ممبئی کے جمعہ مسجد ٹرسٹ کی مثالی انسانیت دوستی

Updated: July 31, 2020, 9:19 AM IST | Shamim Tariq

مشہور ہے کہ ’’درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو‘‘۔ انسان پر لازم ہے کہ انسانیت کے کام آئے۔ اسی نسخہ ٔ کیمیا پر عمل کرتے ہوئے یہ ٹرسٹ خدمت خلق کی عمدہ مثال قائم کررہا ہے۔

Coronavirus Fear - Pic : PTI
کورونا وائرس کا خوف ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ملک جب تک غلام تھا یہی سمجھا جاتا تھا کہ انسانیت کو شرمسار کرنے والے واقعات انگریز کراتا ہے۔ ملک آزاد ہوا تو کہا جانے لگا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی لہر تقسیم ہند کا ردِ عمل ہے اور جلد ہی یہ ردِ عمل ختم ہوجائے گا مگر دھیرے دھیرے یہ حقیقت لوگوں کے سامنے آنے لگی کہ ایک خاص ذہن کے لوگ نفرت کی سیاست کے سہارے اقتدار کی فصل کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اڈوانی کی رتھ یاترا کے بعد تو نفرت کی یہ سیاست اس طرح پروان چڑھی کہ اس کے خلاف بولنے والے نہ صرف کم سے کم ہوتے رہے بلکہ خود کو سیکولر کہنے والے لیڈران بھی فرقہ واریت کو ہوا دینے والی پارٹیوں میں شامل ہونے لگے۔ عروس البلاد ممبئی کا کردار دوسرے شہروں سے جدا رہا ہے۔ تمام مذاہب و مسالک کے لوگ یہاں ہمیشہ سے مل جل کر رہتے رہے ہیں۔ مگر ۹۲ء میں بابری مسجد کی شہادت اور ۹۳ء میں سلسلہ وار بم بلاسٹ کے بعد تو یہاں کی فضا بھی فرقہ وارانہ زہر سے اس درجہ آلودہ ہوگئی کہ انسانی رشتے بھی محفوظ نہیں رہے۔
 اب اسی ممبئی سے خبر ملی ہے کہ یہاں کا جمعہ مسجد ٹرسٹ جو مرین لائنز میں واقع بڑے قبرستان کا بھی انتظام سنبھالتا ہے کورونا سے مرنے والے مسلمانوں کی لاوارث میت کے ساتھ اُن ہندوئوں یا دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی ایسی میت کی آخری رسوم کی ادائیگی میں بھی مدد دے رہا ہے جن کا کوئی وارث نہیں ہے یا وارث تو ہیں مگر وہ میت کے قریب آنے سے ڈرتے ہیں۔ اس ٹرسٹ کے چیئرمین شعیب خطیب نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ تقریباً ڈھائی سو (۲۰ ؍ جولائی تک) ایسی غیر مسلم میت کی آخری رسوم جمعہ مسجد ٹرسٹ نے انجام دی ہیں جو اسپتالوں میں پڑی ہوئی تھیں اور کوئی بھی ان کی آخری رسوم ادا کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ جمعہ مسجد ٹرسٹ نے یہ کام کیسے شروع کیا؟ اس کا جواب یہ ملا کہ اسپتال اور میونسپل انتظامیہ نے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنوں کی لاوارث میت کی تجہیز و تکفین تو کرہی رہے ہیں دوسروں کی آخری رسوم بھی انجام دیں۔ ٹرسٹ نے ان کی درخواست پر عمل کرنا اپنا انسانی فریضہ سمجھا۔
 راقم الحروف نے جب داڑھی ٹوپی والوں کو اسپتال سے لاوارث میت کو قریب کے شمشان تک پہنچاتے دیکھا تو اس سوچ میں پڑ گیا کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کی وضع قطع کے ساتھ مذہب کو بھی دہشت گردی اور انسانیت دشمنی سے جوڑا جاتا رہا ہے؟ یہ تو دوسروں سے بہتر انسان ہیں اور اچھے انسان دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں میں بھی موجود ہیں۔ اس کو تقریباً ۴۵؍ سال پہلے کا ایک واقعہ بھی یاد آیا کہ وہ جمعہ مسجد کے قریب ہی ایک کرائے کے کمرے میں رہتا تھا۔ ایک روز اس کے دوست سریش پنت ملاقات کیلئے آئے تو دیکھا کہ اس کی طبیعت بہت خراب ہےاور پرسانِ حال کوئی نہیں۔ وہ اسپتال لے گئے، وہاں فارم بھرتے ہوئے اس نے لکھوا دیا کہ اگر وہ مرجائے تو اس کی میت اُن کو دیدی جائے جو سنت طریقے سے تجہیز و تکفین کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد پنت دوڑتے ہوئے آئے کہ کائونٹر والا پوچھ رہا ہے کہ سنت طریقے سے آخری رسوم کون ادا کرتا ہے؟ راقم نے جواب دیا مسلم میت دفن کرنے والی کوئی بھی مسلم تنظیم۔ بہرحال اللہ نے شفا عطا کی اور وہ گھر لوٹ آیا۔ 
