مشرق وسطیٰ کی طرف چین کے بڑھتے ہوئے قدم

Updated: April 08, 2021, 4:49 PM IST | Hasan Kamaal

مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی موجود گی اور چین کی موجودگی میں ایک واضح فرق ہوگا۔ پچاس سال سے عرب ریاستیں امریکہ کے اثر ہی میں نہیں بلکہ اس کی گرفت میں بھی تھیں۔ لیکن اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ان کالموں کے مستقل قارئین کو یاد ہوگا کہ تقریباًایک سال  پہلے ان کالموں میں چین اور ایران کے مابین ایک مجوزہ چار سوارب ڈالر کے معاہدہ کا ذکر کیا گیا تھا۔ لیکن ایک تو اس وقت یہ معاہدہ اٹھارہ صفحات پر مشتمل ایک تجویز کی صورت میں تھا، جس کی تفاصیل نہیں بتائی گئی تھیں، دوسرے اس کے فوراََ بعد کورونا کا قہر نازل ہو گیا ۔ بہت سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کورونا کے قہرکے باوجود دونوں ملکوں میں مختلف سطحوں پر مذاکرات جاری رہے۔ گزشتہ ہفتہ چین کے وزیر خارجہ جی وانگ یی تہران پہنچے اور صدر روحانی سے ملاقات کے بعد اس تاریخی معاہدہ پر دستخط ثبت کر دیئے گئے۔ ان کالموں میں پہلے بھی کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ نہ صرف اپنی طرز کا ایک تاریخی معاہدہ ثابت ہو گا بلکہ جنوبی ایشیاء کے تمام خطوں کے لئے بازی پلٹ کر رکھ دینے ولا ہو گا۔ ٹرمپ کی رخصتی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی روشنی  میں اس شش جہتی معاہدہ کے سائے دور  دور تک پھیلے دکھائی دیں گے۔ لیکن اس سے پہلے کہ اس معاہدہ کے اثرت اور نتائج  پر بات کی جائے ، معاہدہ کے اہم نکات کو جان لینا ضروری ہے۔ معاہدہ کے تحت ایران اگلے۲۵؍سال تک چین کو رعایتی نرخ پر تیل فراہم کرے گا۔ رعایتی نرخ کی وضاحت نہیں کی گئی ہے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ رعایت بڑی ہوگی۔ اس کے بدلے میں چین ایران کے تقریباًہر تجارتی شعبے میں سرمایہ کاری کرے گا۔ ایران میں پورٹ اور سڑکیں بنائے گا۔ مزید یہ کہ دونوں ممالک باہمی اشتراک سے اسلحہ سازی بھی کریں گے اور دونوں مل کر فوجی مشقیں بھی کریں گے۔ ایران کے تقریباًہر تجارتی شعبہ میں سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہو گا کہ ایران پر اگر امریکہ کی لگائی ہوئی پابندیاں جاری بھی رہیں تو ان کی حیثیت نہیں رہ جائے گی۔ 
 ایک عام تاثر یہ ہے کہ ایران کو ملنے والی ہر سہولت سعودی عرب کے لئے زحمت کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ بات بس ایک حد تک درست ہے۔ اس کی جڑیں یمن میں دونوں ملکوں کے مابین ایک بے معنی اور بے حد تباہ کن جنگ میں  پیوست ہے ۔ لیکن جیسا کہ ہم نے کہا  کہ ٹرمپ کے بعد کی دنیا میں حالات خود رویّوں میں تبدیلی کا سبب  بن رہے ہیں۔ بائیڈن کی سرد مہری دیکھ لینے کے بعد سعودی عرب کے لئے یہ ممکن نہیں رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں نئے د شمن پیدا کئے جائیں یا پرانے دشمنوں  سے دشمنی میں اضافہ کیا جاتا رہے۔  اس سے بھی قطع نظر چین اتنا بے وقوف نہیں ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کو کسی بے منطق دشمنی کے لئے تختۂ مشق بنا دے۔ چنانچہ ایران سے معاہدہ پر دستخط کرنے کے اگلے ہی دن چینی وزیر خارجہ وانگ یی سعودی شہر نیون پہنچ گئے۔ و انگ یی  نے  سعودی وزیر خارجہ فیصل بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ۔ خاصی طویل تھی یہ ملاقات۔ لیکن ملاقات کے اختتام پر کوئی لمبا چوڑا مشترکہ اعلامیہ نہیں جاری کیا گیا۔ یہ چینی حکمت سازی کا وطیرہ نہیں کہ لمبے چوڑے مشترکہ اعلامئے جاری کئے جائیں۔ جو کچھ ہوتا ہے، وہ تحریری دستاویزوں میں درج ہوتا ہے۔ بس اتنا کہا گیا کہ چین سمجھتا ہے کہ سعودی عرب کو اپنی پٹرولیم تنصیبات کے دفاع کے لئے ہر حق حاصل ہے۔  یہ بھی کہا گیا کہ چین اندرونی معاملات کے تحفظ کے لئے سعودی حکمرانوں کو مکمل حق  کے نظریہ سے اتفاق رکھتا ہے اور کوئی بیرونی طاقت اس پراپنے نظریات نہیں تھوپ سکتی۔
 کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں وانگ یی نے یمن کی جنگ ختم کرنے کیلئے ایک ۶ ؍نکاتی حل بھی تجویز کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین نے اس مسئلہ پر ایران سے بھی بات کر لی ہے۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ چین کسی بھی حال میں ایران کی سعودی عرب سے کسی عسکری تصادم کی طرفداری نہیں کرے گا ۔ بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی ایسی صورت حال کی شدید مخالفت کرے گا۔  ورنہ تو یران سے سیدھے سعودی عرب آنے کا کوئی مقصد ہی نہیں تھا۔
 وانگ یی متحدہ عرب امارات بھی گئے۔ وہاں انہوں نے ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا اسرائیل اور فلسطین قضیہ کا دو ریاستی فارمولہ کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ یعنی اسرائیل کی بغل میں آزاد ریاست فلسطین کا قیام عمل میں آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فلسطین اور اسرئیل کی قیادت کو چین آنے کی دعوت دیں گے۔ اس سے دو باتیں سمجھی جا سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ عرب ریاستوں کے اسرائیل کی طرف بڑھتے قدم رک جائیںگے۔  دوسرے یہ کہ اسرائیل کے لئے ٹرمپ کی رخصتی کے بعد اپنی ضد اور اپنے زعم پر جمے رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ یوں بھی اسرائیل کی سیاست اور معیشت کی بنیادیں لرز چکی ہیں۔
 مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی موجود گی اور چین کی موجودگی میں ایک واضح فرق ہوگا۔ پچاس سال سے عرب ریاستیں امریکہ کے اثر ہی میں نہیں  بلکہ اس کی گرفت میں بھی تھیں۔ عرب ریاستیں اور عرب میڈیا امریکہ کے خلاف  منھ نہیں کھول سکتا تھا۔ صدام حسین  کی ایک کمزور کویت پر فوج کشی نےامریکہ کو خطہ میں اپنی فوجی موجودگی کا جواز بھی فراہم کر دیا تھا۔ لیکن اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ امریکہ ایشیاء سے پوری طرح بے دخل ہو چکا ہے۔ عراق اور افغانستان میں اس کی بہت تھوڑی سی  فوج رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے عرب خطہ پر  ’جمہوریت‘ لادنے کی کوشش کو بھی اپنی موجودگی کا بہانہ بنا لیا تھا۔ اس کے عین بر خلاف چین مشرق وسطیٰ میں نہ اپنی فوجی موجود گی چاہتا ہے، نہ ہی عرب ریاستوں پر اپنا نظریہ تھوپناچاہتا ہے۔یوں بھی چین کا کمیونزم ایک بھونڈا مذاق بن چکا ہے۔ چین اس خطہ میں اپنی دولت لے کر آرہا ہے۔ وہ بھی اس طرح قرض کی صورت میں نہیں جس طرح عالمی بینک اور عالمی معاشی ادارے قرض کی صورت میں لاتے ہیں  ہیں بلکہ سرمایہ کاری اور ٹیکنا لوجیکل امددا کی صورت میں۔ اس لئے عرب ریاستوں کو چین سے خوف نہیں محسوس ہوتا۔ 
 ایک بین الاقوامی ماہر معاشیات  ڈاکٹر کشورمہبوبانی کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی چین کی صدی ثابت ہو گی۔ سنگاپور یونیورسٹی کے اس سابق پروفیسر نے پہلے چین کے ساتھ ہندوستان کا نام بھی لیا تھا۔ لیکن گزشتہ سات سال میں ہندوستانی معیشت کی دھجیاں بکھر جانے کے بعد اب انہوںنے ہندوستان کا نام ڈراپ کر دیا ہے۔  اس معاہدہ کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہندوستان اس فائدے سے دور ہے۔ ہندوستان نے ایران سے تیل کی خریداری بند کر کے اپنے مفاد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK