دہلی اسمبلی انتخابات میں جو کچھ ہوا وہ بعید از قیاس نہیں تھا۔ عام آدمی پارٹی خود بھی اپنی جیت کے بارے میں پرامید نہیں تھی۔ کانگریس تو اپنی زمین اس طرح کھو چکی ہے کہ اسے راجدھانی میں مضبوط دعویدار بننے کیلئے کم از کم ایک دہائی درکار ہوگی۔
EPAPER
Updated: February 10, 2025, 1:31 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
دہلی اسمبلی انتخابات میں جو کچھ ہوا وہ بعید از قیاس نہیں تھا۔ عام آدمی پارٹی خود بھی اپنی جیت کے بارے میں پرامید نہیں تھی۔ کانگریس تو اپنی زمین اس طرح کھو چکی ہے کہ اسے راجدھانی میں مضبوط دعویدار بننے کیلئے کم از کم ایک دہائی درکار ہوگی۔
دہلی اسمبلی انتخابات میں جو کچھ ہوا وہ بعید از قیاس نہیں تھا۔ عام آدمی پارٹی خود بھی اپنی جیت کے بارے میں پرامید نہیں تھی۔ کانگریس تو اپنی زمین اس طرح کھو چکی ہے کہ اسے راجدھانی میں مضبوط دعویدار بننے کیلئے کم از کم ایک دہائی درکار ہوگی۔ اس سہ فریقی انتخابی جنگ کی تیسری پارٹی بی جے پی تھی جس کے بارے میں کہنے کی ضرورت نہیں کہ کچھ کرے نہ کرے الیکشن لڑنے میں فی الحال اس کا کوئی ثانی نہیں ۔ جیتنے کیلئے پہلے سے زمین ہموار کرنا، مسلسل کوشش کرنا، ضرورت ہو تو عہدیداروں کو تبدیل کرنا، بالکل نئی ٹیم تشکیل دے دینا، نت نئے تجربے کرنا، سرکاری مشنری کو بجا بے جا ہر طریقہ سے بروئے کار لانا، رائے دہندگان کو اعتماد میں لینے کے تمام حربے آزمانا وغیرہ کو اس کی پہچان قرار دیا جاسکتا ہے۔
جتنے عرصے سے کانگریس دہلی کے اقتدار سے دور ہے، اس سے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے بی جے پی دور رہی مگر اول الذکر حسب سابق کھاتہ بھی نہیں کھول سکی اور آخر الذکر نے کامیابی کا پرچم اس طرح لہرا دیا کہ اسے بلا شرکت غیرے حکومت بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ عام آدمی ہارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے بڑی انکساری کے ساتھ شکست قبول کرلی ہے مگر یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وہ اپنی پارٹی کو کتنا مین اسٹریم میں رکھ پاتے ہیں ، ان کی پارٹی اپوزیشن کا کردار کتنی طاقت کے ساتھ نبھاتی ہے اور اعلیٰ لیڈروں کے خلاف مقدمات سے نجات پانے کے لئے کون سی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ۔
عام آدمی پارٹی کی شکست کے جو اسباب ہماری سمجھ میں آتے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں : پارٹی دس سال سے اقتدار میں تھی۔ موجودہ دور میں اقتدار مخالف رجحان، جسے اینٹی ان کمبینسی کہا جاتا ہے، ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ اس کیلئے دس سال بہت طویل عرصہ ہے۔ بی جے پی نے اسی رجحان پر محنت کی اور اعلیٰ لیڈروں کی گرفتاریوں کے ذریعہ اسے مستحکم کیا۔ اس سے رائے دہندگان میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور خود کو سب سے ایماندار بتانے والی پارٹی شکوک و شبہات کے دائرے میں آگئی۔وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے قائد سمیت دیگر قد آور لیڈروں کے جیل بھیج دیئے جانے کا کوئی سیاسی اثر نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ہرچند کہ ان لیڈروں پر عائد الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں مگر ان کی وجہ سے عام آدمی پارٹی کے سب سے صاف ستھری پارٹی کے دعوے کی بنیاد تو ہل گئی۔ اس طرح ایک وجہ اقتدار مخالف رجحان تھا جو شکست کی وجہ بنا۔
دوسری وجہ عام آدمی پارٹی کا ’’آدھا اتحاد اور آدھااتحاد‘‘ سے بیر تھا۔ وہ انڈیا اتحاد کا حصہ تھی بھی اور نہیں بھی تھی۔ ہریانہ میں اس نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائی اور دہلی میں بھی یہی کیا۔ اگر کانگریس سے انتخابی مفاہمت کرلی جاتی تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ کم از کم ایک درجن سیٹیں مزید حاصل ہوجاتیں ۔ اس میں صرف عام آدمی پارٹی کو مورد الزا م نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ خود کانگریس کی صفوں میں عام آدمی پارٹی سے دور رہ کر اپنے امکانات تلاش کرنے کا ’’جذبہ‘‘ شدید ہے۔ اسی جذبہ کو مختلف بہانوں کے ذریعہ وجہ بنادیا جاتا ہے۔ مانا کہ عام آدمی پارٹی نے کانگریس ہی کی زمین ہتھیائی مگر عوام کو اعتماد میں لے کر ہتھیائی، کوئی زور زبردستی نہیں کی۔ کیا کانگریس کو عوام ہی پر محنت نہیں کرنی چاہئے؟ بہرکیف عام آدمی پارٹی کی شکست کے اور بھی اسباب ہیں جن پر ابھی گفتگو جاری رہے گی۔