 قدرت کے کھیل بھی نرالے ہیں۔ کہاں تو راقم کا شمار لاوارث میت میں ہونے والا تھا، کہاں اللہ نے چند ہی برس میں اُسے ایک ایسے منصب پر پہنچا دیا کہ پانچ چھ سال کے دوران اُس نے کئی سو میت اُن کے عزیزوں کو دلوانے میں مدد دی۔ ہر روز نہیں تو ہر دوسرے دن تو اسپتال جانا ہی پڑتا تھا۔ کم و بیش دو درجن ایسی میت کی تدفین بھی کی جن کا کوئی وارث نہیں تھا۔ اس دوران ایسے ایسے واقعات دیکھے کہ حیرت بھی ہوئی اور عبرت بھی۔ کئی متقی، پرہیزگار اور عالم شخص کی موت ہوئی اور کوئی نمازِ جنازہ پڑھنے والا نہیں ملا کہ وہ پردیس میں تھے۔ اس کے برخلاف، کئی مجرم اور جرائم پیشہ ٹولوں سے تعلق رکھنے والے مرے یا مارے گئے تو گلی محلہ میں اتنی بھیڑ ہوگئی کہ تل دھرنے کی جگہ بھی نہیں رہ گئی۔ ہندوستان کی ایک ریاست کے بارے میں سنا تھا کہ وہاں میت پر کرایہ کی رونے والیاں ملتی ہیں، ممبئی میں دیکھا یہاں بامعاوضہ ایصال ثواب کرنے والے بہت ہیں۔ راقم نے بیٹے کو تاکید کردی ہے کہ میں اکثر سفر میں رہتا ہوں۔ اگر ایسی جگہ میری موت ہوتی ہے کہ گھنٹہ دو گھنٹہ میں میت ممبئی لائی جاسکتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ جہاں موت ہوئی ہے وہاں کے عام مسلم قبرستان میں تدفین کردی جائے۔ راقم ایصال ثواب کا قائل ہے مگر چاہتا ہے کہ ایصال ثواب پسماندگان اور وابستگان کریں۔
 زندگی خاص طور سے بافیض اور بے ریا زندگی بھی نعمت ہے اور حسن خاتمہ کے ساتھ موت بھی۔ ان دونوں نعمتوں کے بجائے اپنی میت یا جنازہ کے بارے میں یہ خواہش کہ ’’دھوم سے نکلے‘‘ یا ’’دو چار محلے ذرا گھوم کے نکلے‘‘ بالکل لغو ہے۔ انسانی تاریخ، قومی تاریخ اور مسلمانوں کی ملی و دینی تاریخ میں ایسے سیکڑوں واقعات محفوظ ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کیسے کسیے نیک لوگوں کو گمنامی کی موت ملی  اور کتنے ایسے لوگوں کے جنازے پر شہر ٹوٹ پڑا جنھوں نے کوئی قابل قدر کام نہیں کیا تھا۔ 
 علم، دینداری اور اخلاقِ نبویؐ خدا ترسی سکھاتی ہے۔ جمعہ مسجد ٹرسٹ اس کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنوں کی لاوارث میت کی تجہیز و تکفین بھی کررہا ہےا ور دوسرے مذاہب کے  لوگوں کی ایسی میت کی آخری رسوم ادا کئے جانے میں بھی مدد دے رہا ہے جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ ان کا یہ کام یا بے غرض خدمت انسان دوستی کی روشن مثال ہے اور اس میں یہ پیغام بھی چھپا ہوا ہے کہ موت لکھی ہے تو کوئی بچا نہیں سکتا اور نہیں لکھی ہے تو کوئی مار نہیں سکتا۔ کورونا یا کسی اور خوف سے ہم  میت کو ہاتھ لگانے یا اس کی آخری رسوم سے کیوں رکیں؟  احتیاط کرنا اور خوف میں مبتلا ہوکر اپنے جیسے کسی شخص کی میت سے دور بھاگنا الگ الگ معاملہ ہے۔ ہمارا  دین احتیاط کا بھی حکم دیتا ہےاور دوا علاج کا بھی مگر خوف میں مبتلا ہونے والوں کو پسند نہیں  کرتا۔ اس کا فیصلہ یہ ہے کہ بہتر انسان وہ ہیں جو دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ جمعہ مسجد ٹرسٹ کے لوگ یقیناً بہتر انسان ہیں کہ وہ نقصان اٹھا کر بلکہ اپنے کئی لوگوں کی جان خطرہ میں ڈال کر ان لوگوں کو بھی فائدہ پہنچا رہے ہیں جن سے اپنوں کی میت بھی اٹھائی نہ گئی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK