بنگلہ دیش اور ویتنام کی معاشی سبقت

Updated: February 15, 2021, 11:02 AM IST | Editorial

اس حقیقت سے اب ہر خاص و عام واقف ہوچکا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان جو تجارتی جنگ چھڑی وہ ٹرمپ کے دور کا ایسا بوجھ ہے جسے بائیڈن انتظامیہ ڈھونا نہیں چاہے گا مگر اس سے پہلے کہ آخر الذکر کی جانب سے تلافی ٔ مافات کی کوشش ہو، چین کا جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا۔

Economic Growth - Pic : INN
معاشی سبقت ۔ تصویر : آئی این این

 اس حقیقت سے اب ہر خاص و عام واقف ہوچکا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان جو تجارتی جنگ چھڑی وہ ٹرمپ کے دور کا ایسا بوجھ ہے جسے بائیڈن انتظامیہ ڈھونا نہیں چاہے گا مگر اس سے پہلے کہ آخر الذکر کی جانب سے تلافی ٔ مافات کی کوشش ہو، چین کا جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا۔ بائیڈن چین سے تجارتی صلح کرلیں تب بھی جو کمپنیاں چین سے رُخصت ہوچکی ہیں اُن کا لوٹ کر آنا ممکن نہیں جبکہ اُنہیں، اُن ملکوں ( بنگلہ دیش اور ویتنام) میں کوئی ایسی پریشانی بھی نہیں کہ وہ لوَٹ کر چین واپس جانے کو ترجیح دیں۔
  چین کو خیرباد کہنے والی کمپنیوں کیلئے ہندوستان بہتر متبادل ہوسکتا تھا مگر انہیں بنگلہ دیش اور ویتنام میں زیادہ کشش محسوس ہوئی۔ یہ بات ہمارے لئے افسوسناک ہے کہ اُنہوں نے ہندوستان کو ترجیح نہیں دی۔ اس کی وجوہات کا سب کو اندازہ ہے۔ مودی حکومت کو تجارت و معیشت کے نقطۂ نظر سے بہتر مانا جارہا تھا مگر اس حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے سات سال کا عرصہ ہورہا ہے، مگر تجارت و معیشت سے اس کی خصوصی رغبت اور دوستی اب تک کوئی ایسا گل کھلانے میں ناکام ہے جسے اس حکومت کا طرۂ امتیاز قرار دیا جاسکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اِس دور میں ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘‘  (تجارتی و معاشی آسانیاں) میں بہتری آئی مگر اس کے نتیجے میں ہمیں جو معاشی فائدہ ملنا چاہئے تھا، وہ نہیں ملا۔ ویتنام نے معاشی اصلاحات ۱۹۸۶ء میں نافذ کی تھیں،یعنی ۱۹۷۰ء کی دہائی میں ہونے والی چین کی معاشی اصلاحات کے بعد مگر ۱۹۹۰ء کی ہندوستانی معاشی اصلاحات کے پہلے،  مگر اس نے جو معاشی فائدے حاصل کئے، ہندوستان نہیں کرسکا۔ہم بیرونی سرمایہ کاروں کو رجھانے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے۔ 
 تجارت و معیشت کیلئے سماجی و سیاسی حالات بھی بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کار اپنے سرمائے کے تحفظ اور اس میں اضافے کی خاطر سماجی و سیاسی حالات پر خاص نظر رکھتے ہیں۔ اسی لئے بار بار کہا جاتا ہے کہ ملک میں جس قسم کے حالات پیدا کردیئے گئے ہیں، حکومت اُن کا سختی سے نوٹس لے اور ان کے ذمہ داروں کو سبق سکھائے تاکہ وہ آئندہ کیلئے متنبہ ہوجائیں مگر اس جانب کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس دور میں چھوٹی سے چھوٹی خبر بھی دور دور تک پہنچتی ہے لہٰذا یہ سمجھنا غلط ہے کہ سیاسی و سماجی حالات چاہے جیسے ہوں، تجارتی و صنعتی ادارے ہمیں کو ترجیح دیں گے کیونکہ ہم بہت بڑی صارف مارکیٹ ہے۔ چین سے نکلنے والی کمپنیوں کا ہندوستان کی طرف نہ دیکھنا اور بنگلہ دیش، ویتنام یا تھائی لینڈ کا رُخ کرنا ہمارے لئے ایک سبق ہونا چاہئے۔
 اس پس منظر میں حکومت کو پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی فار کامرس کی تجاویز پر خصوصی توجہ ضروری ہے جن میں بعض اشیاء و مصنوعات پر جی ایس ٹی کم کرنے سمیت کئی دیگر اُمور پر توجہ دلائی گئی ہے تاکہ سرزمین ہندوستان بیرونی سرمایہ کاروں کی ترجیحات میں شامل ہوسکے۔اس کمیٹی کے سربراہ، وائی ایس آر کانگریس کے لیڈر وی وجے سائی ریڈی نے گزشتہ دنوں بتایا کہ ملک میں قرض کے حصول میں دقتیں، زمین کے حصول کی دشواریاں، انفراسٹرکچر کی کمی، نقل و حمل کے مسائل اور کئی طرح کے اجازت ناموں کی شرط کے سبب بیرونی سرمایہ کار ہچکچاتے ہیں۔
  کیا حکومت اپنے شہریوں کے مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے بیرونی سرمایہ کاروں کو رجھا سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ اس کی ذہانت و مہارت پر منحصر ہے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK