جین زی پر تنقید کرنے سے پہلے پرانی نسل کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ کیا اس نے اپنی ذمہ داری پوری کی؟ اگر نہیں تو قصور کس کا ہے۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ جین زی کے بعد جو نسل آئی (الفا) اگر اس کے ساتھ بھی ہم نے ایسا ہی کیا تو یہ سخت ناانصافی ہوگی۔
اِن دِنوں ’’جین زی‘‘ کی بڑی شہرت ہے۔ بے چاری اس سے قبل کی نسل رنجیدہ ہے کہ اُس کی اتنی شہرت نہیں ہوئی۔ جین زی کی اصطلاح اُس نسل کیلئے استعمال کی جاتی ہے جس کے افراد ۱۹۹۷ء اور ۲۰۱۲ء کے درمیان پیدا ہوئے اور اس وقت اُن کی عمریں ۱۴؍ تا ۲۹؍ سال ہیں ۔ ا س نسل سے پہلے کے افراد میں بیشتر نے دو دُنیائیں دیکھیں ۔ ایک وہ دُنیا جس میں موبائل فون نہیں تھا، انٹرنیٹ نہیں تھا، کمپیوٹر نہیں تھا اور ٹیب یا اسمارٹ واچ نہیں تھی۔ دوسری وہ دُنیا جس میں تکنالوجی کے یہ مظاہر متعارف ہوچکے تھے۔ جین زی پہلی نسل ہے جو تکنالوجی کے سائے میں پروان چڑھی۔ اس نے جو کچھ بھی دیکھا زیادہ تر لیپ ٹاپ یا موبائل فون ہی میں دیکھا۔ اس کے افراد سے فاختہ کے بارے میں پوچھئے۔ وہ سوچ میں پڑ جائینگے۔ آپ کو وضاحت کرنی پڑے گی کہ فاختہ کس کو کہتے ہیں ۔ وہ فوراً سمجھ جائینگے اور کہیں گے ہاں دیکھی ہے۔ پوچھئے کیسی ہوتی ہے؟ وہ جھٹ موبائل میں کچھ ٹائپ کریں گے اور آپ کو Doveکی تصویر دکھا دیں گے۔ انہیں درخت پر بیٹھی فاختہ سے کوئی غرض نہیں ۔ اُسے دیکھنے کی آرزو بھی اُن میں نہیں ہے مگر یہ طے ہے کہ ایک بار فاختہ کا تعارف ہوا تو وہ اُس کے تمام کوائف حتیٰ کہ اس کا شجرۂ حسب و نسب بھی سامنے رکھ دیں گے اور آپ ہکا بکا رہ جائینگے۔
معلوم ہوا کہ یہ نسل کافی ذہین ہے اور موبائل کے ذریعہ جو بھی جاننا چاہتی ہے، بآسانی جان لیتی ہے۔سوشل میڈیا سے اس کا یارانہ کافی گہرا ہے۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ اس عمر کے ۸۶؍ تا ۸۹؍ فیصد افراد انسٹا گرام پر ، ۸۴؍ تا ۹۱؍ فیصد یوٹیوب پر، ۷۹؍ تا ۸۳؍ فیصد ٹک ٹاک پر اور ۶۳؍ فیصد اسنیپ چیٹ پر فعال ہیں ۔ یہ اعدادوشمار آپ کیلئے حیران کن ہوسکتے ہیں مگرکم و بیش درست ہیں ۔ اس نسل تک ہر طرح کی انفارمیشن بجلی کی سرعت سے پہنچتی ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ یہ کسی بات سے بے خبر ہوں البتہ بات اُن کی دلچسپی کی ہونی چاہئے۔ آپ سکندر اور پورس کی بابت دریافت کرینگے یا صنائع بدائع کی تعریف پوچھیں گے یا اکبر اعظم کے نورتنوں کے بارے میں سوال کرینگے تو ان کے چہرے پر ہوائیاں اُڑیں گی۔ جو نہیں جانتے وہ بھی جان جائینگے کہ ہوائیاں کیسے اُڑتی ہیں ۔ یہ مثالیں اس لئے دی گئی ہیں کہ اکثر پرانی نسل کے لوگ اُن سے اسی قسم کے سوالات کرتے ہیں اور پھر سرٹیفکیٹ جاری کردیتے ہیں کہ اس نسل کو کچھ نہیں معلوم۔ یہ غلط طرز عمل ہے۔ یہ نسل ذہین تو ہے ہی، ’’باخبر‘‘ بھی ہے۔ مَیں اپنی یا اپنے ہم عمروں کی بات کروں تو بلا تردد کہہ سکتا ہوں کہ اس عمر میں ہم ہَوَنّق تھے یعنی احمق، بے وقوف۔ تقدیر میں لکھا نہیں تھا کہ ہم عقل سے پیدل ہونگے پھر بھی عقل ہمارے پاس پیدل چلتی ہوئی کافی تاخیر سے پہنچی۔ اس نسل کا معاملہ بالکل الگ ہے۔یہ اس لئے باخبر ہے کہ یہ انفارمیشن تکنالوجی عرف معلوماتی سونامی کے دور میں پیدا ہوئی ہے۔ معلومات کے حصول کیلئے اسے نہ تو کتابوں کی ورق گردانی کرنی پڑتی ہے نہ ہی لائبریری تک جانے کی زحمت۔ موبائل کی وجہ سے معلومات کا سمندر اس کی نگاہوں میں موجزن رہتا ہے۔
ذہین اور باخبر ہونے کے علاوہ اس نسل کی ایک اور خصوصیت ہے۔ یہ بہت حساس ہے۔ آئے دن خبریں آتی رہتی ہیں کہ ضد پوری نہیں کی گئی تو لڑکے نے یا لڑکی نے یہ کرلیا اور وہ کرلیا۔ یہ حساسیت اُن کی اپنی دُنیا اور انٹرنیٹ پر دکھائی دینے والی دُنیا کے غیر معمولی فرق کی وجہ سے ہے۔ وہ مصنوعی دُنیا کے اتنے عادی ہوجاتے ہیں کہ حقیقی دُنیا کی دشواریاں اُنہیں بُری طرح کھلتی ہیں ۔وہ نہ تو اس سے ہم آہنگ ہوپاتے ہیں نہ ہی ہم آہنگ ہونا چاہتے ہیں ۔
اور بھی کئی نکات ہیں جن کی بنیاد پر اس نسل کو متعارف کرایا جاسکتا ہے مگر فی الحال اتنے ہی پر اکتفا کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اس نسل کی جتنی ستائش نہیں کی گئی اُس سے زیادہ اُسے ہدف ِتنقید بنایا گیا۔ مَیں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس میں جو بھی ہے قابل نفریں ہے اور قابل ستائش کچھ بھی نہیں ہے؟ کیا ان کے پُرجوش ہونے، جذباتی ہونے، بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے وغیرہ کی کچھ اہمیت نہیں ؟ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ جو اچھا ہے اس کی ستائش کی جائے اور جو اچھا نہیں ہے اس کو اچھا کرنے کی فکر ہو؟
کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ دُنیا کا دستور ہے جس پر ہر دور میں عمل ہوا ہے۔ ہر پرانی نسل، نئی نسل کو قابل اعتناء نہ سمجھنے اور بُرا بھلا کہنے پر یقین رکھتی آئی ہے۔ جین زی کو قابل اعتناء نہ سمجھنے اور بُرا بھلا کہنے کے پس پشت بھی نسل در نسل چلی آرہی یہی ذہنیت اور روایت ہے۔ اس روایت میں پرانی نسل کا احساس ِ جرم بھی چھپا ہوا ہے کہ تربیت کا جو فریضہ پرانی نسل کو ادا کرنا چاہئے تھا وہ ادا نہیں ہوا یا اس میں کسر رہ گئی۔ اب اسے احساس جرم کہئے یا بزرگانہ ضد کہ ہم اپنی غلطی تسلیم نہیں کریں گے اور بُرا بھلا کہہ کر ہی دل کی خلش مٹائیں گے یا اپنی تقصیر پر پردہ ڈالیں گے۔ سو یہی ہورہا ہے اور ہر جگہ ہورہا ہے۔ کوئی نہیں ہے جو اس نسل کو سمجھنا چاہتا ہو، جو اس کے پاس بیٹھتا ہو یا اسے اپنے پاس بٹھاتا ہو اور اس کے جذبات و احساسات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ والدین یا بڑوں میں اور جنریشن زی کے افرادمیں اچھی خاصی خلیج پائی جاتی ہے۔
سچائی یہ ہے کہ اس نسل کی تربیت میں بڑی کوتاہیاں ہوئی ہیں ۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ کوتاہیاں دانستہ کی گئی ہیں ۔ زیادہ تر نادانستگی میں ہوئی ہیں ۔ اب اس کے ازالے کیلئے سب سے پہلے تو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ہاں ایسا ہوا ہے۔ جب تک تسلیم نہیں کریں گے تب تک تربیت کے خلاء کو پُر کرنے کی جانب قدم بڑھانا ممکن نہیں ہوگا۔ تسلیم کرلینے کے بعد جب یہ احساس پیدا ہو کہ تربیت ضروری ہے تو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ تربیت کیسے ہو۔ کیا اندازِ تربیت ویسا ہی ہو جیسا کہ ہماری یعنی پُرانی نسل کی تربیت کیلئے ہمارے بزرگوں نے اپنایا تھا یا تربیت کا اسلوب نیا ہو۔ اسلوب نیا اس لئے ہونا چاہئے کہ زمانہ بدل گیا، حالات بدل گئے اور خود ہم بھی کافی بدل چکے ہیں ۔ اس کے باوجود اگر ہم پرانے ڈھرے پر قائم رہے اور جیسا کہ استاد بید یا چھڑی (جسے مولا بخش بھی کہا جاتا تھا) سے پیٹتے تھے، ہم نے بھی وہی طریقہ اپنایا تو الٹے لینے کے دینے پڑ جائینگے۔ تربیت کا اسلوب مشفقانہ ہو ، ہمدردانہ ہو اور حکمت پر مبنی ہو۔