نوجوان نسل کا خیال ہے کہ مختلف قسم کے پکوانوں کے ذریعے جسم میں جانے والے ’ہر جز‘ کا ’ریکارڈ‘ رکھنے کے بجائے ٹیبلٹ اور گم (چیونگم جیسی چیز) لینا زیادہ آسان ہے۔
EPAPER
Updated: August 31, 2025, 12:49 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
نوجوان نسل کا خیال ہے کہ مختلف قسم کے پکوانوں کے ذریعے جسم میں جانے والے ’ہر جز‘ کا ’ریکارڈ‘ رکھنے کے بجائے ٹیبلٹ اور گم (چیونگم جیسی چیز) لینا زیادہ آسان ہے۔
سوشل میڈیا، خاص طور پر انسٹاگرام اسکرول کرتے وقت آپ کو ایسے ہزاروں انفلوئنسرز ملیں گے جو رنگ برنگے اور مختلف ساخت کے ٹیبلٹس، کیپسولس اور گمیز (چیونگم کی طرح ایک چپچپا مادہ) کھاتے، یا، اپنے مشروبات میں کولیجن پاؤڈر ملاتے نظر آتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں سپلیمینٹس کے زمرے میں آتی ہیں۔ بقول انفلوئنسرز چونکہ انہیں بازار میں دستیاب کھانے پینے کی اشیاء سے صحت کیلئے ضروری اجزا مخصوص مقدار میں نہیں ملتے اس لئے وہ سپلیمینٹس یا دواؤں کی شکل میں انہیں اپنے جسم میں پہنچاتے ہیں جن سے انہیں اپنی جلد اور جسمانی ساخت (ورزش کے ذریعے) بہتر اور پُرکشش بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ان ادویات کے متعلق آسانی سے یوں سمجھا جاسکتا ہے؛ جس طرح جم (ورزش گاہ) جانے والے بیشتر افراد مختلف قسم کے پاؤڈرز کے ذریعے اپنے جسم میں پروٹین پہنچاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح وٹامنز اور کولیجن کیلئے سپلیمینٹس استعمال کئے جاتے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان میں کولیجن والی ادویات کا حصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
سب سے پہلے جان لیجئے کہ کولیجن کیا ہے؟ یہ ایک قدرتی پروٹین ہے جو انسان اور جانوروں کے جسم میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ جسم کے مختلف حصوں میں ساخت اور مضبوطی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ جلد کو مضبوط، لچکدار اور جوان رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ عمر کے ساتھ کولیجن کی مقدار کم ہونے سے جھریاں پڑتی ہیں۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ جوڑوں کی حرکت میں آسانی اور لچک برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ بالوں اور ناخنوں کو صحتمند بناتا ہے۔ اس کی ۲۸؍ سے زائد اقسام ہیں۔ انسانی جسم میں موجود تمام پروٹین میں کولیجن کا حصہ ۳۰؍ فیصد ہے۔ انفلوئنسرز نے اس جز کو انتہائی اہم بنادیا ہے۔
گرینڈ ویو ریسرچ کے مطابق ہندوستان کا وٹامن سپلی مینٹ مارکیٹ ۴۲ء۹۷؍ بلین ڈالر کا ہے جس میں کولیجن کا حصہ ابھی کم ہے مگر یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے جس میں اہم کردار سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا ہے۔ وٹامن اور کولیجن فراہم کرنے والی درجنوں کمپنیاں ہندوستانی مارکیٹ میں موجود ہیں جن میں ویل بینگ نیوٹریشن، فاسٹ اینڈ اَپ، دی گڈ بگ اور بی اسپوک کے نام قابل ذکر ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ای کامرس یا تشہیر کے روایتی ذرائع کے برخلاف اس شعبے نے انسٹاگرام کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ انسٹاگرام نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ لوگ وٹامنز اور کولیجن کی ادویات کیلئے گوگل جیسے سرچ انجن کا نہیں بلکہ انسٹاگرام کا استعمال کرتے ہیں۔ انہیں استعمال کرنے والوں کی عمر۱۴؍ سے ۳۷؍ سال کے درمیان ہے، جن میں ۱۴؍ سے ۲۵؍ سال کا حصہ زیادہ ہے کیونکہ نوجوان نسل کا خیال ہے کہ مختلف قسم کے پکوانوں کے ذریعے جسم میں جانے والے ’ہر جز‘ کا ’ریکارڈ‘ رکھنے کے بجائے ٹیبلٹس اور گمیز لینا زیادہ آسان ہے۔ بی اسپوک کے شریک بانی کہتے ہیں کہ کمپنی کے ۷۰؍ فیصد سے زائد صارفین انسٹاگرام پر مصنوعات دیکھنے کے بعد ان سے رابطہ کیا ہے۔
لیکن ’’رِیل‘‘ (انسٹاگرام کا ایک فیچر جہاں مختصر ویڈیو دیکھے جاتے ہیں ) اور ’’ریئل‘‘ (حقیقی زندگی) میں فرق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹنگ کی یہ حکمت عملی صارفین کو طبی مشورے کے بغیر خود تجویز کردہ سپلیمنٹس (وٹامن، پروٹین، کولیجن، کیلشیم وغیرہ) پر اُکسا رہی ہے۔ متعدد تحقیقات میں واضح ہوا ہے کہ وزن کم کرنے والی اور چربی جلانے والی دوائیں، اور ورزش سے پہلے کے مشروبات کے ضمنی اثرات خطرناک ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ وٹامنز، جنہیں محفوظ سمجھا جاتا ہے، غلط استعمال ہونے پر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن برانڈز کہتے ہیں کہ وہ تمام احتیاطی تدابیر اپنا کر اپنا پروڈکٹ بناتے ہیں اور ان کی مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ ان اقدامات کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ’احتیاطی تدابیر‘ بہت زیادہ موثر نہیں ہیں۔ برانڈز اکثر الفاظ کے ساتھ کھیلتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈز کونسل آف انڈیا (اے ایس سی آئی) کی ایک فعال مانیٹرنگ ٹیم ممکنہ طور پر گمراہ کن اشتہارات کیلئے ڈجیٹل پلیٹ فارمز کو باقاعدگی سے اسکین کرتی ہے اور جہاں ضرورت ہو تحقیقات کرتی ہے۔ اس کے باوجود بازار میں دستیاب اور نت نئے سپلیمینٹس کے بارے میں جب تک تحقیقات شروع کی جاتی ہیں تب تک ان کے مضر اثرات صارف پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اکثر معاملات میں ایسا ہوتا ہے کہ صارف کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ فلاں دوا لینے سے اس کے جسم پر کیا اثر ہوا۔ وہ اثر سمجھ پاتا ہے نہ اے ایس سی آئی تک یہ بات پہنچتی ہے کہ کس برانڈ نے کس شخص پر کیا اثر دکھایا۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ آپ دوا کی شکل میں جسم میں جو بھی چیز پہنچاتے ہیں، اس کا چھوٹا اور قلیل مدتی ہی سہی مگر مضر اثر ضرور ہوتا ہے۔ انسانی جسم اپنے پیچیدہ قدرتی نظام کے سبب کافی کچھ’’جھیل‘‘ لیتا ہے، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب ادویات کے سبب اس کی طاقت کم ہونے لگتی ہے اور وہ اتنا کمزور ہوجاتا ہے کہ جسم میں آنے والے اجزاء سے لڑنے کے قابل نہیں رہ جاتا جس کے سبب انسانی جسم پر مضر اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہر انسان کا مدافعتی نظام مختلف ہوتا ہے۔ بعض پر اثرات جلد تو بعض پر دیر میں نظر آتے ہیں۔ سپلیمینٹس کے بڑھتے مارکیٹ میں صارفین کو بیدار ہونا ہوگا اور کوئی بھی ’دوا‘ خریدنے اور اسے کھانے سے پہلے سوچنا ہوگا کہ وہ اس کی کیا قیمت ادا کررہے ہیں کیونکہ ماہرین صحت اور غذائیت کہتے ہیں کہ سائنس انسٹاگرام فلٹرز کی طرح بے عیب نہیں ہے۔