نوجوانوں کی ترجیحات پر پوری قوم کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے

Updated: March 08, 2020, 5:17 PM IST | Mubarak Kapdi

کسی بھی قوم کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کی نئی نسل کیا چاہتی ہے؟ اس کی سوچ کیا ہے ؟ اس کی ترجیحات کیا ہیں؟ اور حصول کامیابی کیلئے اس کا طریقہ کار کیا ہے؟ مثبت سوچ کے ساتھ ہی سرخروئی حاصل کی جاسکتی ہے

College Students - Pic : INN
کالج کے طلبہ ۔ تصویر : آئی این این

نوجوانو! سائنس ،ٹیکنالوجی اور جدید علوم کے محاذ پرمسلما نوں کے زوال کی کہانی سننے سے پہلے اُس کے عروج کا شاندار اور تابناک احوال بھی سُن لیں۔
 آج سے۱۲۰۰؍ سال قبل جب نہ بجلی تھی اور نہ سائنس کا بول بالا۔ اُس دور میں جابر بن حیانؔ نے دُنیا کو علمِ کیمیا (کیمسٹری) سے متعارف کرایا۔ اُسی نے عمل تصعید، فلٹر کرنا، فلماؤ کرنا، تیزاب بنانا، چمڑے کو رنگنے اور لوہے کو زنگ سے بچانے کے طریقے بھی دُنیا کو بتائے۔
آج سے ایک ہزارسال قبل جب دُنیا سائنس سے ناواقف تھی، ابوالقاسم زہراوی نے دُنیا کو سرجری سے متعارف کرایا۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اُس اندھیرے زمانے میں زہراوی نے موتیا بند کا آپریشن کیا، حلق کے غدود بڑھ جانے پر تحقیق کی نیز اُس نے آپریشن کرنے کے بہت سے آلات ایجاد کئے۔ اُس نے گردے اور آنتوں کے آپریشن کے اُصول بتائے۔ 
دسویں صدی میں ابو عبیداللہ البنانی نامی سائنس داں نے ثابت کیا کہ سورج کے گرد زمین جس مدار پر گھومتی ہے وہ دائروی نہیں بلکہ بیضوی شکل ہے۔ وہ علمِ ریاضی کا بھی ماہر تھا اور علمِ مثلث میں اُس کی دریافتیں بعد میں صحیح ثابت ہوئیں۔
  ۹۴۰ء میں پیدا ہوئے ابوالوفا بو زجانی نے علمِ ریاضی میں کمال کی تحقیق کی۔علمِ ہندسہ میں اُس نے۶؍،۸؍ یا ۱۰؍ ضلعوں کی نہیں بلکہ ۷؍ ضلعوں کی شکل یعنی منتظم مسبّع بنائی۔ بوزجانی علمِ ہیئت کا بھی ماہر تھا، اُس نے سائنسی طریقے سے ثابت کیا کہ سورج میں کشش ہے اور چاند گردش کرتا ہے۔ علم مثلث میں رائج  زاویوں کے جیب (سائن ) معلوم کرنے کا طریقہ بھی بوزجانی نے دریافت کیا۔
 محمد بن موسیٰ خوار زمی (وفات: ۸۵۰ء)کی ’علم الحساب‘ اور علم ریاضی  کے عنوان سے لکھی ہوئی دو کتابیں منظر عام پر آئیں تو یورپ تک ہندسی علم پہنچا اور یورپی ممالک میں اِن دو کتابوں کے تراجم شائع ہو کر ہاتھوں ہاتھ بِکے۔
ابوالحسن علی احمدنسوی کےریاضی میں دوبڑے کارنامے یہ تھے کہ اُس نے جذر اور جدا لمکعب  کے طریقہ اور اعشاریہ کی ایجاد کی۔ البتہ اُس سے بڑے کارنامے یہ تھے کہ اُس نے وقت کی تقسیم اور اُس کیلئے یہ پیمانہ  دریافت کیا:ایک ساعت (گھنٹہ) = ۶۰ منٹ =  دقیقہ اور ایک دقیقہ (منٹ) = ۶۰ سکنڈ =ثانیہ
  ابو علی حسن ابن الہشیم (ولادت: ۹۶۵ء) نے روشنی اور حرارت کی اصلیت اور حقیقت پر تحقیق کی۔ انعطاف نور کا نظریہ، کروی آئینوں کے ذریعے روشنی کی تحقیق اور آنکھ کی بناوٹ پر تحقیقی  مقالے لکھے ۔ اِن تمام مقالوں کے ترجمے انگریزی  اور لاطینی زبان میں ہوئے۔ 
  مسند بن علی (وفات: ۸۶۴ء) دھاتوں کا ماہر تھا۔ اُس نے بہت ہی قیمتی دھاتوں پر تجربے کئے اور اُن کا صحیح وزن معلوم کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔ موجودہ زمانے کی دھاتوں کی کثافت اضافی مسند بن علی کے ذہن کی اُپج تھی۔
حسن بن موسیٰ (وفات: ۸۷۳ء) علمِ ہندسہ کا ماہر تھا۔ اس سائنس دان نے دُنیا کو دائروی تھیوری سے نکال کر بیضوی تھیوری سے آشنا کیا۔
  ابوبکر محمد زکریا رازی (وفات: ۹۳۳ء) ایک سائنس داں تھا اور ایک اعلیٰ درجے کاطبیب بھی! رازی علم طبیعات کا ماہر تھا اور کیمیا کا بھی۔ اس عالی دماغ طبیب نے مرض چیچک پر بھی زبردست تحقیق کی۔ عمل جراعی (سرجری)  میں استعمال ہونے والے آلہ نشتر بھی رازی ہی نے دریافت کیا۔
 البیرونی (وفات: ۹۷۲ء)کی سائنسی خدمات بے مثل ہیںمثلاً البیرونی نے سب سے پہلے زمین کا نصف قطرمعلوم کیا۔ البیرونی نے کئی کتابیں لکھیں، اُن میں سب سے مشہور آثار الباقیہ ، ہے جس کا فوری طور پر انگریزی میں ترجمہ ہوا۔
 اِن کے علاوہ بو علی سینا، عمر خیام  اور ابوالحسن علی عبدالرحمان وغیرہ ان گنت مُسلم سائنسداں اور حکماء نے بے شمار تحقیقات کیں اور اُن کے تحقیقی مقالے کے ترجمے انگریزی ، فرانسیسی اور اطالوی زبانوں میں ہوئے جن سے مغرب نے خوب خوب فائدہ اُٹھایا۔ 
 علم،تحقیق اورسائنس کے محاذ پر ہمارے پُرکھوں کی اس تابناک تاریخ سے آج نئی نسل کو آگاہ کرنے کا ہمارا مقصد یہ تھا کہ اُسے معلوم ہو جائے کہ ہم نے ساری دُنیا پرعلم و عرفان کے خزانے لُٹائے ہیں۔ اب ہماری قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنے اسلاف کے اِن بیش قیمت  کارناموں کو گنا گنا کر چپ بیٹھ جاتے ہیں یعنی ’پدرم سلطان بود‘ کی مئے پلائی ، مدہوش کر دیا اور اُسی مدہوشی میں نعرہ بلند ہوا اور قصّہ ختم.... اور اسی لئے جدید سائنس میں ہم نے کوئی پیشِ رفت نہیں کی۔لیجئے اب اس کے آگے کا قصہ سُن لیجئے۔ 
 اُس کے بعد ہمارے پاس تخت و تاج ، کوہ نور، تخت طاؤس، دیوانِ خاص آگیا۔ ہمارے سارے ’ ظلِ الٰہی رقص و سرور میں ایسے ڈوب گئے کہ انہیں پھر خبر نہیں ہوئی کہ دنیا میں کیا چل رہا ہے۔ ملاحظہ کیجئے  اس درمیان دوسری قوموں کے مقابلے ہمارا حال اور ہماری چال : 
  مسلم بادشاہوں کے دربار میں فنونِ لطیفہ سے جُڑے سارے ماہرین کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا مگر کبھی کسی سائنس داں کی قدر نہیں ہوئی حتیٰ کہ اکبر کے نورتنوں میں بیربل جیسا مسخرہ بھی شامل تھا مگر کوئی سائنس داں نہیں۔ سمت دکھانے والی کمپاس عربوں کی ایجاد تھی مگر اسے کیا کیجئے کہ اُس ایجاد سے واسکوڈی گاما اور کولمبس نے کئی بحری راستے دریافت کئے لیکن افسوس کہ مُسلمان وہ کام نہیں کر سکے۔ 
شاہ جہاں کے دور میں یعنی  ۱۶۲۷ء سے ۱۶۵۸ء تک عیسائی اور یہودی سائنس دانوں نے ٹیلی اسکوپ، لوگارتھم، مائیکر میٹر، محددی علمِ ہندسہ، بیرو میٹر اور پینڈولم گھڑی بلکہ فرانس کے سائنس داں پاسکل نے کیلکیولیٹر بھی ایجاد کر لیا اور شاہ جہاں تخت طاؤس میں لگے رہے۔
  شاہ جہاں نے آگرے میں اپنی بیوی کی یاد میں تین کروڑ روپے (آج کے تین ہزار کروڑ روپے) کی لاگت سے تاج محل بنایا۔ شاہ جہاں کے پاس دُنیا کے بہترین آرکیٹیکٹ کی ایک فوج موجود تھی۔کاش شاہ جہاں نے اُن کی مدد سے آگرہ میں تاج محل کے بجائے ’ممتاز محل یونیورسٹی آف آرکیٹیکچر‘ بنائی ہوتی۔  اُس یونیورسٹی سے فی سال  ۲؍ ہزار کے حساب سے اب تک دس لاکھ  طلبہ آرکیٹیکٹ بن جاتے جو نہ جانے کتنی نادر عمارتیں تعمیر کر چکے ہوتے۔ شاہ جہاں کا تاج محل فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے البتہ اُس کے ذریعے سیاحوں سے حاصل ہونے والی کروڑوں کی آمدنی سے ایک روپیہ بھی اس قوم کو براہ راست نہیں ملتا۔ اب کچھ لوگ شاید یہ کہیں گے کہ اُس زمانے میں یونیورسٹی وغیرہ کے قیام کا کہاں چلن تھا؟ اُن لوگوں کی معلومات کیلئے عرض کریں کہ تاج محل کی تعمیر ۱۶۳۱ء میں مکمل ہوئی ، اس کے ۵۰۰؍ سال قبل پیرس یونیورسٹی، ۴۰۰؍ سال قبل کیمبریج یونیورسٹی اور۲۰۰؍ سال قبل آکسفورڈ یونیورسٹی وجود میں آچکی تھی ۔شاہجہاں کو وہ معلوم ہوا ہی ہوگا ۔ہاں اس وقت گوگل نہیں تھا، کمیونی کیشن کا کوئی نیٹ ورک نہیں تھا پھر بھلا شاہ جہاں کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں سب سے اچھے لال پتھر اور سفید پتھر کہاں ملتے ہیں؟نوجوانو ! اس کا انحصار ترجیحات پر ہے ۔مثلاًاگر آپ تلاش کریں گے کہ سب سے اچھی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کون سی ہے تو آپ کو مل جائے گی کہ وہ ٹی آئی ایف آر ہے یا نیسیر ہے۔آپ اگر یہ تلاش کرتے ہیں کہکم فیس میں بہترین میڈیکل کالج میں داخلہ کہاں ملے گا تو آپ ایمس کا رخ کریں گےیا آپ یہ طے کرتے ہیں کہ آپ حکومت کے خرچ  پر سائنس داں کیسے بنیں گے تو آپ اپنے آپ کو کے وی پی وائے امتحان کے لئے تیار کریں گے یا آپ کی یہ خواہش ہے کہ امتحان دیتے ہی قطار میں کھڑے رہے بغیر حکومتی ملازمت کیسے مل جائے تو آپ سول سروسیز کی تیاری شروع کریں گے۔آپ کی تگ و دو، تجسس و فکر اور ہمارے شہنشاہوں کی ترجیحات میں یہ واضح فرق ہے 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK