سرحد پر چین نے اعصابی جنگ چھیڑ رکھی ہے

Updated: January 11, 2022, 1:43 PM IST | Hassan Kamal | Mumbai

یہ بات یاد رکھنا ہو گی کہ چین اب کوئی ایسی کارروائی نہیں کرے گا جس کے جواب میں ہندوستانی فوج استعمال کی جاسکے۔ چین نے اب کسی بھی جارحانہ کارروائی کیلئے اپنی فوجوں کے بجائےتکنالوجی استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

چینی صدر شی جن پنگ شاید اتر پردیش کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ سے بہت متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ آدتیہ ناتھ کو نام بدلنے کا بہت شوق ہے۔ انہوں نے مغل سرائے کا نام بدل کر دین دیال اپادھیائے نگر رکھ دیا۔ تاریخی شہرالہ آباد کا نام پریاگ راج کر دیا۔سنا ہے کہ وہ علی گڑھ اور بدایوں کے نام بھی بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اس بات پر اعتراض کرنا یا شکوہ کرنا غلط ہوگا۔جس شخص نے اپنا ہی نام بدل دیا ہوا س سے اور امید بھی کیا کی جا سکتی ہے۔ ان کا نا م اچھا خاصا اجے کمار بشٹ تھا، جسے انہوں نے آدتیہ ناتھ کر دیا اور اس میں یوگی کا لقب بھی جوڑ دیا۔ چین نے بھی کچھ ایسی ہی حرکت کی ہے۔ حکومت چین نے اعلا ن کیا ہے کہ یکم جنوری ۲۰۲۲ءسے ہندوستان کے صوبہ ارونا چل پردیش کو جانگ زانگ کہہ کر پکارا جائے جو اس کے مطابق اس کا قدیم اور تاریخی نام ہے۔ اسی کے ساتھ ارونا چل کے آس پاس کے کئی مقامات کے موجودہ نام بھی بدل کر ان کے چینی نام رکھ دیئے ہیں۔   در حقیقت یہ سب اس بڑی اعصابی جنگ کا حصہ ہے،جو چین نے ہندوستان کے خلاف ہند چین سرحدوں پر چھیڑ رکھی ہے۔یہ تنازع یوں تو ۱۹۵۰ ءسے چل رہا تھا، لیکن اس میں شدت ۱۹۶۲ ءمیں آئی، جب چینی فوجوں نے نیفا کے علاقہ میں ہندوستانی فوجوں پر حملہ کر کے انہیں سرحد سے کافی پیچھے ڈھکیل دیا۔اس کارروائی کے دوران چینی فوجوں نے اقصائے چین پر قبضہ بھی کر لیا ، جسے ہندوستان اپنا حصہ سمجھتا تھا۔ چین اس پر آج بھی قابض ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے ۵ ؍مئی ۲۰۲۰ء کو لوک سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا تھا کہ چاہے جان چلی جائے، لیکن وہ چین سے اقصائے چین چھین کر ہی دم لیں گے لیکن ہوا اس کے عین برعکس ۔ آج اقصائے چین کے علاوہ سکم اور لداخ کے بیچ کا ایک ہزارمربع کلو میٹر ہندوستانی علاقہ چین کے قبضے میں ہے۔   ۷۰؍ سالہ اس پرانے سرحدی تنازع کے دوران میں ہندوستان میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں۔  ۱۹۹۳ ءمیں نرسمہا رائو سرکارنے اس سلسلہ میں ایک اہم پیش رفت کی۔ اس نے ہندوستان اور چین میں ایک معاہدہ پر دستخط کئے، جس کی رو سے یہ طے پایا کہ دونوں ممالک کی سرحدوں کی رکھوالی کرنے والی فوجیں ہتھیار بند نہیں ہوں گی اور اگر کبھی کسی وجہ سے جھڑپ بھی ہو جائے تو ٹکرائو کے بجائے طرفین کے افسران اعلیٰ باہمی گفت و شنید سے معاملات رفع دفع کر لیا کریں گے۔ اس معاہدہ پر عمل ہوتا رہا، لیکن چین خاموشی سے اپنی سرحدوں کے اندر سڑکوں اور پلوں کے جال بچھاتا رہا۔۲۰۱۷ ءمیں پہلی بار ایسا لگا کہ دونوں فوجوں میں مسلح ٹکرائو ہو سکتا ہے۔ چینی فوجیں ارونا چل کی سرحد تک آگئیں اور ہندوستانی فوجیں بھی ڈٹ گئیں۔ لیکن تھوڑی لے دے کے بعد چینی فوج پیچھے ہٹ گئیں۔اس وقت تک نریندر مودی ہندوستان کے وزیر اعظم بن چکے تھے۔اس واقعہ کو ہندوستانی سفارت کاری کی فتح قرار دیا گیا۔ لیکن یہ صرف دکھاوا تھا، کیونکہ گزشتہ سال کی سردیوں میں جب ایل اے سی پر درجہ حرارت صفر سے بھی تیس چالیس ڈگری نیچے ہو جاتا ہے ، چینی فوجوں نے ارونا چل سے لے کر لداخ تک ہندوستانی فوج کو گشت کرنے سے روک دیا اور ایک طرح سے پورے ہندوستانی علاقہ پر قبضہ کر لیا۔ کچھ بہادر ہندوستانیوں نے ہر خطرہ مول لیتے ہوئے وادی گلوان میں اپنی کچھ زمین واپس لینے کی کوشش کی،جس کے نتیجہ میں کرنل سنتوش بابو سمیت ۲۰ ؍جوانوں نے دیش پر جانیں نچھاور کر دیں۔ اس دن سے آج تک دونوں فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کوئی مسلح جنگ تو نہیں ہو رہی ہے ، لیکن چین نے ایک اعصابی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ پہلے چینی فوجیوں نے لاوڈ اسپیکروں کے رخ ہندوستانی فوجوں کی طرف کر کے انہیں ایسے پنجابی گیت سنانا شروع کئے، جن میں گھر کی یادوں کا ذکر ہوتا تھا، یہ ان کے حوصلے پست کرنے کا حربہ تھا۔چونکہ اس علاقے میں ناقابل برداشت سردی ہوتی ہے۔ اس لئے پہلے تو چین نے ہندوستانی فوجوں کو یہ دکھانا اور بتانا شروع کیا کہ ان کے پاس اس سردی سے بچنے کے لئے کتنے اعلیٰ درجہ کے لباس موجود ہیں جو ہندوستانی فوجیوں کو میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے اب اس علاقہ میں ایسی گاڑیاں اتار دی ہیں، جو خود کار ہیں۔  اوراب انہوں نے فوجوں کے بجائے بڑے پیمانے پر روبٹس میدان میں اتار دیئے ہیں۔ ان روبٹس میں مشین گنیں فٹ ہیںاور انہیں کنٹرول کرنے والے بجلی سے گرم رکھے جانے والے کمروں میں آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں۔یہ سب دیکھ سن کرذہن میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ جب یہ تنازع ۷۰؍ سال پرانا ہے تو پھر گزشتہ دو سال میں ا س میں اتنا اضافہ کیوں ہو گیااور یہ کہاں جا کر تھمے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس اچانک اضافہ کا سبب دو سال پہلے اٹھایا جانے والا وہ اقدام تھا ،جس کے ذریعہ ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا اور لداخ کو مرکزی انتظام کار کا علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ جن لوگوں کااس فیصلہ لینے میں اہم کردارتھا،ان کے دماغ میں بس ایک ہی بات تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسا کرنے سے شمالی ہندوستان کے تقریباً تمام ہندوئوں اور جنوبی ہندوستان کے اپر کاسٹ ہندوئوں کے ووٹ ہمیشہ کے لئے بی جے پی کی جھولی میںگرتے جائیں گے۔ لداخ کے بارے میں انہوں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ لداخ کو تو چین ہمیشہ سے تبت کا حصہ اور تبت کو ہمیشہ سے چین کاحصہ بتاتا رہا ہے۔ جب لداخ کی حیثیت بدلی تو چین کا فوری رد عمل یہ تھا کہ ہندوستان نے چین کے علاقہ سے چھیڑچھاڑ کی ہے۔ بس اسی کے بعد سے چین کا رویہ سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ کشمیر کی بابت فیصلہ کرنے والے بی جے پی لیڈروں نے نہ تو تاریخ کا مطالعہ کیا ہے ، نہ ہی انہیں تاریخی حقائق کا علم ہے۔ انہیں اب معلوم ہو رہا ہے کہ ان سے سنگین غلطی سرزد ہوئی تھی۔ انہیں اب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ صورت حال اس وقت تک نہیں بدلے گی جب تک ۳۷۰ ؍کے خاتمہ سے پہلے کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت بحال نہ ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ یہ کرنا اس سرکار کے لئے تو اقدام خود کشی کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس کی تو تمام سیاست ہی جن چند مدوں کے ارد گرد گھومتی ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ان میں سے ایک ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ایل اے سی پر کسی بھی دن کو ئی بڑا اور غیر معمولی واقعہ ہو سکتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنا ہو گی کہ چین اب کوئی ایسی کارروائی نہیں کرے گا جس کے جواب میں ہندوستانی فوج استعمال کی جاسکے۔ چین نے اب کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لئے اپنی فوجوں کے بجائےتکنالوجی استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ۲۰۲۲ء کئی معاملات کے ضمن میں بہت فیصلہ کن سال ثابت ہو گا اور ان معاملات میں جموں، کشمیر اور لدخ کا معاملہ بھی شامل ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK