اسلام ہر ایک کیلئے امن، انصاف اور خوشحالی کی تعلیم دیتا ہے

Updated: October 09, 2020, 12:43 PM IST | Noorulallah Siddiqui

دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جو بلاجواز انسانیت کا خون بہانے کی اجازت دیتا ہو لیکن اس باب میں اسلام کی تعلیمات سب سے آگے ہیں۔ دین اسلام غیر مسلم کے جان و مال کو مسلمان کے جان و مال کی طرح محترم و مقدس قرار دیتا ہے۔

Islam Peace Religion
اسلام، سلامتی کا وسیع مفہوم اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اور اسی کی تعلیم بھی دیتا ہے

دنیا بھر کی حکومتیں، غیر سرکاری ادارے، مذہبی و سماجی جماعتیں اور تنظیمیں اس روز امن کی اہمیت پر سیمینار اور پروگرام منعقد کرتی ہیں اورامن کی اہمیت اجاگرکرتی ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی سربراہانِ مملکت و دیگر ذمہ داران امن کی اہمیت اور افادیت پر بیانات جاری کرتے ہیں مگر دوسری طرف امن عالم پر سرسری سی نگاہ دوڑائی جائے تو ہر طرف بدامنی، انتہا پسندی، عدم برداشت، تنگ نظری، تنگ فکری اوردہشت گردی نظر آتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تمام جنگیں امن،انسانیت کے تحفظ اور بقاء کے نام پر لڑی گئیں مگر یہ ایک تلخ اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ امن کے نام پر جتنی بدامنی پیدا کی گئی اور انسانیت کے تحفظ کے نام پر جتنا انسانیت کا خون بہایا گیا اس کی کوئی دوسری مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔
دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جو بلاجواز انسانیت کا خون بہانے کی اجازت دیتا ہو لیکن اس باب میں اسلام کی تعلیمات سب سے آگے ہیں۔ دین اسلام غیر مسلم کے جان و مال کو مسلمان کے جان و مال کی طرح محترم و مقدس قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے سورۃ المائدہ میں فرمایا: ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد انگیزی (کی سزا) کے بغیر (ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)‘‘ یہاں کسی مسلمان کی جان کی بات نہیں ہورہی بلکہ بلا رنگ و نسل اور مذہب پوری انسانیت کی بات ہورہی ہے۔ اسلام کے اس آفاقی امن کی فلاسفی اتنی فصاحت کے ساتھ دنیا کے کسی اور الہامی یا غیر الہامی مذہب میں بیان ہوتی نظر نہیں آتی جو قرآن نے بیان کی ہے۔ قرآن مجید کا یہی مضمون احادیث نبویؐ  میں بھی شرح و بسط کے ساتھ نظر آتا ہے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی عام حالات تو کیا حالت ِ جنگ میں بھی بلا ضرورت قتال سے منع فرمایا ہے۔ اس کی بڑی مثال فتح مکہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بزرگوں، عورتوں، بچوں اور مسلم سپاہ کے مقابل نہ نکلنے والوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ حرمت اور تحفظِ انسانیت کے ضمن میں اسلام کی تعلیمات کو اگر مختصر انداز میں بیان کیا جائے تو یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ اسلام قتل ِ ناحق اور فساد فی الارض کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن مسلمانوں کو بھی ایک دوسرے کے جان و مال کے تحفظ کے احکامات صادر فرمائے ہیں اور  ناحق قتل سے ہر ممکن بچنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: ’’(اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘
آج ہم جس عہد میں زندہ ہیں اس میں غیر مسلم اور مسلم ممالک سیاسی تنازعات میں الجھ کر اپنی توانائیاں جنگ و جدل میں صرف کررہے ہیں اور اس عمل میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں جو قرآن و حدیث کی نصوص اور احترامِ آدمیت کے خلاف ہے۔ دنیا میں بدامنی کی بڑی وجوہات میں ناانصافی اور دوسروں کے اقتدارِ اعلیٰ اور مقدس مذہبی ہستیوں کے بارے میں اختیار کیا گیا غیر محتاط رویہ ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہرایک کے مذہبی بنیادی حقوق، مذہبی شخصیات اور عبادت گاہوں کا احترام ضروری ہے مگر ہر سوسائٹی، مذہب اور معاشرے میں کچھ انتشار پسند اور انتہا پسند عناصر موجود ہوتے ہیں، جو اپنی بیمارذہنیت کے زیر اثر رہتے ہوئے دوسروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے رہتے ہیں اور اجتماعی امن کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ 
 ایسے عناصر کی منفی اور مذموم حرکتوں اور سرگرمیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس احترام اور رواداری پر مبنی رویے سے بین الاقوامی سطح پر باہمی احترام اور پرجوش سفارتی تعلقات کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احترام اور اعتماد پر مبنی بین الاقوامی تعلقات اور بین المذاہب رواداری کی تاریخِ عالم کی شاندار مثال ریاستِ مدینہ کی تشکیل اور دستورِ مدینہ کو مرتب کرتے وقت دی۔ ریاستِ مدینہ میں تمام مذاہب کے احترام کو قانونی شکل دی گئی، ہر ایک کے جان و مال کو تحفظ دیا گیا اور دستورِ مدینہ میں دیگر اقوام کو اپنے رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزارنے کے قانونی حق کو تسلیم کیا گیا۔ آج بھی پائیدار امنِ عالم کے قیام کے لئے دستورِ مدینہ رہنما اصول مہیا کرتا ہے دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے۔  اقوام متحدہ ایک ذمہ دار عالمی ادارہ ہے جس نے اپنے چارٹر میں افراد کے انسانی، سیاسی، جغرافیائی، معاشی،  سماجی، بنیادی اور مذہبی حقوق کو تحفظ دیا ہے۔  آج بھی اگر ان حقوق کے احترام کو یقینی بنا دیا جائے تو دنیا کو ناانصافی، جنگ و جدل اور متشدد رویوں سے پاک کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK