کورونا کا خطرہ بمقابلہ معاشی خطرہ

Updated: April 11, 2021, 7:59 PM IST

مہاراشٹر میں عائد کی گئی سخت پابندیوں کے خلاف دکاندار بھی احتجاج کررہے ہیں، ہوٹل اور ریستورانوں کے مالکان بھی اور دیگر بیوپاری بھی۔ ہم ان سب کی پریشانی کو سمجھتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں کے موقوف رہنے سے عام آدمی کو ہونے والی دشواریوں کا بھی ہمیں احساس ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 مہاراشٹر میں عائد کی گئی سخت پابندیوں کے خلاف دکاندار بھی احتجاج کررہے ہیں، ہوٹل اور ریستورانوں کے مالکان بھی اور دیگر بیوپاری بھی۔ ہم ان سب کی پریشانی کو سمجھتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں کے موقوف رہنے سے عام آدمی کو ہونے والی دشواریوں کا بھی ہمیں احساس ہے۔ اس کالم میں ہم کئی مرتبہ حکومت کی توجہ چھوٹے بیوپاریوں کے معاشی نقصان کی جانب مبذول کروا چکے ہیں۔ اس کے باوجود ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ پچھلے سال جب لاک ڈاؤن کی مدت میں بار بار توسیع کی گئی تب تو اس طرح کی مزاحمت دیکھنے کو نہیں ملی تھی! اسی لئے، ایسا لگتا ہے کہ فی الحال جو احتجاج ہورہا ہے اسے سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔  سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے بہت اچھا کیا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ اُدھو ٹھاکرے کو خط لکھ کر اُنہیں چھوٹے دکانداروں، تاجروں اور خردہ فروشوں کی تکالیف سے آگاہ کیا اور یہ بھی کہا کہ حکومت نے پابندیاں عائد کرنے سے پہلے اُنہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ ہمیں یاد ہے کہ جب گزشتہ سال مرکز نے محض چند گھنٹوں کی اطلاع پر لاک ڈاؤن لگایا تھااُس وقت بھی کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ دوسری توسیع اور تیسری توسیع کے وقت بھی عوام کے اپنے احساس کو پیشگی اطلاع کا درجہ حاصل ہوگیا تھا جس کے تحت وہ پیش گوئی کردیتے تھے کہ دیکھنا لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوگا۔ حکومت نے عوامی پریشانیوں کو نہیں سمجھا تھا۔ مزدوروں کی کیا درگت بنی اسے پوری دُنیا نے دیکھا۔ اس کے باوجود اُس وقت کوئی مزاحمت  نہیں ہوئی۔ جن ماہرین نے سخت لاک ڈاؤن کو موضوع بحث بنایا اور دیگر ملکوں میں لگائی جانے والی پابندیوں کا ذکر کیا تھا، اُن کی یہ بات بالکل نہیں سنی گئی کہ سخت لاک ڈاؤن ملک کی معیشت کو تباہ کر دے گا۔ ویسا ہی ہوا۔ ایک سال تک صنعتی و تجارتی شعبے مسلسل نقصان سے دوچار رہے۔ اگر اُس وقت اتنی سختی نہ برتی گئی ہوتی تو ان کی معاشی قوت اتنی کم نہ ہوجاتی جتنی کہ کئی ماہ کی تالہ بندی کی وجہ سے ہوئی۔ سیاست سے قطع نظر، یہ حقیقت ہے کہ بازار ایک دن بند رہیں تو دکانداروں کو بھی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے اور گاہکوں کو بھی۔ دونوں ہی کے نقصان پر موقوف نہیں، تیسرا نقصان ریاست اور مرکز کی حکومتوں کا ہوتا ہے۔ اگر دکانداروں کو منافع نہیں ملتا تو گاہک مطلوبہ اشیاء خرید نہیں پاتے۔ ریاستی حکومت کو ٹیکس نہیں ملتا اور مرکزی حکومت کی آمدنی بھی متاثر رہتی ہے۔ اتنا ہی نہیں، ملک کی جی ڈی پی تھم جاتی  ہے اور معاشی نمو ماند پڑ جاتی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان اُن لوگوں کا ہوتا ہے جن کی وکالت ہم نے اس کالم میں بار بار کی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں یا اتنا چھوٹا کاروبار کرتے ہیں کہ ایک دن دکان یا خوانچہ نہ لگائیں تو اُن کے کھانے پینے کے لالے پڑ جائیں۔  اُدھو ٹھاکرے کی قیادت میں جاری مہاراشٹر کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کیلئے کورونا سے نمٹنے کا چیلنج بھی اُتنا ہی بڑا ہے جتنا کہ تاجروں اور عوام کو مطمئن کرنا۔ اس کیلئے درمیانی راستے کے انتخاب ہی میں دانشمندی ہے۔ سنیچر،اتوار کا مکمل لاک ڈاؤن اور بقیہ دنوں میں الگ الگ اوقات کے ساتھ خاطر خواہ رعایت مسئلہ کا بہترین حل ہوسکتا ہے تاکہ کورونا کے خطرہ سے نمٹنے کی کوشش کے طور پر بھیڑ بھاڑ کا امکان بھی کم سے کم رہے اور کاروبار بھی جاری و ساری رہیں۔ مہاراشٹر میں کھلی چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔ متاثرین کی تعداد میں (خدانحواستہ) غیر معمولی اضافہ ہوا تو ریاست کی بدنامی ہوگی اور مخالفین کو کہنے سننے کا موقع ملے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK