مُردے کی ناک میں بڑا دم ہے........! سونگھ کر ہی مزے لے لیتا ہے۔!‘‘شبیر علی نے چبوترے پر زندہ دلی کا بگل پھونک دیا ہے۔ چبوترے کی نفری میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔لوگ لحاف پھینک کر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ حشر بپا ہو چکا ہے۔ لوگ چبوترے پر جمع ہورہے ہیں۔ لڑکے، لڑکیاں، چھوٹے بچے، بڑے۔ اپنی اپنی نشست جمارہے ہیں۔ لڑکیاں ’’بولی بولی‘‘ کھیل رہی ہیں۔ کچھ ’کاکن‘ (ٹوٹی چوڑیوں کے رنگ برنگے ٹکڑوں) سے کھیل رہی ہیں۔ لڑکے گولیاں، بھورے کھیل رہے ہیں۔ سورج چڑھ آیاہے، دھوپ کے ساتھ چبوترے کی رونق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ 
 لیجیے ’باشا‘ آگئے۔ چبوترے کے دونوں سروں پر دوسنگی کرسیاں لگی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک پر ’باشا‘ (بادشاہ؟) سریر آرا ہوئے۔ بچے باشا کے گرد جمع ہونے لگے ہیں۔ لڑکیاں بولی بولی اور دوسرے کھیلوں سے دستبردار ہو گئیں۔ لڑکے اپنی مصروفیت چھوڑ باشا کے گرد جمع ہوگئے ہیں۔ باشا کا اصل نام شیخ امیر ہے۔ مگر سب اُنہیں باشاکے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بچے تقاضہ کرنے لگتے ہیں ’’کیری کے ہجّے! باشا! کیری کے ہجّے!! ہاں!ہاں!! کیری کے ہجّے۔ باشا بچوں کو دیکھ کر مسکرارہے ہیں۔ ان کے تجسس کو ہوا دے رہے ہیں۔ آخر باشا رام ہوجاتے ہیں۔ بلند آواز میں شروع کرتے ہیں:’’.....۱  ب  پیش  کَے.....ج  ن  زبر ... ری. ..کیری....!!‘‘ ہنسی کا فوّارہ چھوٹتا ہے۔ قہقہے بکھر رہے ہیں۔ آس پاس گھروں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بچّے پھر تقاضہ کرتے ہیں....ایک بار اور ... ہاں ہاں ، ایک بار اور،  چبوترے پر موجود بڑے بھی اصرار کرتے ہیں۔ باشا مسکراتے  ہیں، پھر شروع ہو جاتے ہیں....ک  ل  زیر  کے....ق  م  پیش  ری...کیر ی ! !! .... ماحول پھر قہقہہ زار بنا ہوا ہے۔ آس پاس کے گھروں میں بھی سرورِ انبساط کی لہر دوڑ گئی ہے۔ باپ جو بیٹے پر ناراض ہورہا تھاہنس پڑتا ہے۔ خاتونِ خانہ جو کام کی زیادتی سے جھلائی ہوئی تھی، مسکرانے لگتی ہے۔باشاکے یہاں کیری کے ہجّے متعین نہیں ہیں۔ ہمیشہ ہجّے بدل جاتے ہیں۔ ہر بار نیا مزا، نیا جوش۔ باشاکے ہجّوں میں کہیں بھی کیری نہیں ہے، پھر بھی کیری موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK