مزدوروں کا بحران سرکار کی بے عملی کا منہ بولتا ثبوت

Updated: May 10, 2020, 1:07 PM IST | Mubasshir Akbar

جن لوگوں نے سرکاری بینکوں سے ہزاروں کروڑ روپے قرض لئے اور پھر انہیں ہضم کرنے کے بعد ادائیگی کے موقع پر دیوالیہ ہونے کا بہانہ کرنے لگے ، ان کی پائی پائی معاف کردی گئی لیکن عوام کو اور خصوصاً مزدوروں کو کو راحت دینےکیلئے کوئی قدم نہیںاٹھایا جارہا ہے، اورنگ آباد سانحہ سرکاری بے حسی کی ایک اور مثال ہے

Labors - Pic : INN
مزدور ۔ تصویر : آئی این این

 کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں لاک ڈائون کا تیسرا دور جاری ہے جو ۱۷؍ مئی تک جاری رہے گا لیکن معاملات بڑھنے کی رفتار کو دیکھا جائے تو یہ اندیشہ غلط نہیں ہےکہ ۱۷؍ مئی کے بعد بھی اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔یہ لاک ڈائون پوری دنیا کا سب سےسخت اور طویل ترین لاک ڈائون کہلارہا ہے کیوں کہ مرکزی حکومت کے پاس کورونا سے لڑنے کا کوئی منصوبہ بہر حال نہیں ہے اور وہ لاک ڈائون کو ہی سب کچھ مان کر چل رہی ہے جس کی وجہ سے ۱۹۴۷ء میں ملک کی تقسیم کےبعد کا سب سےبڑا المیہ پیدا ہوا ہے اور اس سےسب سے زیادہ متاثر ملک کے غریب اور مزدور ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیںجو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلاتے ہیں کیوں کہ مزدور ملک کی تعمیر کاکام کرتے ہیں جبکہ غریب عوام معیشت میں ڈیمانڈ پیدا کرکے اس کا پہیہ گھمانے کاکام کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے لاک ڈائون نے دنیا کے کسی بھی ملک میں غریبوں اور مزدوروں کے لئے وہ مسائل پیدا نہیں کئے جو ہندوستان میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
  اس لاک ڈائون میں غریبوں اور مزدوروں کو کن اذیتوں سے گزرنا پڑ رہا ہے اس کا احساس  حکومت کو نہیں ہے۔ اس نے لاک ڈائون پر لاک ڈاون کا اعلان کیا مگر ان کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔وہ کروڑوں مزدور جو دیہی علاقوں سے دوسری ریاستوں میں کام کرنے جاتے ہیں ان پر بھکمری کا دروازہ کھل گیا ہے۔ جب پہلے لاک ڈائون کے بعد وہ سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے گھروں کو جانے لگے تو حکومت انتہائی سخت ہو گئی اور  انتظامیہ  کےساتھ ساتھ میڈیا نے انہیں طرح طرح سےبدنام کرنا شروع کردیا۔  ایک تو لاک ڈائون کی وجہ سے کروڑوں مزدور بے روزگار ہو گئے۔ دوسرے ان کی واپسی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا  اور جب وہ کسی طرح اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے تو پولیس کے ظلم کے شکار ہونے لگے۔ حالانکہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بیشتر جگہوںپرپولیس نے مزدوروںکی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بہت سی جگہوں پر پولیس کا عتاب مزدوروں پر ہی ٹوٹا ہے۔ وزیر اعظم  مودی بار بار اپنی تقریروں میں عوام اور خاص طور پر غریبوں کیلئے اپنے دل میں خصوصی جگہ ہونے کی بات کرتے ہیں اور انہیں منتخب کرنے کے لئے ان کا شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتے ہیں لیکن ان کی حکومت بار بار اپنے اقدامات سے یہ ثابت کرتی رہتی ہے کہ وہ غریبوں کی نہیں بلکہ امیروں کی سرکار ہے۔   اس سلسلے کی ایک مثال  حال ہی میں سامنے آئی ہے کہ مرکزی حکومت نے نیرو مودی، میہول چوکسی اور وجے مالیا وغیرہ کے ہزاروں کروڑ روپے معاف کر دیئے ہیں۔یہ کس مد میں اور کس ذیل میں معاف کئےگئے اسپر اگر سوال کئے جائیں تو حکومت کے پاس بینکوں کا این پی اے کم کرنے کا جواز رہتا ہے لیکن یہ سبھی جانتے ہیں اور مانتے بھی ہیں کہ یہ قرض کیوں اور کس وجہ سے معاف کئے گئے ہیں لیکن جب غریبوں کے قرض معاف کرنے کے بات آتی ہے تو  حکومت کا رویہ تبدیل ہو جاتا ہے۔  اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے حکومت سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ غریبوںکیلئے مفت راشن کا انتظام کرے ، ان کی ای ایم آئی اور دیگر بل  ادا کرنے میں سہولت فراہم کرے لیکن اب تک حکومت کے کانوںپر  جوں نہیں رینگی ہے لیکن جن لوگوں نے سرکاری بینکوں سے ہزاروں کروڑ روپے قرض  لئے اور پھر انہیں ہضم کرنے کے بعد ادائیگی کے موقع پر دیوالیہ ہونے کا بہانہ کرنے لگے ،   ان کی پائی پائی معاف کردی گئی لیکن عوام کو راحت دینے کے سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔
 گزشتہ ۴۰؍ دنوں تک تو یہاںوہاں پھنسےافراد  نے کسی طرح صبر کرلیا ،سرکاری قرنطینہ مراکز میں ، جہاں کام کرتے تھےوہاں پر  یا اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہتے ہوئے ان افراد نے کسی طرح دن کاٹ لئے لیکن اب جب حکومتوں کی جانب سے تھوڑی تھوڑی رعایت دی جارہی ہے تو ان کے اندر بے چینی بڑھتی  جارہی ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ کئی جگہوں پر مزدوروں اور پولیس کے درمیان کئی جگہوںپر جھڑپیں ہوئیں تو کچھ جگہوں پرپتھرائو بھی کیا گیا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ مزدور اب  اپنے اپنے گھر جانے کو بے قرار ہو گئے ہیں۔ وہ کسی بھی طرح اپنے گھر پہنچنا  چاہتے ہیں لیکن  ملک میں اب بھی کورونا کے معاملات کی رفتار قابو میں نہیں آئی ہے جس کی وجہ سےریاستی حکومتیں بھی  مزدوروں کے معاملات میں ہچکچارہی ہیں۔  جب مزدوروں کی جانب سے احتجاج بڑھنے لگا اور ان کی بے چینی کئی جگہوں پر ظاہر ہو ئی تو حکومت نے بسوں کا انتظام کیا تاکہ ان سبھی کو گھر بھیجا جاسکے لیکن ان مزدوروں کی تعداد چونکہ کروڑوںمیں ہے اور ہر شہر میں یہ لاکھوں میں بستے ہیں اس لئے یہ ظاہر تھا کہ بسوں کی تعداد ناکافی ثابت ہو گی ۔ آخر بڑی حیل و حجت کے بعد سرکار نے خصوصی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا لیکن اس میں بھی ایک پخ یہ لگادی کہ کرایہ ان ہی مزدوروں  سے وصول کیا جائے گا۔   یہ انتہائی غیر انسانی حرکت ہے کہ پریشان حال افراد سے جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے، ن سے کرایہ وصول کیا جائے۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ تمام مزدوروں کا چیک اپ کرنے کے بعد  انہیں خصوصی ٹرینوں میں بٹھاکر روانہ کردیا جاتا ۔ ان سے کرایہ وصول کرکے حکومت نے اپنی بے حسی کا ثبوت پیش کردیا۔ ہر چند کہ اپوزیشن کی جانب سے اس پر شدید تنقیدیں کی گئیں اوراعلان کیا گیا کہ مزدوروں کا کرایہ ان کی سرکاریں ادا کردیں گی۔ اس اعلان کے بعد حکومت کو ہوش آیا کہ وہ اب تک سخت بے حسی کا مظاہرہ کرتی آئی ہے اور اس تب کہیں جاکر کرایہ کی وصولی بند کی لیکن تب تک پوری دنیا دیکھ چکی تھی کہ مودی حکومت  سے کیا امید کی جاسکتی ہے۔
 ادھر اورنگ آباد میں پٹریوں پر پیش آنے والا سانحہ  یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ حکومت نے  بالکل بھی منصوبہ بندی سے کام نہیں لیا ورنہ اتنا بڑا واقعہ پیش نہیں آتا۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اس معاملے میں بالکل بجافرمایا کہ اس طرح کے واقعات پر ہمیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے کیوں کہ یہ مزدور پٹریوں پر چلنے اور اس پر سونے کے لئے اسی وجہ سے مجبور ہوئے کیوں کہ لاک ڈائون کی مسلسل توسیع نے ان کے لئے کوئی چارہ نہیں چھوڑا تھا کہ پٹری کا سہارا لے کر ہی چلیں۔ اگر وہ سڑک کو اپناتے تو ممکن تھا کہ پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے اور پھر انہیں وہیں بھیج دیا جاتا  جہاںسے وہ آئے تھے۔ یہی وجہ رہی کہ وہ پٹریوں سے اپنے گھر جانے کے لئےنکلے تھے لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا یہ سفر آخری ہے۔ ایک ساتھ ۱۶؍ افراد کا ٹرین سے کٹ جانا ثابت کرتا ہے کہ وہ کتنے تھک گئے تھے کہ قریب آتی ہوئی  مال گاڑی کی گڑگڑاہٹ بھی انہیں گہری نیند سے  بیدار نہیں کر سکی ۔  ایک طرف اگر وہ بیدا ر نہیں ہوسکے تو دوسری طرف حکومت بیدار ہونا نہیں چاہ رہی ہے ۔ وہ یہ تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں ہو رہی ہے کہ مزدوروںکا بحران بہت بڑا ہے اور اسے ختم کرنے میں حکومت کو ناکوں چنے چبانے پڑیںگے ۔وہ یہ ماننے کو بھی تیار نہیں ہے کہ معیشت کا بحران   اس کی سوچ سے کہیں بڑا ثابت ہو نے والا ہے۔ اس پر قابو پانے کیلئےاپوزیشن کی جانب  سےمسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن حکومت اب بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہے۔پیکیج کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے لیکن حکومت نے اس پر بھی اب تک دھیان نہیں دیا ہے۔ ایسے میں اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت کو گھیرنا شروع کردیا ہے۔ ہوسکتا ہےاب سرکار کو ہوش آجائے اور وہ کوئی بہتر قدم اٹھائے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK