الیکشن کمیشن کا امتحان

Updated: April 08, 2021, 4:59 PM IST

ملک کی ۵؍ ریاستوں میں انتخابات جاری ہیں۔ ان انتخابات کا پُرامن انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن کمیشن کو اِس بات کی بھی ضمانت دینی ہوتی ہے کہ ایک ایک بوتھ پر پولنگ کا عمل منصفانہ ہوگا اور نہایت رازداری کے ساتھ تکمیل کو پہنچے گا۔

Elections Commission of India.Picture:INN
الیکشن کمیشن آف انڈیا۔تصویر :آئی این این

ملک کی ۵؍ ریاستوں میں انتخابات جاری ہیں۔ ان انتخابات کا پُرامن انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن کمیشن کو اِس بات کی بھی ضمانت دینی ہوتی ہے کہ ایک ایک بوتھ پر پولنگ کا عمل منصفانہ ہوگا اور نہایت رازداری کے ساتھ تکمیل کو پہنچے گا۔ سیاسی جماعتوںکی رسہ کشی بلکہ جوتم پیزار سے خود کو غیر متاثر رکھتے ہوئے کمیشن کے افسران اور ماتحت عملہ اس بات کیلئے کوشاں رہتا ہے کہ انتخابی مہم اور ریلیوں میں ایک دوسرے پر جتنا بھی کیچڑ اُچھالا جائے، اس کا ایک ذرہ بھی پولنگ بوتھ تک نہ پہنچے۔ 
 پُرامن اور منصفانہ انتخابات کے باب میں الیکشن کمیشن کی تعریف و توصیف ہوتی رہی ہے ۔ بیرونی ملکوں نے بھی ہمارے انتخابی عمل کی نہ صرف ستائش کی ہے بلکہ وہاں کے ماہرین نے یہاں آکر پورے پروسیس کو سمجھا ہے تاکہ اپنے ملکوں کیلئے اس نظام سے استفادہ کرسکیں۔ مگر یہ تصویر کا ایک رُخ ہے۔ دوسرا رُخ یہ ہے کہ کمیشن کبھی بھی الزامات سے محفوظ نہیں رہا۔ گزشتہ کئی برسوں سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں(ای وی ایم) موضوع بحث ہیں۔ یہ معاملہ عدالتوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ ہم اس بحث میں نہ پڑتے ہوئے حالیہ چند واقعات پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ آسام کے ایک حلقے میں مبینہ طور پر بی جے پی کے ایک رُکن اسمبلی کی گاڑی میں ای وی ایم کا ملنا تشویش کا باعث ہے۔ ہم خواہ مخواہ بدگمان ہونے یا الزام لگانے کے قائل نہیں ہیں مگر جب بے ضابطگی کا کوئی ایک واقعہ سامنے آتا ہے تو لامحالہ یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اور بھی معاملات تو نہیں  جو منظر عام پر نہیں آسکے؟ 
 دوسرے مرحلے کی پولنگ کے دوران آسام کے دیما ہساؤ ضلع میں ایک پولنگ بوتھ پر صرف ۹۰؍ ووٹرس کے نام تھے۔ سو فیصد پولنگ ہوجاتی تب بھی ۹۰؍ ووٹ ہی پڑتے لیکن اس جگہ ۱۷۱؍ ووٹ پڑے۔ خبروں کے مطابق الیکشن کمیشن نے فوری طور پر پانچ افسران کو معطل کردیا ہے مگر اس واقعہ کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تفتیش ضروری ہے۔ ہرچند کہ سیاسی جماعتوں کی الزام تراشی کے تعلق سے ایک تاثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا سبب بھی سیاسی ہی ہوگا مگر جب کوئی شکایت شدومد سے کی جاتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اسے صرف سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ نندی گرام میں جو حالات پیدا ہوئے، جن میں ممتا بنرجی کو دو گھنٹے رُکنا پڑا، انہیں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ الیکشن کمیشن کو اس کی بھی تفتیش کروانی چاہئے کہ اس دن کیا ہوا تھا۔ اِدھر کیرالا سے بھی بے ضابطگی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔بلاشبہ اِس وقت الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح پانچوں ریاستوں میں الیکشن کے مختلف مراحل کو منظم کرنا ہے۔ یہ اتنی بڑی مشق ہے کہ اس کی انجام دہی آسان نہیں۔ اسی لئے ہم کمیشن کی خدمات کو لائق ستائش سمجھتے ہیں مگر جب پولنگ کسی بھی بے ضابطگی کے بغیر ہوگی تو کمیشن کا وقار کچھ اور ہوگا۔ 
 چونکہ ای وی ایم سے بہتوں کو اطمینان نہیں ہے اور کمیشن کیلئے یہ بے اطمینانی مستقل دردِ سر ہے اسلئے ملک کے اس مایہ ناز اور خود مختار ادارہ کو تمام اُمور بے داغ رکھنے میں بالکل بھی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ اس کیلئے انتخابی عملے کو وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کرنا اور کسی بھی کوتاہی کے خلاف سخت چارہ جوئی کے انتباہ کا اعادہ کرنا ازحد ضروری ہے۔ ایسا انتخابی نظام جسے قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، بے ضابطگیوں کی وجہ سے اپنی ساکھ مجروح کرے یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK