میں زندگی کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اتنا کچھ دیا

Updated: January 12, 2020, 9:20 am IST | Nadir | Mumbai

عمر کی ۷۵؍ ویں بہار کی جانب گامزن نغمہ نگار اور فلم نویس جاوید اختر سے ان کے فلمی اور ادبی سفر کے مختلف پہلوئوں پر رکن انقلاب نادر کی خصوصی گفتگو۔

میں زندگی کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اتنا کچھ دیا
جاوید اختر ۔ تصویر : انقلاب

 پچہتر سال کا عرصہ بہت طویل ہوتا ہے ، اتنا طویل کہ اس میں کئی زمانے ، کئی تجربے ، کئی تبدیلیاں شامل ہو تی ہیں ۔ اگر   یہ عرصہ کسی کا سفر حیات ہو تو اس کا وجود یوں ہی با معنی ہو جاتا ہے ۔  اور وہ شخصیت کوئی ادیب یا فنکار ہو تو اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ اس سال ۱۷؍ جنوری کو جاوید اختر اسی منزل کو پہنچنے والے ہیں۔ یعنی وہ اپنی ۷۵؍ ویں سالگرہ منانے جا رہے ہیں۔ احباب واقارب  اس موقع  پر جشن کا اہتمام بھی کر رہے ہیں۔   ایسی صورت میں ان سےگفتگو  ایک لازمی امر تھا۔ یوں بھی ایک بذلہ سنج، حاضر جواب اور شیریں بیاں شخص سے ملاقات  رائیگاں نہیں جا سکتی۔  پیش ہے ان سے ہوئی گفتگو کے چند اقتباسات:
 سوال : سوال روایتی ہے مگر ضروری ہےکہ ایک بھر پور اور کامیاب زندگی گزارنے کے بعد  آپ پیچھے پلٹ کر دیکھتے ہیں تو کیا محسوس کرتے ہیں؟ 
 جواب:   یقیناً ایک عمر کے بعد انسان لازماً پیچھے پلٹ کردیکھتا ہے۔ جہاں تک میرا سوال ہے تو  مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اچھے برے دن سبھی دیکھتے ہیں، کامیابی اور ناکامی بھی سبھی کے حصے میں آتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی کامیابی کو تو کچھ لوگ اپنی ناکامی کو تمغے کے طور پر لگا کر گھومتے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ     یہ جو بھی کامیابی  میرے حصے میں آئی ہے  وہ محنت اور صلاحیت سے زیادہ اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ قابل اور باصلاحیت لوگوں کی دنیا میں کوئی کمی نہیں ہے مگر کامیابی سبھی کے ہاتھ نہیں لگتی۔ میں زندگی کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اتنا کچھ دیا۔ 
  سوال:  اب آگے کوئی ہدف، کو ئی مقصد نظر آتا ہے؟ 
جواب : بالکل! مجھے لگتا ہے کہ کئی کام ہیں جو اب تک ادھورے ہیں۔ کئی تخلیقات ہیں جو مکمل نہیں ہوئی ہیں۔ کئی نظمیں ہیں ، کئی غزلیں ہیں جو ابھی لکھی جانی باقی ہیں۔ وہ سماجی کام جو میری ذمہ داری ہیں انہیں بھی پورا کرنا ہے۔  اس کے علاوہ ایک بات اور بتائوں کے ایک زمانے سے میں نے کوئی اسکرپٹ نہیں لکھی ہے نغمے ہی لکھتا رہا۔ اب ایک اسکرپٹ بھی لکھنی ہے۔
 سوال:کیا کبھی آپ نے اپنے فلمی کریئر اور ادبی کریئر کا موازنہ کیا ہے کہ ان دونوں میں سے کس شعبے میں آپ کو زیادہ تخلیقی سکون حاصل ہوا ؟ 
جواب:  دیکھئے ! صرف کام کرنے سے یا صرف کسی تخلیق سے سکون حاصل نہیں ہوتا۔  بلکہ آپ کو قلبی سکون اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کام یا تخلیق کے بعد آپ کو محسوس ہو کہ یہ کام میں نے بہت عمدگی سے کیا ہے۔ لہٰذا کبھی اسکرپٹ رائٹنگ میں تو کبھی نغمہ نگاری میں یا کبھی کسی ادبی تخلیق میں کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ یہ کام اپنے دل کے مطابق ہوا ہے۔ تو  بعض اوقات ایسا نہیں بھی ہوا۔اور یہ دونوں ہی شعبوں میں ہوا ہے ۔ اس لئے ان دونوں کو الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا ۔ 
 سوال: عام طور پر یہ چلن رہا ہے کہ لوگ پہلے ادب میں نام کماتے ہیں اس  کے بعد فلموں کی طرف راغب ہوتے ہیں یا انہیں مدعو کیا جاتا ہے لیکن آپ کا معاملہ برعکس ہے ، آپ نے پہلے فلموں میں شہرت حاصل کی اس کے بعد ادب کی جانب توجہ دی؟ 
 جواب:  ایسا نہیں ہے کہ میں نے بہت بعد میں شاعری شروع کی ہے۔ اسکرپٹ رائٹنگ کے زمانے ہی میں شعر کہنے لگا تھا لیکن انہیں شائع نہیں کروایا تھا نہ کسی مشاعرے میں پڑھا تھا۔ البتہ قریبی دوستوں کو سنایا کرتا تھا۔ انہی میں سے ایک یش چوپڑہ (فلمساز)  بھی تھے۔ انہوں نے میرا کلام سنا تو  مصر ہوئے کہ میں ان کی فلم کے نغمے لکھوں۔ اس طرح  نغمہ نگاری کا سلسلہ شروع ہوا اور لوگوں نے یہ سمجھا کہ میں نے ابھی ابھی شاعری شروع کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کتاب بہت بعد میں آئی۔ 
 سوال:  لیکن کیا یہ بات بھی عجیب نہیں ہے کہ آپ کی اصل شہرت اسکرپٹ رائٹنگ یعنی نثر سے تھی لیکن  ادب میں آپ کا رجحان شاعری کی طرف رہا۔ کبھی نثر لکھنے کا خیال نہیں آیا؟ 
 جواب: (مسکراتے ہوئے) یہاں معاملہ اقتصادیات کا ہے۔  نثر لکھنے یعنی افسانے یا ناول تخلیق کرنے کیلئے فرصت درکار ہے  اور ادیب کو اس سے روزی بھی نہیں ملتی۔ ہمارے بیشتر ادیب ملازمت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ  اپنی تخلیقی پیاس بجھانےکیلئے  افسانے یا کہانیاں لکھتے ہیں۔  ایک ناول لکھنے  میں ایک فلم کی اسکرپٹ لکھنے سے زیادہ وقت صرف ہوتا ہے۔  اس دوران کئی غزلیں کہی جا سکتی ہیں۔ فلموں کے لئے نغمے لکھے جا سکتے ہیں۔  یہ بات سچ ہے کہ مجھے نثر لکھنی چاہئے تھی لیکن  مصروفیات نے اس کی اجازت نہیں دی۔ 
  سوال:  آپ کے گھرانے میں  شاعری کا ایک طویل سلسلہ  رہاہے، مضطر خیر آبادی  ،  جاں نثار اختر، اسرارالحق مجاز، وغیرہ  یہ سلسلہ جاوید اختر پر آکر رک گیا۔ کیا کبھی ذہن میں یہ خیال  نہیں آیا کہ یہ سلسلہ فرحان اختر ، زویا اختر  اور اس کے بعد بھی جاری رہنا چاہئے تھا؟
 جواب:  یہ سلسلہ جاری ہے۔ بس اتنا ہے کہ اردو میں نہیں انگریزی میں ہے۔ فرحان اور زویا دراصل ممبئی کی پیداوار ہیں۔  میں باوجود کوشش کے انہیں اردو پڑھا نہیں سکا۔ انہوں  نے انگریزی سے تعلیم حاصل کی ۔ میں آپ کو یہ بات بتائوں کہ یہ لوگ پڑھتے ہیں، جبکہ آج کی نوجوان نسل مطالعہ سے دور بھاگتی ہے۔  مجھے خوشی ہے اس بات کی کہ ان دونوں ہی کو مطالعہ کا شوق ہے۔ فرحان نے  انگریزی میں شاعری کی ہے   اور اسے گایا بھی ہے اس لئے اس کا کلام لوگوں کے سامنے آگیا ۔ زویا  نے اپنی شاعری کو شائع نہیں کروایا مگر وہ بھی شاعری کرتی ہے۔ بلکہ فرحان کی بیٹی جو ابھی صرف ۱۱؍ سال کی ہے اسے بھی شاعری کا شوق ہے۔  تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے گھرانے میں  شاعری کا سلسلہ جاری ہے بس اتنا ہے کہ اب یہ کام اردو میں نہیں انگریزی میں ہو رہاہے۔ 
 سوال:  سنا ہے کہ آپ کی  ۷۵؍ ویں سالگرہ پر جشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں ،کیا  یہ عمر کی ایک مخصوص منزل تک پہنچنے کی خوشی ہے یا کامیاب زندگی کا جشن ؟ 
جواب: جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ بچپن میں اپنی سالگرہ آپ نہیں مناتے بلکہ آپ کے ماں باپ مناتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح بڑھاپے میں بھی آپ اپنی سالگرہ نہیں مناتے بلکہ آپ کے بچے  اس کا اہتمام کرتے ہیں۔  آپ جس جشن کی بات کر رہے ہیں وہ دراصل فرحان  اور زویا کی مرہون منت ہے جس میں شبانہ بھی شامل ہے۔ ان لوگوں نے مل کر کیفی اعظمی صاحب کے یوم پیدائش یعنی ۱۴؍ جنوری سے ۲۰؍ جنوری تک  پورے ہفتے مختلف پروگراموں  کے انعقاد کا منصوبہ تیار کیا ہے۔اس میں بابا اعظمی کی بطور ہدایتکار اولین فلم ’می رقصم ‘ کی نمائش کے علاوہ میری زندگی سے متعلق تصویروں کی نمائش وغیرہ پتہ نہیں کیا کیا کچھ ہے۔  یہ سب انہی لوگوں کا کیا دھرا ہے۔ مجھے بس جو حکم دیا جا رہا ہے میں اس کی تعمیل کرتا جا رہا ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK