سلامت جذبۂ خیر آپ کی پہچان بن جائے

Updated: April 24, 2021, 4:12 PM IST | Shahid Latif

گزشتہ سال ہی سے یہ جذبہ بہتوں کو سرگرم عمل رکھے ہوئے ہے۔ وباء نے شدت اختیار کی تو ان صاحبان کی سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ یہ لائق ستائش ہے مگر ضروری ہے کہ اسے جاوداں بنانے کی فکر کی جائے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

صحیح کیا ہے؟ یا ، یوں کہہ لیجئے کہ زیادہ صحیح کیا ہے؟: ’’جب تک انسان ہے، انسانیت رہے گی‘‘ یا ’’جب تک انسانیت ہے، انسان رہے گا‘‘ ؟ 
 آئیے پہلے فقرے پر غور کرتے ہیں:
 انسانیت انسان سے ہے۔ انسان نہیں ہوگا تو انسانیت کہاں رہ جائیگی۔ اگر انسان انسانیت سے نا آشنا ہے تو ایسے انسان کو انسان کہا ہی کیوں جائیگا؟ کچھ انسانوں میں انسانیت کا سمندر موجزن رہتا ہے اور کچھ میں کبھی کبھی تھوڑی بہت انسانیت اپنا جلوہ دکھا جاتی ہے۔ دُنیا بھلے ہی ظاہر نہ کرے مگر عملاً کرتی یہی ہے کہ کسی انسان کو اُتنا ہی انسان مانتی ہے جتنی اُس میں انسانیت ہوتی ہے۔ اسلئے کہا جاسکتا ہے کہ پہلا فقرہ درست ہے کہ جب تک انسان ہے انسانیت رہے گی۔
 مگر جب انسانیت نہیں رہ جائیگی تو انسان، انسان ہوکر بھی انسان کیونکر رہ جائیگا؟ اس کے افعال غیر انسانی ہو جائینگے تو انسانیت کا بوجھ قرار پائینگے۔ پریشانیوں میں، مشکلات میں، انسان تو منہ بھی موڑ لیتا ہے مگر انسانیت راحت پہنچاتی ہے چنانچہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ جب تک انسانیت ہے، انسان رہے گا۔ اگر انسانیت سے دور ہوا تو علم کی چاہے جس منزل پر پہنچے، کتنا ہی ترقی یافتہ کہلائے، اُسے انسان کہنے میں تکلف اور انسان ماننے میں تردد ہوگا۔
 مولانا عبدالماجد دریا بادی نے انسانیت کو علم نفسیات کی روشنی میں الفت و ہمدردی سے موسوم کیا اور بتایا کہ ’’اس جذبے کے دو مختلف مدارج ہیں۔ جسمانی اور نفسی۔ پہلا درجہ (جسمانی) شعور و ارادہ سے خالی ہوتا ہے ۔ اسے جذبۂ ہمدردی کا ایک درجہ قرار دینے کے بجائے اس کا مقدمہ کہنا زیادہ مناسب ہے۔‘‘
 اس ضمن میں مولانا نے مثالیں پیش کیں کہ دوسروں کو انگڑائی لیتا ہوا دیکھ کر ہم بھی انگڑائی لینے لگتے ہیں، دوسروں کو روتا دیکھ کر ہمارے بھی آنسو نکلنے لگتے ہیں، ایک مرغ بانگ دیتا ہے اس کی آواز سن کر دوسرا مرغ بھی بانگ دیتا ہے، وغیرہ۔ ہمدردی کا دوسرا درجہ مولانا موصوف نے اس طرح بیان کیا: ’’اس منزل میں ہم دوسروں کے آثار جسمی ہی کی تقلید و محاکات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ جس جذبے سے وہ متاثر ہورہے ہیں بعینہ وہی جذبہ ہم اپنے نفس میں بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کو غمگین پاکر جب ہم محض اپنی صورت ہی نہیں اُداس بنالیتے بلکہ ساتھ ہی غم کی ایک باطنی کیفیت سے بھی ہم متحسس ہوتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ہم ان سے ہمدردی کررہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے: افسردہ دل افسردہ کند انجمنے را (دل افسردہ تھا اس نے پوری محفل کو افسردہ کردیا)۔ لیکن کچھ افسردگی کی تخصیص نہیں بلکہ خوف، غضب، حزن، یاس، مسرت وغیرہ تمام جذبات متعدی ہیں یعنی ایک سے دوسرے میں سرایت کرجاتے ہیں اور اس کا باعث یہی جذبۂ ہمدری ہوتا ہے۔ جن لوگوں میں یہ جذبہ قوی ہوتا ہے وہ دوسروں کے کام میں ہاتھ بٹانے اور ان کی شادی و غم میں شریک ہونے کے لئے زیادہ آمادہ و مستعد رہتے ہیں۔ بہ خلاف اس کے جن میں یہ جذبہ ضعیف ہوتا ہے وہ سوسائٹی سے الگ تھلگ رہتے ہیں اور خشک و کج خلق کہلاتے ہیں۔‘‘ (فلسفہ ٔ جذبات ص ۱۷۹۔۱۸۰) 
 معلوم ہوا کہ پہلا درجہ (جسمانی) اتنا اہم نہیں جتنا کہ دوسرا (نفسی) اہم ہے کیونکہ یہ دیکھا دیکھی نہیں ہے بلکہ اس میں جذبہ و ارادہ کی کارفرمائی شامل ہے۔ ایسے دور میں جب عالم انسانیت ایک نادیدہ جرثومے سے نبرد آزما ہے، ہمدردی و غمگساری اور الفت و خدمت کے جابجا مظاہر انسانیت کے زندہ ہونے کا بین ثبوت ہیں۔ گزشتہ سال ہی سے انسانیت کا سر بلند کرنے والی مثالیں سامنے آرہی ہیں۔ اب جبکہ کورونا کا قہر پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑھ گیا ہے، ہم آپ دیکھ رہے ہیں کہ جذبہ ٔ انسانیت سے معمور لوگوںکی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ لوگ مریضوں کی خدمت میں شب و روز ایک کئے ہوئے ہیں۔ ایک شناسا نے بتایا کہ وہ اسپتال میں اپنے ایک عزیز کو لے گئے تھے، اس سے قبل کہ اُنہیں ایڈمٹ کیا جاتا، انہوں نے آس پاس کے مریضوں کی آہ و بکا سنی تو تھوڑی دیر کیلئے اپنے مریض کو بھول گئے اور ان ہی کی دلدہی میں مصروف ہوگئے۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی جذبۂ خیر سے سرشار لوگ استحکام انسانیت کیلئے تسلسل کے ساتھ سرگرم ہیں۔ یہ کسی سے کہنے نہیں جاتے کہ کیا کررہے ہیں۔ کوئی دوسرا اُن کی خدمات پر روشنی ڈالنا چاہے تو منع کردیتے ہیں کہ ایسا کرنے سے وہ جذبہ آلودہ ہوگا۔ انسانیت ایسے ہی لوگوں سے زندہ ہے اور اسے زندہ رکھنے میں فرقہ و مذہب اور طبقہ و سماج کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانے سے لے کر مریضوں کیلئے اسپتالوں میں بیڈ تلاش کرنے تک، روپے پیسے کا انتظام کرنے سے لے کر مہنگی دواؤں کا بل ادا کرنے تک، عام انسانوں کو اس مہلک بیماری سے بچانے کے مقصد سے طبی تدابیر کے ویڈیو اَپ لوڈ کرنے سے لے کر عوام کو متنبہ کرنے تک کہ آپ کے پاس دیگر متبادل کیا ہیں، جذبۂ خیر دو ر دور تک دکھائی دے رہا ہے۔ اس پر انسانیت ناز کررہی ہے اور انسانوں کے اتنا قیمتی ہوجانے پر شاداں و فرحاں ہے۔ 
 یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہوئے کہ مولانا عبدالماجد دریابادی نے اُلفت و ہمدردی کو جن دو مدارج، جسمانی و نفسی، میں منقسم کیا تھا مذکورہ مثالیں ان میں سے کس درجے میں رکھی جائینگی، مَیں آپ کی توجہ اس سوال پر مرکوز کروانا چاہتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے کہ جب کوئی بڑی مصیبت آتی ہے تب ہی لوگ بڑی تعداد میں سرگرم ہوتے ہیں مگر روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی مصیبتوں سے خلق خدا کو راحت دلانے کیلئے اتنی سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کرتے؟ 
 ممکن ہے کہ اِس وقت یہ سوال محل نظر معلوم ہو مگر میرے خیال میں یہی وقت ہے جب یہ عزم کیا جاسکتا ہے کہ وبائی دور ختم ہوجانے کے بعد بھی جذبۂ ہمدردی و غمگساری کو اسی طرح متحرک رکھا جائے گا جس طرح یہ آج ہے۔ انسانیت کو مستحکم کرنے اور مستحکم رکھنے کیلئے یہ عزم ضروری ہے جس سے نفرت پھیلانے والوں، سماج کو بانٹنے والوں، تنازع پیدا کرکے عوامی طبقات کو ایک دوسرے سے لڑانے والوں اور خلاف ِانسانیت کام کرنے والوں کو شکست دی جاسکے گی۔ سماج کو بانٹنے والے اسی وقت طاقت پاتے ہیں جب سماج کو متحد دیکھنے والے حرکت و عمل کو اپنا شعار نہیں بناتے۔ ایک بات اور۔ ان حالات میں جذبۂ خیر کی جتنی مثالیں آپ کے سامنے آئیں اُنہیں مشتہر کیجئے، ایسا کرنے سے بھی جذبۂ انسانیت فروغ پاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK