Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیچ بھنور میں ناؤ ہے اپنی!

Updated: May 24, 2026, 1:52 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

طالب علموں سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ مستقبل کیلئے تیار ہیں ؟ (آر یو فیوچر ریڈی؟) اس کا معنی یہ ہے کہ آیا وہ مستقبل کے تقاضوں سے واقف ہیں اور خود کو اُن تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں ؟

INN
آئی این این
طالب علموں  سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ مستقبل کیلئے تیار ہیں ؟ (آر یو فیوچر ریڈی؟) اس کا معنی یہ ہے کہ آیا وہ مستقبل کے تقاضوں  سے واقف ہیں  اور خود کو اُن تقاضوں  سے ہم آہنگ کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں ؟ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ زمانہ کچھ اور چاہتا ہے اور وہ کچھ اور کررہے ہیں ؟ یہی ہے فیوچر ریڈی ہونے کا مفہوم۔ یہی سوال ملک کے معاشی مستقبل کے تعلق سے بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ آیا ہم مستقبل کے معاشی چیلنجوں  کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ اس کا جواب ہاں  یا نہیں  میں  نہیں  دیا جاسکتا بلکہ اس کیلئے تفصیل درکار ہوگی۔ اس میں  یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم نے ملازمت کے کتنے مواقع پیدا کئے اور بے روزگاری کو کتنا کم کیا۔ اگر ریاستی حکومتیں  بھی اس بات پر متفق تھیں  کہ منریگا دیہی بے روزگاری کم کرنے کا نہایت مؤثر ذریعہ ہے تو مرکز نے اس میں  عدم دلچسپی کا کیوں  مظاہرہ کیا اور پھر نئے قانون کے ذریعہ پرانی اسکیم کی شکل کیوں  بگاڑ دی۔ قومی جی ڈی پی کس حال میں  ہے اور فی کس جی ڈی پی پر کیا بیت رہی ہے۔ مینوفیکچرنگ اہم شعبہ ہے جس میں  پیداوار کا اضافہ موجودہ حکومت کا بھی ہدف ہے مگر اس میں  اضافہ ہوا ہے یا یہ شعبہ جمود کا شکار ہے۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر انتہائی غربت کی سطح جوں  کی توں  ہے تو کیا یہ اسلئے ہے کہ ۸۰؍ کروڑ لوگوں  کو ہر ماہ مفت اناج دیا جارہا ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو روپے کی صحت اتنی خراب کیوں  ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو غیر ملکی سرمایہ کاروں  کی ہندوستان سے رغبت کیوں  ختم ہوگئی ہے۔ خود ہندوستانی سرمایہ کاروں  نے نئی منزلیں  کیوں  تلاش کرلی ہیں ۔ یہ اور ایسے کئی سوالوں  کے جواب حاصل کرنے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان معاشی طور پر فیوچر ریڈی ہے یا نہیں ۔ 
معاشیات کی باریکیوں  سے ہر شخص آگاہ نہیں  ہوتا۔ اکثر تعلیم یافتہ لوگ بھی ان بھول بھلیوں  سے دور ہی رہتے ہیں ۔ اسی لئے معاشی مبصرین کی رائے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے جن میں  کئی ایسے ہیں  جو خطرات کی نشاندہی کررہے ہیں ۔ مثال کے طور پر ماہر معاشیات سرجیت بھلا ّنے بتایا کہ جی ڈی پی کی رینکنگ میں  ہم ۹؍ ویں  اور فی کس جی ڈی پی کی رینکنگ میں  ہم ۸؍ ویں  مقام پر ہیں ۔ فی کس جی ڈی پی میں  اضافے کی رفتار کے معاملے میں  ہمارا رینک ۱۶؍ واں  ہے۔ بنگلہ دیش اور ایتھوپیا کا ہم سے کافی بہتر رینک ہے۔ ایک اور ماہر معاشیات پروفیسر ارون کمار بتاتے ہیں  کہ غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ’’منفی‘‘ ہوچکی ہے یعنی زیادہ سرمایہ ملک کے باہر گیا اور کم اندر آیا۔ ارون کمار کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاشی نمو، جو ۷۔۸؍ فیصد دکھائی جاتی ہے ۲ء۵؍ سے ۳؍ فیصد ہی ہوسکتی ہے اس سے زیادہ نہیں ۔ پروفیسر سنتوش مہروترا کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۰ء تا  ۲۰۲۴ء، آٹھ ( ۸) کروڑ لوگ شعبہ ٔ زراعت سے دوبارہ وابستہ ہوئے۔ واپسی کا ایسا رجحان کسی بھی ترقی پزیر ملک میں  نظر نہیں  آئیگا۔ جس سیکٹر میں  مزدوروں  کی موجودگی پہلے ہی ضرورت سے زیادہ ہو اُس میں  اتنی بڑی تعداد کی ازسرنو شمولیت بے معنی ہے۔ ایک اور ماہر معاشیات یو گووند راؤ کا کہنا ہے کہ حکومت نے بڑے فخر سے ہائی وے، ایکسپریس وے اور ریل کوریڈور کا دعویٰ کیا، یہ کیپٹل ایکسپینڈیچر ہے جس کا بہت زیادہ فائدہ نہیں  ہوسکتا کیونکہ نجی سرمایہ کاری اور صارفین کی طلب دونوں  ہی کی رفتار سست ہے۔ 
اپنے اپنے انداز کے تجزیہ کے باوجود اِس بات پر مذکورہ اور دیگر ماہرین کا اتفاق ہے کہ معیشت کو بہت سے عوارض لاحق ہیں  جو اچانک نہیں  ہوئے اس لئے حکومت کو بہت ٹھوس اقدام کا سہارا لینا ہوگا۔ کیا ایسا ہوگا؟ اس پر سب کو توجہ دینی چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK