زرعی قوانین پر عدلیہ کا رُخ

Updated: January 13, 2021, 12:25 PM IST | Editorial

بالآخر سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پر روک لگا ہی دی۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے یہی اُمید تھی اور اس کا اشارہ پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران مل گیا تھا۔ اُس وقت چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی سہ رُکنی بنچ نے متنازع زرعی قوانین اور ان کے خلاف کسانوں کے پُرزور اور پُرجوش احتجاج کے تعلق سے اپنی معروضات میں سرکاری نمائندگان (اٹارنی جنرل آف انڈیا کے کے وینوگوپال اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا) کو مخاطب کرکے مرکزی حکومت کو کافی سخت سست سنایا تھا۔

Farmers Protest - Pic : PTI
کسانوں کا احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 بالآخر سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پر روک لگا ہی دی۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے یہی اُمید تھی اور اس کا اشارہ پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران مل گیا تھا۔ اُس وقت چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی سہ رُکنی بنچ نے متنازع زرعی قوانین اور ان کے خلاف کسانوں کے پُرزور اور پُرجوش احتجاج کے تعلق سے اپنی معروضات میں سرکاری نمائندگان (اٹارنی جنرل آف انڈیا کے کے وینوگوپال اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا) کو مخاطب کرکے مرکزی حکومت کو کافی سخت سست سنایا تھا۔ اس دوران میں کہی جانے والی باتوں سے اس احساس کو تقویت ملی تھی کہ سپریم کورٹ غیر جانبداری کے ساتھ اس پورے قضیے کو دیکھ رہا ہے چنانچہ کسانوں کے مطالبے کو حق بجانب محسوس کرتے ہوئے متنازع قوانین کو اُس وقت تک روکنا چاہتا ہے جب تک ایک پینل یا کمیٹی مذاکرات کے ذریعہ کوئی قابل قبول حل کی سفارش نہ کردے۔ 
 پیر کو سپریم کورٹ نے صاف اور واضح لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ وہ اب تک کے مذاکرات سے مطمئن نہیں ہے جو آٹھ نشستوں پر مشتمل ہونے کے باوجود بے نتیجہ رہے۔ اس کا بے نتیجہ رہنا یہ سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ شاید، مرکز کے پاس فاضل وقت بہت ہے اور وہ مذاکرات پر مذاکرات کے ذریعہ کسان نمائندوں کو تھکا دینا چاہتا ہے تاکہ اُن ہزاروں مظاہرین میں بھی اُکتاہٹ پیدا ہوجائے جو طوالت ِ احتجاج کے متحمل نہیں ہوسکیں گے۔ 
 یہی وہ شے ہے جسے سمجھنے میں مرکزی حکومت غلطی کررہی ہے۔ جہاں تک ہم اس احتجاج اور اس میں شامل مظاہرین کو دیکھ رہے ہیں ان میں تھکان یا اُکتاہٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مظاہرین جانتے ہیں کہ احتجاج خاصا طویل ہوسکتا ہے کیونکہ وہ، ’’ماننے کے بجائے منوانے‘‘ کے مرکزی حکومت کے طرز عمل سے واقف ہیں۔ اسی لئے انہوں نے بار بار کہا کہ اُن کی تیاری چھ ماہ کی ہے۔ اِدھر کچھ دنوں سے وہ ۲۰۲۴ء تک ڈٹے رہنے کے عزم کا اظہار کررہے ہیں۔
 سپریم کورٹ کی مذکورہ بنچ نے کسان آندولن کا انسانی نقطۂ نظر سے بھی جائزہ لیا جس پر مرکزی حکومت نے قطعاً توجہ نہیں دی تھی۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ مظاہرہ میں بچے بھی ہیں، ضعیف بھی اور خواتین بھی۔ انہیں واپس جانے کیلئے نہیں کہا جاسکتا کیونکہ احتجاج اور مزاحمت اُن کا بھی حق ہے، مگر اتنی ٹھنڈمیں اُن کا کھلے آسمان کے نیچے بیٹھنا اُن کی صحت کیلئے نقصاندہ ہوسکتا ہے اس لئے چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڑے نے سپریم کورٹ کی جانب سے بھی اور اپنی جانب سے بھی اپیل کی کہ بچے، ضعیف اور خواتین گھر واپس چلے جائیں۔ 
 اہم بات یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ نے احتجاج کے حق کو تسلیم کیا اور یہ تک کہا کہ کمیٹی تشکیل دیئے جانے کامطلب یہ نہیں کہ عدالت احتجاج روکنا چاہتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ احتجاج کسانوں کا حق ہے اور آپ اسے جاری رکھ سکتے ہیں، ہم یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اسے روک دیں البتہ جگہ کے تعلق سے گفتگو ہوسکتی ہے۔ مگر منگل کو جگہ کے تعلق سے عدالت نے کوئی حکمنامہ جاری نہیں کیا۔  
 مختصر یہ کہ عدالتی مطمح نظر آئینے کی طرح صاف ہے مگر مرکز اسے سمجھ نہیں رہا ہے، سمجھنا نہیں چاہتا۔ پیر کو عدالت نے جو کچھ کہا مرکز کی سبکی اس سے بھی ہوئی اور منگل کو اسٹے لگنے سے بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی پسپائی کے باوجود کسانوں کی سننے کا روادار نہیں ہے۔ کسی چیز کو اَنا کا مسئلہ بنالیا جائے تو یہی ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK