پرسکون زندگی کیلئے صبر اور نماز سے مدد حاصل کیجئے

Updated: January 08, 2021, 12:06 PM IST | Mohammed Faizan Nadavi

سورہ بقرہ کی آیت۴۵؍میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اے ایمان والو!صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو`۔‘‘ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں سے مدد حاصل کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ایک صبر اور دوسری نماز۔

Namaz
نماز کو پابندی سے جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے لئے بھی اعلیٰ درجے کا صبر درکار ہے

سورہ بقرہ کی آیت۴۵؍میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اے ایمان والو!صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو`۔‘‘ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں سے مدد حاصل کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ایک صبر اور دوسری نماز۔ 
 اگر ہم صبر کی تہہ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں تو اس کا خلاصہ کچھ یوں نکلتا ہے کہ زندگی میں آنے والے مشکل ترین حالات میں بھی اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے حرف شکایت زبان پر لائے بغیر اپنی ذات، احساسات اور جذبات پر مکمل قابو رکھناصبر کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔علماء نے صبر کی تین قسمیں بیان کی ہے۔ طاعت پرصبر، گناہوں کو ترک کرنے پر صبر، اور ابتلا و آزمائش پر صبر۔ ہم مختصر انداز میں تینوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
 lطاعت پر صبر: اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن عبادات کی انجام دہی کا حکم دیا ہے ان کی صحیح طور پرپابندی کے ساتھ ادائیگی یقیناً ایک مشکل کام ہے۔عبادات میں بھی اگر ہم غور کریں تو کچھ عبادتیں وہ ہیں جنہیں سال میں ایک ہی بار مخصوص اوقات میں انجام دیا جاتا ہے۔ جیسے ماہ رمضان کے روزے اور بیت اللہ شریف کا حج۔ لیکن یہ عبادات بھی صبر کے عنصر کے بنا ہر گز انجام نہیں دی جاسکتیں۔ جیسے ماہ رمضان میں دن بھر کھانے پینے سے رُکے رہنا بغیر صبر کے ممکن نہیں۔ اسی طرح سفر حج اور مناسک حج کی ادائیگی میں جن صبر آزما حالات سے گزرنا پڑتا ہے یقیناً اس کے لئے اعلی درجے کا صبر درکار ہے۔ پھر کچھ عبادات وہ ہیں جن کی ادائیگی کے لئے اپنی پاکیزہ حلال کمائی میں سے ایک مخصوص حصہ اللہ کی رضا کی خاطر فقراء و مساکین کو دیا جاتا ہے۔جیسے زکوٰۃ،صدقہ فطر، نفلی صدقات وغیرہ۔ ان عبادات میں بھی نفس پر ایک قسم کی گرانی اور بوجھ محسوس ہوتا ہے، لیکن پھر بھی ایک بندۂ مومن اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنے نفس کے تقاضے کے خلاف ان عبادات کو بخوشی انجام دیتا ہے۔
 پھر آتی ہے نماز کی عبادت، جو کہ بالغ ہونے سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک دن میں پانچ بار ہر حال میں ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کی مواظبت کے ساتھ ادائیگی کے لئے واقعی اعلیٰ درجے کا صبراور بے پناہ ہمت درکار ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ کی اسی آیت میں آگے ارشاد فرماتے ہیں: ’’ نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے، مگر اُن لوگوں کو نہیں جو خشوع سے پڑھتے ہیں`۔‘‘ اس آیت کے تناظر میں بات کی جائے تو یہ بات صاف ہے کہ نماز کاصرف ادا کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا اس کو پابندی کے ساتھ ادا کرتے رہنا مشکل ہے۔ دن بھر میں نہ جانے کتنی ایسی رکاوٹیں آتی ہیں جو وقت پر نماز ادا نہ کرنے کے لئے کافی بہانہ بن جاتی ہیں۔ انسان ان رکاوٹوں کے منطقی دلائل سے خود کو مطمئن کرکے نماز چھوڑنے کا نہ سہی، نماز وقت پر جماعت سے ادا نہ کرنے کا خوبصورت بہانہ ضرور تلاش لیتا ہے۔ اسی لئے نماز کو پابندی سے جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے لئے بھی اعلیٰ درجے کا صبر درکار ہے جو کسی بھی قسم کی رُکاوٹ کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہ ہو۔
 lدوسری قسم کا صبر جو علماء نے بیان کیا ہے وہ گناہوں سے رُکنے پر صبر ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺکا یہ ارشاد منقول ہے: ’’ دوزخ کی آگ شہوتوں یعنی خواہشات و لذات سے ڈھانکی گئی ہے، اور جنت سختیوں اور مشقتوں سے ۔‘‘ خواہشات کی لذت کو انسانوں کے لئے مزین کردیا گیا ہے۔ نفس مستقل طور پر اس کے ساتھ لگا ہوا ہے جو قدم قدم پر کسی نہ کسی گناہ میں ڈھکیلنے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔ اور ایک ازلی دشمن شیطان تو ہے ہی ،ہر وقت تاک  میں ہے کہ کب موقع ملے اور انسان کو ورغلاکر کسی نہ کسی معصیت میں مبتلا کردے۔ ان تین مضبوط دشمنوں کے مقابلے کے لئے کس درجے کا صبر اور ہمت درکار ہے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ 
 بہت سے لوگ تلاش کرنے پر ایسے ضرور مل جائیں گے جو نماز کے پابند اور دیگر عبادات کی ادائیگی میں پیش پیش ہوں۔ لیکن ایسے لوگ کم  ملیں گے جو اپنے کردار کوگناہوں کی آلودگیوں سے محفوظ رکھتے ہوں۔  اس پر مستزاد یہ کہ معصیت کا دائرہ کچھ مخصوص اعمال پر محیط نہیں کہ ان سے آسانی سے بچا جائے بلکہ معصیت کا دائرہ زندگی کے ہر شعبے میں مختلف قسم کے چھوٹے بڑے گناہوں پر محیط ہے جن سے بچنا محال نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔ ان سے بچنے کے لئے بھی اعلیٰ درجے کا صبراور خشیت الٰہی درکار ہے، جن کے بغیر گناہوں سے بچنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ 
 lتیسری قسم ابتلا و آزمائش پر صبر۔ زندگی تو نام ہی امتحان اور آزمائش کا ہے۔ اس حوالے سے کامیاب انسان کا رد عمل صبر کے سو ا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا جو ایک طویل حدیث کا حصہ ہے کہ صبر تو وہی کہلائے گا جو ابتداء ً  مصیبت میں ہو`۔ بسا اوقات زندگی میں ایسے حالات در پیش آتے ہیں جن کی توقع انسان کو نہیں ہوتی، ایسے ناگہانی حالات کے اچانک آجانے سے انسان ٹوٹ جاتا ہے اور دامن صبر ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ وہ  شکوے شکایت کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن حدیث سے جو صبر مترشح ہوتا ہے وہ کسی بھی امتحان اور آزمائش کے پہلے مرحلے کا صبر ہے۔ اگر اس وقت انسان اللہ کے حکم کا لحاظ کرتے ہوئے صبر کرتا ہے تو نہ صرف آزمائش ہلکی محسوس ہوتی ہے بلکہ اللہ اسے اجر سے بھی نوازتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ معلوم ہے یہ آسان کام نہیں اور اس کے لئے بڑی ہمت درکار ہوتی ہے۔ اللہ نے قرآن کریم میں صبر کو اولو العزم انبیاء کی صفت بتایا ہے۔ چنانچہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں:’’(اے پیغمبرؐ) آپ  اسی طرح صبر کئے جائیں، جس طرح  اولو العزم پیغمبروں نے کیا`۔‘‘ 
 (سورہ احقاف:۳۵)
 درج بالا تفصیل سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ صبر کی یہ تینوں قسمیں اگر صحیح طور سے برتی جائیں اور ان کی عادت بنالی جائے تو کس حد تک انسانی زندگی اور انسانی احساسات و جذبات پر قابو رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صبراور نماز سے مدد حاصل کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK