لاک ڈاؤن، کورونا کا قہر اور لیڈران کی موقع پرستی

Updated: April 22, 2021, 3:44 PM IST | Khalid Shaikh

حالات نے جو خطرناک موڑ لیا ہے اس میں زندوں کے کام آنے والی ادویات وآلات کے ساتھ شمشان بھومی و قبرستان میں مردوں کے لئے بھی زمین تنگ ہوگئی ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

گزشتہ سال کوو ڈ کو لے کر مارچ میں لگایا جانے والا لاک ڈاؤن دنیا کا سخت ترین لاک ڈاؤن تھا اس کے باوجود اگلے چھ مہینے میں ہندوستان مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے بدترین ممالک کی فہرست میں پچیسویں سے دوسرے نمبر پر آگیا۔ حیرت کی بات یہ ہوئی کہ اموات کی شرح بہتر ہیلتھ انفراسٹرکچر والے ممالک کے مقابلے بےحد کم رہی جس نے ہر کسی کو چونکا دیا ، لیکن ’مودی ہےتو ممکن ہے‘ کا نعرہ لگانے والے بھکتوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ مودی نہ ہوتے تو لاکھوں کووڈ کی بھینٹ چڑھ جاتے ۔ اس طرح کی حرکتیں بھکتوں کے معمولات میں شامل ہیں ۔ کووڈ کے پہلے دَور میں اموات  میں شرح کی کمی پر حکومت اور عوام دونوں نے راحت کی سانس لی تھی کہ برا وقت گزر گیا ۔ لیکن یہ راحت وقتی اور سراب ثابت ہوئی۔ ہم نے طبی ماہرین کی آگاہی اور تنبیہ کو  سنجیدگی سے نہیں لیا جس میں بتایا گیا تھا کہ کووڈ آسانی سے پیچھا چھوڑنے والا نہیں ہے۔ اسے مہینوںاوربرسوں لگ  سکتے ہیں اس لئے ہمیں اس کے ساتھ جینے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ اس میں یہ اشارہ بھی تھا کہ کووڈ کی اگلی لہر پہلے سے زیادہ خطرناک  ، متعدی اور مہلک ہوگی۔ دوسری لہر اچانک نہیں آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ فروری ۲۰۲۱ء کے وسط میں اس نے دبے پاؤں ہندوستان پر اس وقت دستک دی تھی جب حکومت اور عوام دونوں یہ سوچ کر خواب غفلت میں تھے کہ ہم نے مہاماری کو شکست دے دی ہے۔ مہاماری  کا اثر مارچ اوراپریل کے مہینے میں نظر آیا جب مریضوں اور اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ۔ اپریل  کے اوائل میں مریضوں کی تعداد یومیہ دو لاکھ کے اندر تھی۔ ۱۶؍ اپریل کو یہ دو لاکھ کا آنکڑا پار کر گئی۔ اگریہی رفتار رہی تو بعید نہیں کہ آئندہ چند دنوں میں یہ تین لاکھ تک پہنچ جائے۔ اسی طرح ۱۶؍ اپریل کو مرنے والوں کی تعداد ۱۳۵۰؍ تھی جو دوسرے دن ۱۵۰۰؍ ہوگئی ۔ اطمینان کی بات صرف یہ ہے کہ مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر اموات کی تعداد اب بھی کم ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مریضوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ اموات کی تعداد میںاضافہ ناگزیر ہوگا ۔
  مریضوں اور اموات میں اضافے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ لوگ آج بھی حفاظتی تدابیرپر عمل کرنے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ یہ  بھی ممکن ہے کہ موجودہ لہر  ، پہلی کے مقابلے زیادہ متعدی ہو۔ دونوں ہی صورتوں میں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ایک عام آدمی کو انفیکشن متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے میں آنے سے ہوتا ہے لیکن چونکہ متاثر افراد کی بڑی تعداد میں کورونا کی علامتیں فوراً سر نہیں اٹھاتی ہیں اس لئے صحتمند انسان اور مریض میں تمیز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ انفیکشن سے بچنے کےلئے سماجی  دوری کا التزام کیا جائے۔ یہاں ایک اور غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیکہ لگانے کے بعد وہ ’کووڈ مکت‘ ہو جاتے ہیں۔ یہ محض خام خیالی ہے جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیکہ لگانے والوں کے خال خال کیس میں انفیکشن دوبارہ ہوسکتا ہے اور اس کے مضرری ایکشن  سےجان بھی جا سکتی ہے۔ گزشتہ ایک سال کی خبروں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ کیسی کیسی بزرگ اور نامور ہستیاں اس کا شکار ہوگئیں۔ ایک طبقہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ ٹیکہ لگانے کے بعد وہ کتنے عرصے تک انفیکشن سے محفوظ رہ سکتا ہے ؟ اس بارے میں قطعی طور پر کچھ  بھی کہنا مشکل ہے کیونکہ جب تک کووڈ کا صدفیصد حتمی علاج دریافت نہیں ہوجاتا ، یہ سوال تشنۂ جواب رہے گا۔بہتر ہوگا کہ ’دو گز کی دوری ، ماسک ضروری‘ کے ساتھ ہاتھ دھونے کو اپنی عادت میں شامل کرلیجئے ، خود بھی محفوظ رہیں گے اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں گے ، ان شاء اللہ۔ اب آئیے ایک دوسرے پہلو پر۔ کووڈ کے تئیں عوام کی بے احتیاطی کو  سال بھر سے لگی پابندیوں سے پیدا بیزاری سے تعبیر کیاجاسکتا ہے لیکن سیاستدانوں اور اربابِ اقتدار کی مجرمانہ غفلت کو آپ کیا نام دیں جو ’خود را فضیحت، دیگراں را نصیحت‘ کی تصویر بنے پھرتے  ہیں۔ یہ وہ لوگ  ہیں جنہیں  صرف اقتدار  اور سیاسی مفاد عزیز ہوتا ہے ،اس کے لئے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ لوگ لاشوں پر بھی سیاست سے باز نہیں آتے اور اس میں بھی ہندو مسلم اینگل تلاش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک عام آدمی کی حیثیت ایک ووٹر سے زیادہ کی نہیں، جسے الیکشن ہونے تک ہر طرح سے منایا ، رِجھایا جاتا  ہے اور الیکشن کے بعد  الوداع کہہ دیا جاتا ہے۔  ہمارے لیڈروں کو ہماری کتنی فکر ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب دوسری لہر اپنا قہر ڈھا رہی ہے ، عوام کو راحت پہنچانے کے بجائے ہمارے لیڈران ، کووڈ پروٹوکول کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے ہزاروں کی بھیڑ اکٹھا کرکے عام آدمی کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ہم یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومت نے مہاکمبھ میلے میں حفاظتی تدابیر کے بغیر لاکھوں کو شرکت اور گنگا میں ڈبکی لگانے کی اجازت کس بنیاد پر دی ؟ جبکہ عبادت گاہوں اور مذہبی اجتماعات پر پابندیاں پہلے سے عائد تھیں۔ ہمیشہ کی طرح مودی نے تاخیر سے کمبھ میلے میں شریک اکھاڑوں سے سنیچرکو اپیل کی کہ وہ ’ڈبکی‘ کی رسم کو علامتی بنائیں ، جسے اکھاڑہ کے سربراہوں نے منظور کرلیا۔ کیا یہ کام پہلے نہیں کیا جاسکتا تھا؟ انتخابی ریلیاں ہوں یا کمبھ میلے میں عقیدتمندوں کا جم غفیر، دونوں نے انسانی زندگی پر جو ستم ڈھایا ہوگا اس کی پرتیں رفتہ رفتہ کھلیں گی ۔ حکومت کی غلط ترجیحات اس چیز سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وزیراعظم نے کووڈ کے دوسرے حملے کے ہفتوںبعد قوم سے خطاب کی ضرورت محسوس کی اور حوصلہ دلانے اور ڈھارس بندھانے والی باتیں کیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان باتوں کا زمانہ گزر گیا۔ بہتر ہوگا کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرکے دکھائیں ، کیونکہ حالات نے جو خطرناک موڑ لیا ہے اس میں زندوں کے کام آنے والی ادویات وآلات کے ساتھ شمشان بھومی و قبرستان میں مردوں کے لئے بھی زمین تنگ ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK