Inquilab Logo

مدھیہ پردیش اورچھتیس گڑھ میں کانگریس پہلے ہی کمزور ہوچکی تھی،راجستھان میں اس کی واپسی اہمیت رکھتی ہے

Updated: June 05, 2024, 2:00 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں لوک سبھا انتخابات کے نتائج حیران کن نہیں ہے۔ دونوں ریاستوں میں ۲۰۲۳ء میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔

Rajasthan.MP, Chhattisgarh. Photo: INN
راجستھان.ایم پی, چھتیس گڑھ۔ تصویر : آئی این این

مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں لوک سبھا انتخابات کے نتائج حیران کن نہیں ہے۔ دونوں ریاستوں میں ۲۰۲۳ء میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ یعنی دونوں ریاستوں میں بی جےپی کے اثرات جو اسمبلی انتخابات کے وقت قائم ہوئے تھے وہ باقی رہے اور عوام کی اکثریت نے پارلیمانی انتخابات میں بھی بی جے پی کےحق میں ہی فیصلہ کیا۔ ان ریاستوں میں کانگریس پہلے ہی کمزور پڑچکی تھی کیونکہ اس کی ریاستی لیڈر شپ خود کو انتخابی طورپرسرگرم رکھنے میں ناکام ثابت ہوئی تھی ۔ دوسری جانب راجستھان میں بھی کم وبیش یہی صورتحال تھی۔ یہاں بھی اشوک گہلوت کی قیادت میں کانگریس کو اقتدار سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن پارلیمانی انتخابات میں حیران کن طورپر ریاست کی ۲۵؍ سیٹوں میں سے کانگریس نے۸؍ سیٹوںپر جیت درج کی ہے ۔ ۲۰۱۹ء میں کانگریس کو ایک بھی سیٹ نہیںملی تھی۔ ایم پی میں بی جےپی نے تمام ۲۹؍سیٹوں پر قبضہ کرلیا ہے جہاں ۲۰۱۹ء میں کانگریس نے ایک سیٹ حاصل کی تھی۔
 مدھیہ پردیش کے انتخابی نتائج کا جائزہ اس سے قبل ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج کی بنیاد پرلیاجاسکتا ہے۔ ۲۳۰؍ اسمبلی سیٹوں میں سے بی جے پی نے ۱۶۳؍ سیٹیں جیتی تھیں جبکہ کمل ناتھ کی قیادت میں کانگریس کے حصے میں صرف ۶۶؍ سیٹیں آئی تھیں۔ کانگریس کو ۴۸؍ سیٹوں کا نقصان ہوا تھا جبکہ بی جے پی کو ۵۴؍ سیٹوں کا فائدہ ہوا تھا۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی انتخابی مہم کا آغاز  پرینکاگاندھی نے کیا تھا اور پارٹی نے اپنی مہم کسان، تعلیم ، بجلی ، صحت، روزگار، ایل پی جی اور ریزرویشن کے موضوعات  پر چلائی تھی ۔ پرینکا گاندھی کی انتخابی مہموں میں عوام کی بڑی تعدادکی شرکت سے حالات جو پیدا ہوئے تھے وہ و وٹ میں نہیں بدل سکے کیونکہ یہاں مقامی طورپر کمل ناتھ کا اثر ورسوخ باقی نہیں رہ گیاتھا۔ اس کے علاوہ وہ کانگریس اعلیٰ کمان سے ٹکراتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ دگ وجے سنگھ سے بھی ان کے اختلافات سامنے آئے تھے۔ ٹکٹوں کی تقسیم پر بھی کانگریس میں اندرونی طور پر چپقلش کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی جس پر کانگریس کارکنان احتجاج  پر بھی اترے تھے۔ اس کے نتائج کانگریس  کے حق میں ثابت نہیں ہوئے ۔ یہاں سے کانگریس جو غیر مستحکم ہوئی تو اب تک سنبھل نہیں سکی۔ پارلیمانی انتخابات میں وہ  تمام سیٹوں سے محروم رہ گئی۔مدھیہ پردیش میں اس کے بعداب کانگریس کی ریاستی اکائی پر نظریں ہیں۔ اس شکست کے ساتھ ہی کانگریس نےایم پی میں اپنی ریاستی اکائی کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ سمجھا جارہا ہےکہ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی میں بڑے پیمانے پر رد وبدل ہوسکتا ہے۔ ریاستی کانگریس کمیٹی فی الحال کمل ناتھ دگ وجے سنگھ، کانتی لال بھوریا ،ارون یادو اور اجے سنگھ راہل جیسے لیڈروں پر مشتمل ہے۔ ان میں کمل ناتھ اوردگ وجے سنگھ سب سے سینئر لیڈر ہیں اور سابق وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ کانگریس اعلیٰ کمان کمیٹی میں لیڈروںکی تعدادکم کرسکتی ہے ۔ ویسے بھی دگ وجےسنگھ اورکمل ناتھ کے بیٹے نکول ناتھ کی شکست کے بعد کانگریس تنظیم میں ان دونوں کے رول کے بارے میںکوئی اہم قدم  ضرور اٹھائے گی ۔ کانگریس کی نظر فعال لیڈروںپر ہے جن میں جیتو پٹواری سب سے آگے ہیں اور نوجوانوں میںپارٹی کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے سرگرم ہیں۔
راجستھان کے حالات بھی مدھیہ پردیش کی طرح ہی تھے لیکن یہاں اشوک گہلوت اورسچن پائلٹ نے پارٹی کو دوبارہ کھڑا کرنے کیلئےکافی محنت کی جس کے نتائج لوک سبھا انتخابا ت میں نظر آئے۔ راجستھان اسمبلی انتخابات میں بھی اشوک گہلوت اورسچن پائلٹ کے درمیان اختلافات ابھرے تھے لیکن یہاں معاملہ دگ وجے سنگھ اور کمل ناتھ کی طرح نہیں تھا۔ دونوں لیڈران پارٹی اعلیٰ کمان کے فیصلوںکی اہمیت سے واقف تھے اس لئےعوامی پلیٹ فارم پردونوں پارٹی کیلئے پابند عہد نظر آئے، بالخصوص سچن پائلٹ نے اس معاملے میں کافی سنجیدگی کا ثبوت دیا۔ بہرحال اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو ۷۰؍ سیٹیں ملیں جبکہ بی جے پی ۱۱۵؍سیٹوں پر قابض ہوگئی۔ کانگریس کوگزشتہ انتخابات کے مقابلے ۳۰؍سیٹوں کا نقصان ہوا تھا جبکہ بی جے پی کو۴۲؍ سیٹوں کا فائدہ ہوا تھا۔
اب یہاں لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے ۸؍ سیٹوں پر قبضہ کرلیا ہےجبکہ بی جےپی کے حصے میں۱۴؍ سیٹیں آئی ہیںجس سے ثابت ہوتا ہے کہ ریاست میں پسپا ہونے کے باوجود کانگریس نے ہمت نہیںہاری ۔ اس کے علاوہ راہل گاندھی ، پرینکا گاندھی ، سچن پائلٹ  اور اشوک گہلوت نے مل کر کارکنان میں نئی روح پھونکنے کا کام کیا ۔ کانگریس کا انتخابی منشورراجستھان میں کافی موضوع بحث بنا بالخصوص غریب گھرانوںکی ایک خاتون کے کھاتے میں  سالانہ ایک لاکھ  روپے  اور۴۰۰؍ سے ۵۰۰؍ میں گیس سلنڈر دینے کا وعدہ کارگر ثابت ہوا۔ عوام چند مہینوں میں ہی  کانگریس کے حق میں ہوگئے۔ یہ واپسی کانگریس کیلئے کسی کامیابی سے کم نہیں ہے۔ راجستھان ہندی پٹے کی ریاست ہےاور اس بیلٹ میں ان برسوں میں بی جے پی نے اپنا دبدبہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ ایسے میں کانگریس کا ۲۵؍ میں سے ۸؍ سیٹوں پرجیتنا واقعی اہمیت کا حامل  ہے۔ چھتیس گڑھ چھوٹی ریاست ہےجہاں بھوپیش بگھیل کی قیادت میں سابقہ کانگریس حکومت کواسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور پارلیمانی انتخابات میں بھی بگھیل کو شکست ہوئی ہے۔ یہاں معاملہ مدھیہ  پردیش کی طرح  ہی ہے۔ اس ریاست پربھی فی الوقت  بی جے پی کے گہرے اثرات ہیں جنہیں کانگریس  یوپی اور مہاراشٹر کی طرح کسی اتحادی کے ساتھ کے بغیر آسانی سےمٹا نہیں سکتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK