جشن ِ جمہوریت

Updated: January 26, 2022, 8:53 AM IST | Mumbai

آج ہم سب یعنی ملک کے ۱۳۰؍ کروڑ عوام یوم جمہوریہ منا رہے ہیں۔ یوم جمہوریہ کیا ہے؟ جشن جمہوریت۔ یہ جشن مناتے ہوئے، جمہوریت کو زیادہ بامعنی بنانا اور اسے استحکام اور دوام عطا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

Republic Day
یوم جمہوریہ

آج ہم سب یعنی ملک کے ۱۳۰؍ کروڑ عوام یوم جمہوریہ منا رہے ہیں۔ یوم جمہوریہ کیا ہے؟ جشن جمہوریت۔ یہ جشن مناتے ہوئے، جمہوریت کو زیادہ بامعنی بنانا اور اسے استحکام اور دوام عطا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ کسی بھی ملک میں جمہوریت اپنے معنی و مفہوم کی کسوٹی پر تب تک پورا نہیں اُتر سکتی جب تک اسے ہر سطح پر برتا نہ جائے۔ یہ کام کسی ایک شخص کا نہیں ہے۔ کسی ایک ادارہ کا بھی نہیں ہے۔ یہ سب کا ہے۔ اُس شہری کا بھی جو دن کا بیشتر وقت محنت مزدوری کرتا ہے اور بمشکل تمام اپنے کنبے کی کفالت کرتا ہے اور اُس شہری کا بھی جو محل نما بنگلو ں میں رہتا ہے اور پانچ یا سات ستارہ ہوٹلوں میں میٹنگیں کرتا ہے۔ یہ اُس عوامی نمائندہ کا بھی فرض ہے جو الیکشن جیتنے کے بعد اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتا ہے اور اُس نوکر شاہ کا بھی جسے اپنی کدو کاوش کا معاوضہ اور محنتانہ تنخواہ کی شکل میں عوامی خزانے سے ملتا ہے۔ تاجر اور صنعتکار سے لے کر دکاندار تک، معلم سے لے کر مصور تک، افسر سے لے کر چپراسی تک، سرکاری ملازم سے لے کر نجی کمپنیوں کے کارندوں تک اور کھیتوں میں مامور مزدوروں سے لے کر ہول سیل یا ریٹیل مارکیٹ میں سب سے اونچی کرسی پر بیٹھنے والے ساہوکاروں تک۔ جی ہاں یہ سب کی ذمہ داری ہے۔ 
 مگر اُن لوگوں کی ذمہ داری زیادہ ہے جنہیں عوام نے اقتدار بخشا، اپنے نمائندہ کے طور پر منتخب کیا اور نمائندگی و قانون سازی کا موقع عطا کیا۔ اُن لوگوں کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے جنہیں اعلیٰ آئینی اداروں میں عوام ہی کی جانب سے اس لئے مقرر کیا گیا تاکہ عوام کے مفاد میں پالیسیاں بنائیں اور انہیں عوام ہی کے مفاد میں نافذ کریں۔ اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ کیا اہل اقتدار و اختیار مکمل طور پر جمہوری راستے پر گامزن ہیں؟ بہ الفاظ دیگر جمہوریت کے استحکام و دوام کے لئے ان کی کاوشیں کیسی ہیں؟اس سوال کے تین ہی جواب ہوسکتے ہیں۔ اطمینان بخش، جزوی اطمینان بخش اور عدم اطمینان کا باعث۔ اپنے ملک کے صاحبان اقتدار و اختیار کے بارے میں ہم سب کا جواب، ظاہر ہے، ایک نہیں ہوگا۔ مگر ایک ہوسکتا ہے اگر عوام خود جمہوریت کے وسیع تر مفہوم کو سمجھیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی میں جہاں جہاں اسے برتا جاسکتا ہو، برتیں۔ یہ مشورہ طبیعت پر بار ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے آپ کہیں کہ جناب، صاحبان اقتدار و اختیار کا محاسبہ نہ ہو اور عوام خود کو پابند کریں،  یہ کہاں کا انصاف ہے۔ یہ تاثر یا یہ سوال بالکل درست ہے مگر جمہوریت صرف اور صرف حکومت کا، وزراء کا اور سرکاری کارپردازوں کا موضوع نہیں ہے، یہ عوام کا بھی ہے۔ اگر عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اوپر سے اس کی خاطرخواہ فکر نہیں کی جارہی ہے تو وہ اپنی سطح پر اس کو برتیں اور اس خیالِ خام کو دل سے نکال دیں کہ جمہوریت یعنی الیکشن یا جمہوریت یعنی ووٹ دینا۔ جب عوام جمہوریت پر مکمل طور پر کاربند رہیں گے تو اہلِ اقتدار و اختیار کو بھی اس کی فکر کرنی پڑے گی۔ یاد رہے کہ جمہوریت اہل اقتدار کی حکومت، اہل اقتدار کے ذریعہ اور اہل اقتدار کیلئے نہیں ہے، یہ عوام کی حکومت، عوام کیلئے اور عوام کے ذریعہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام جمہوریت کو کس طرح برتیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عوام آئین کے مندرجات سے آگاہ ہوں، اپنے آئینی حقوق کو جانیں اور سمجھیں، فرائض کی ادائیگی کیلئے کمربستہ ہوں، دیگر شہریوں کے حقوق کی فکر کریں، جمہوری قدروں کے تئیں حساس ہوں، قومی وسائل کی قدر کریں اور یاد رکھیں کہ وسائل پر سب کا حق ہے۔ اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی اور اہل اقتدار و اختیار بھی اس کی پاسداری کی فکر کریں گے۔   n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK