خدا کی قسم تجھ پر آج تک انؐ سے زیادہ کسی معزز ومکرم شخص نے سواری نہیں کی

Updated: September 04, 2020, 8:37 AM IST | Maolana Nadeemul Wajidi

سیرت نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں گزشتہ ہفتے سفر طائف کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ آج ملاحظہ کیجئے نبی کریمؐ کے سفر معراج کی تفصیل۔ جب آپؐ براق پر سوار ہونے لگے تو اس نے شوخی کی جس پر حضرت جبریلؑ نے یہ بات کہی تھی

Masjide Aqsa
مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نماز کے بعد کا منظر۔ مسجد حرام مکہ مکرمہ سے مسجد اقصیٰ فلسطین کے سفر کو اسراء کہتے ہیں

مکہ مکرمہ میں رسول اللہ صلی اللہ کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا تھا، اس کی کچھ تفصیلات آپؐ کے سامنے آچکی ہیں، اس بدسلوکی کی آخری حد یہ تھی کہ آپؐ کو مکہ مکرمہ سے جو آپ کی جائے پیدائش، آپؐ  کا محبوب وطن، آپؐ کے آباءواجداد کی سرزمین تھا، سے نکال دیا گیاتھا۔ آپؐ اس خیال سے طائف کی طرف پیادہ پا عازم سفر ہوئے کہ شاید وہاں کے لوگ دین کی بات سن  لیں، لیکن وہ لوگ قریشِ مکہ سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے، انہوں نے نہ صرف یہ کہ آپؐ کی بات نہیں سنی، بلکہ آپؐ  کا مذاق اڑایا، آپؐ کی اہانت کی، آپؐ کے پیچھے اپنے اوباش و آوارہ لڑکوں کو لگایا، جنہوں نے پتھر برساکر آپؐ کو لہولہان کیا، آپؐ زخمی حالت میں، شکستہ دل کے ساتھ طائف سے باہر آئے، درد سمٹ کر آنکھوں میں آگیاتھا اور اشک مبارک رخساروں پر بہنے لگے تھے تب آپؐ نے اپنے رب سے یہ درد بھرا شکوہ کیا کہ میں کمزور وناتواں ہوں، بے سہارا ہوں، لوگ میری تذلیل پر تذلیل کئے جارہے ہیں، اے اللہ! تو میری مدد فرما، میری دست گیری کر، مجھے دشمنوں کے سپرد نہ کر۔ پیغمبر کی دُعا تھی، ربّ کائنات کا درِاجابت وا ہوا، جبریل امین خدا کا پیغام لے کر آئے، پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہوا اور مکہ وطائف کی آبادیوں کو پہاڑوں کے بیچ میں رکھ کر کچل دینے کی اجازت چاہی، مگر آپؐ نے اجازت نہیں دی کیوں کہ آپؐ سراپا رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے۔ آپؐ کے دل کے کسی گوشے میں امید کا یہ چراغ روشن تھا کہ ان لوگوں کی آنے والی نسلیں ایک اللہ کو مانیں گی، اس کی الوہیت کو تسلیم کریں گی، اسی ایک معبود حقیقی کے آگے سجدہ ریز ہوں گی، اگرچہ آج کی نسلیں اس کے اعتراف سے رو گرداں اور اس کی عبادت سے منحرف ہیں۔ بے کسی اور بے بسی کی انتہایہ تھی کہ آپ ؐ کو اپنے گھر واپس آنے کیلئے مکہ کے طاقتور لوگوں سے مدد مانگنی پڑی، دو لوگوں نے انکار کردیا، مطعم بن عدی نے پناہ دی، اور وہ عظیم ترین شخصیت جس کیلئے کائنات تخلیق کی گئی مطعم بن عدی اور اس کے بیٹوں کی تلواروں کے سائے میں حرم تشریف لائے۔ 
بے بسی کی یہ معراج ایک اور معراج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی، تاریک راتوں کے بعد طلوعِ صبح کی نوید آئی، نصرتِ الٰہی کی سحر نمودار ہوئی، اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کو رفعتِ مقام اور رتبۂ بلند سے نوازا، اور اپنا قرب خاص عطا کرنے کے لئے آسمان پر بلایا اور آپؐ  کو اس قدر رفعت وعظمت عطا فرمائی کہ مقرب ترین فرشتے اور تمام ملائکہ کے سردار حضرت جبریل امین بھی پیچھے رہ گئے۔ آپؐ  کو عرش اعظم تک لے جایا گیا جس کے بعد کائنات میں کوئی مقام نہیں ہے کہ تمام کائنات عرش پر ختم ہوجاتی ہے، کتاب و سنت میں عرش کے بعد کسی مخلوق کا وجود نہیں ملتا، اس سے آپؐ کی ختم نبوت پر بھی استدلال کیا جاتا ہے اور اس بات پر بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ نبوت و رسالت کے تمام کمالات آپؐ کی ذات والا صفات پر آکر ختم ہوگئے، مکہ مکرمہ سے آسمان کی بلندیوں تک کہ اس سفر کو اسراء اور معراج کہا جاتا ہے، قرآن کریم میں اس تاریخی سفر کا ذکر جمیل سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ نجم میں ہے۔
lاسراء اور معراج کی تعریف اور تاریخ:
یہ دونوں واقعات الگ الگ ہیں، اگرچہ ایک ہی رات میں پیش آئے۔
اِسْرَاء کے لغوی معنی ہیں رات کو لے جانا، یا لے کر چلنا، اور شریعت کی اصطلاح میں اس سفر کو کہتے ہیں جس میں رات کے  ایک حصے میں سرورِ کائنات رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد ِ حرام سے مسجد ِ اقصیٰ تک بُراق پر لے جایا گیا، یہ زمینی سفر تھا اور رات میں ہوا تھا اس لئے اس سفر کو اسراء کہا جاتا ہے۔  معراج کے معنی ہیں، سیڑھی یا زینہ، یہ لفظ عروج سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں، او پر چڑھنا۔ مسجد اقصیٰ سے آپؐ آسمانوں پر تشریف لے گئے، جنت سے آپؐ کے لئے ایک سیڑھی لٹکائی گئی جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر تشریف لے گئے۔ یہ واقعہ بھی اسی شب میں پیش آیا، اس سفر کو معراج کہا جاتا ہے۔ عام طور پر ان دونوں سفروں کو معراج بھی کہہ دیا جاتا ہے، مگر قرآن کریم نے ان دونوں کو الگ الگ دو مختلف سورتوں میں بیان کیا ہے، اسراء کا ذکر سورۂ اسراء (سورۂ بنی اسرائیل) کی پہلی آیت میں ہے، فرمایا: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی، جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں تاکہ ہم اُنہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھلائیں، بے شک وہ ہر بات سننے والی اور ہر چیز جاننے والی ذات ہے۔‘‘
معراج کا ذکر سورۂ نجم  میں ہے:
 ’’اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس فرشتے کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے، اس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے، اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے، اس وقت اس بیر کے درخت پر وہ چیزیں چھائی ہوئی تھیں، جو بھی اس پر چھائی ہوئی تھیں، (پیغمبر) کی آنکھ نہ تو چکرائی اور نہ حد سے آگے بڑھی، سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھ دیکھا۔‘‘ (النجم:۱۳؍تا۱۸)
قرآن کریم میں اسراء اور معراج کی بس اسی قدر تفصیل ہے، لیکن حدیث کی کتابوں میں بہت سی تفصیلات ہیں اور متعدد صحابۂ کرام سے یہ تفصیلات صحیح سندوں کے ساتھ مروی ہیں۔ علامہ قرطبیؒ نے نقاشؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس واقعے سے متعلق روایات متواتر ہیں، (تفسیر قرطبی)  حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں یہ تمام روایات پوری جرح وتعدیل کے ساتھ نقل کی ہیں، اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ واقعہ ٔ اسراء کی احادیث پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے، صرف ملحدین اور زنادقہ ہی ان احادیث کو تسلیم نہیں کرتے۔ (تفسیر ابن کثیر) جن حضرات صحابۂ کرامؓ سے یہ روایات منقول ہیں ان کے اسماء گرامی یہ ہیں، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت عائشہ الصدیقہؓ، حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت جابر بن عبداللہؓ، حضرت حذیفہ بن الیمانؓ، حضرت أبی بن کعبؓ، حضرت بریدہؓ، حضرت سمرۃ بن جندبؓ، حضرت سہل بن سعدؓ، حضرت شداد بن اوسؓ، حضرت صہیبؓ، حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ، حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ، حضرت عبد اللہ بن عمروؓ، حضرت عبد اللہؓ بن اسعد بن زرارہ، حضرت عبدالرحمنؓ بن قُرط، حضرت علیؓ بن أبی طالب، حضرت عمرؓ بن الخطاب، حضرت مالک بن صعصعہؓ، حضرت ابوامامہؓ، حضرت ابو ایوب الانصاریؓ، حضرت ابو حبۃؓ، حضرت ابو الحمراءؓ، حضرت ابو ذرغفاریؓ، حضرت ابو سعید الخدریؓ، حضرت ابوسفیان بن حربؓ، حضرت ابولیلیٰ انصاریؓ، حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ، حضرت ام ہانیؓ اور  ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ۔
معراج کا واقعہ کب پیش آیا، اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے تقریباً دس اقوال نقل کئے ہیں، یہ بات تقریباً طے ہے کہ معراج کا واقعہ شعبِ ابی طالب سے باہر آنے کے بعد پیش آیا، اس وقت حضرت خدیجہؓ اورحضرت  ابو طالب دونوں وفات پاچکے تھے، یہ بھی طے ہے کہ سفرِ معراج ہجرت سے پہلے ہوا، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو شعب أبی طالب سے    ۱۰؍ نبوی ؁میں باہر آنا ہوا، اس کے بعد طائف کا سفر ہوا، یہ سفر  ۱۰؍ نبوی؁ کے آخر میں یا  ۱۱ ؍ نبوی؁ کے شروع میں پیش آیا، جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ  طائف کے لوگوں کی بدسلوکی کے بعد، اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ﷺ کی دل جوئی اور سر بلندی کے لئے آپؐ کو آسمان پر بلایا۔ راجح قول یہ ہے کہ معراج رجب المرجب کی ستائیسویں تاریخ میںہوئی۔ (فتح الباری :۲/۳۰۸)
lاسراء کے واقعات:
مسجد حرام مکہ مکرمہ سے مسجد اقصیٰ فلسطین کے سفر کو اسراء کہتے ہیں، اسراء اور معراج کے سلسلے میں بہت سی روایات ہیں، مجموعی طور پر تمام واقعات کسی ایک روایت میں نہیں ہیں، کسی روایت میں اختصار سے کام لیا گیا ہے اور کسی میں تفصیل بیان کی گئی ہے، پھر ان روایات سے اسراء کے واقعات کو معراج کے واقعات سے الگ کرنا بھی سخت دشوار ہے، اور نہایت احتیاط کا متقاضی ہے، اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کو کہ انہوں نے دونوں کے واقعات الگ الگ کردیئے ہیں، عام طور پر مصنفین صرف اتنا بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام سے براق پر بٹھا کر مسجد اقصیٰ لے جایا گیا، وہاں پہنچ کر آپؐ نے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی امامت فرمائی، اس کے بعد آسمانوں پر تشریف لے گئے، مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے درمیان کیا واقعات پیش آئے زیادہ تر کتابیں ان سے خالی ہیں، البتہ مولانا کاندھلویؒ نے نہایت عرق ریزی سے روایات کو کھنگال کر اسراء کے واقعات الگ سے لکھے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی تحریر فرمایا ہے: ’’بہ ظاہر یہ تمام واقعات عروج سماء سے پہلے کے ہیں، اس لئے کہ روایات میں ان واقعات کا ذکر براق پر سوار ہونے کے بعد متصلاً اور مسجد اقصیٰ میں پہنچنے سے پہلے آیا ہے، اس لئے معلوم ہوا کہ یہ واقعات عروج سماء سے پہلے کے ہیں۔ (سیرۃ المصطفیٰ: ۱/۲۹۴)
حافظ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں کافی روایات جمع کی ہیں، احقر نے ان کا بہ غور جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ان روایات میں بیان کردہ کئی واقعات کا تعلق آسمانی سفر سے نہیں ہوسکتا، بہتر ہوگا کہ ہم ترتیب سے اس سفر کے واقعات بیان کریں۔
ایک رات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چچا زاد بہن حضرت ام ہانیؓ بنت ابو طالب کے گھر تشریف لائے، اور عشاء کی نماز پڑھی اور وہیں سو گئے، گھر کے لوگ بھی سو گئے، ابھی نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھے کہ یکایک چھت پھٹی، اور اس راستے سے حضرت جبریل امین کچھ فرشتوں کے ساتھ نیچے اترے، آپؐ کو جگایا اور اپنے ساتھ مسجد حرام میں لے گئے، وہاں جاکر آپؐ  حطیم میں لیٹ گئے اور سو گئے، کچھ دیر کے بعد جبریل اور میکائیل نے آکر آپ کو جگایا اور چاہِ زم زم پر لے گئے، آپ کو لٹا کر آپ کا سینۂ مبارک چاک کیا اور قلب مبارک نکال کر اسے زم زم سے دھویا اور اسے حکمت اور ایمان کے جواہر سے لبریز سونے کے ایک طشت میں رکھا، پھر یہ تمام جواہر آپؐ کے سینے میں بھرے گئے، قلب مبارک کو اس کی جگہ رکھ کر سینۂ مبارک رفو کردیا گیا، اور دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی گئی، اس کے بعد خچر سے کچھ چھوٹا اور گدھے سے کچھ بڑا ایک جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے، یہ جانور خصوصی طور پر جنت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لئے اتارا گیا تھا، براق لفظ برق سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں بجلی، کیوں کہ یہ جانور اپنی رفتار میں بجلی کی سی سرعت رکھتا تھا اس لئے اسے براق کہا جاتا ہے۔ سوار ہونے سے قبل براق کچھ شوخی کرنے لگا، جبریل امین نے اس سے کہا کہ اے براق! تو جانتا بھی ہے تجھ پر آج کون سوار ہونے والے ہیں، خدا کی قسم تجھ پر آج تک ان سے زیادہ کسی معزز و مکرم شخص نے سواری نہیں کی، یہ سن کر براق کی ساری شوخی جاتی رہی اور وہ شرمندگی کی وجہ سے پسینے پسینے ہوگیا۔ (سنن الترمذی:  ۵/۳۰۱،رقم الحدیث: ۳۱۳۱، البیہقی فی الدلائل: ۲/۳۶۲، ۳۶۳)
بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو براق پر بٹھایا گیا، حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے لئے ردیف بنے یعنی آپؐ کے پیچھے بیٹھے، راستے میں ایک ایسی سرزمین سے گزر ہوا جہاں کھجور کے بے شمار باغات تھے، حضرت جبرئیل نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! یہاں اتر کر نماز پڑھ لیجئے، آپؐ نے دو رکعت نفل پڑھی، جبریل امین نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپؐ نے کس جگہ نماز پڑھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں! عرض کیا: آپؐ نے یثرب (مدینہ منورہ) میں نماز پڑھی ہے، آپ یہاں ہجرت کرکے تشریف لائیں گے۔ اس کے بعد یہ قافلہ پھر روانہ ہوا، ایک اور مقام پر پہنچے، جبریل امین نے یہاں بھی نماز پڑھنے کے لئے کہا، آپؐ نے وہاں بھی نماز پڑھی، جبریل امین نے بتلایا کہ یہ وادئ سینا ہے اور آپؐ نے شجرۂ موسیٰ کے قریب اس جگہ نماز پڑھی ہے جہاں اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا تھا۔ نماز سے فارغ ہوکر آگے بڑھے، ایک جگہ پہنچ کر حضرت جبریل نے پھر نماز پڑھنے کے لئے کہا، آپؐ نے نماز پڑھی، جبرئیل امین نے بتلایا کہ یہ جگہ جہاں آپ نے نماز پڑھی ہے مدین ہے جو حضرت شعیب علیہ السلام کا مسکن رہا ہے، وہاں سے روانہ ہوئے، ایک اور جگہ یہ قافلہ پہنچا، حضرت جبریل امین نے یہاں بھی نماز پڑھنے کے لئے درخواست کی، آپ نے وہاں بھی نماز پڑھی، معلوم ہوا کہ یہ جگہ بیت اللحم ہے، یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK