میانمار، فوج اور عوام

Updated: December 08, 2021, 1:59 PM IST

میانمار میں نہ تو پہلے سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا نہ ہی اب ہے۔ گزشتہ دنوں، فوج کے ذریعہ جمہوریت حامی مظاہرین کے روندے جانے سے ۵؍ مظاہرین موقعۂ واردات پر ہی دم توڑ گئے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 میانمار میں نہ تو پہلے سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا نہ ہی اب ہے۔ گزشتہ دنوں، فوج کے ذریعہ جمہوریت حامی مظاہرین کے روندے جانے سے ۵؍ مظاہرین موقعۂ واردات پر ہی دم توڑ گئے۔ جیپ پر سوار فوجیوں نے پہلے تو مظاہرین پر گاڑی چڑھائی، اس کے بعد یہ فکر کئے بغیر کہ چند لوگ جیپ کے نیچے آکر کچل گئے ہیں، مظاہرین کو مارا پیٹا بھی اور اُنہیں گرفتار بھی کیا۔  میانمار کی فوجی حکومت اس ظلم و جور کے ذریعہ مظاہرین کو نچلا بٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ کارِ لاحاصل ہے۔ جب تک عوام کے احساسات اور  جذبات کو نہیں سمجھا جائیگا اور اُن کے جائز مطالبات کو منظور نہیں کیا جائیگا، تب تک عوامی بے چینی دور نہیں ہوسکتی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ عالمی برادری رواں سال کے اوائل سے میانمار کے سیاسی و سماجی حالات کا مشاہدہ کررہی ہے مگر لفظی جمع خرچ سے زیادہ اس نے کچھ نہیں کیا ہے۔ فروری میں فوج نے منتخبہ حکومت پر شب خون مارا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ تب سے یہ ملک اضطراب کے نئے دور سے گزر رہا ہے جس کا اظہار اُن احتجاجی مظاہروں سے ہوتا ہے جو فوج کی جارحیت کے باوجود رُکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔  چونکہ فوج کی زیادتی روز افزوں ہے اس لئے میانمار کے شہریوں نے کسی غیرمعمولی احتجاج کے بجائے مظاہروں کو مختصر رکھنے اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد جگہ بدلنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ فوج ان مختصر مظاہروں کا سلسلہ بھی ختم کرنا چاہتی ہے۔ مظاہرین کی حوصلہ شکنی اس کا یک نکاتی ایجنڈا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فروری سے اب تک ۱۳۰۰؍ مظاہرین اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ تعجب اس بات پر ہے کہ جمہوریت کی خاطر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجانے والا امریکہ اور اس کے اتحادی میانمار کے جمہوریت نوازوں کی مدد یا حمایت نہیں کرنا چاہتے چہ جائیکہ یانگون کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کریں۔اگر یہ دُہرا معیار نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ ہم تو خوش گمان تھے کہ جو بائیڈن کا امریکہ بش جونیئر، اوبامہ اور ٹرمپ کے امریکہ سے بہتر ہوگا مگر حالات تو کچھ اور ہی سمجھا رہے ہیں۔ مظاہرین پر جیپ چڑھانے کا واقعہ یکم فروری کا ہے۔ اس پر اقوام متحدہ کا ردعمل بھی محض خانہ پُری جیسا ہے۔ اس کے ذمہ داران یکم فروری کے واقعہ سے ’’دہل گئے‘‘۔ اگر واقعی دہلتے تو صرف یہ کہنے پر اکتفا نہیں کرتے کہ ’’نہتے شہریوں پر طاقت کے سفاکانہ استعمال کے ذمہ داروں کو قانون کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہے۔‘‘ کچھ ایسا ہی رسمی بیان امریکی سفارت خانے نے بھی جاری کیا ۔  ظالم حکمرانوں کے خلاف خاموشی بڑا جرم ہے مگر کون سمجھائے جبکہ میانمار کو راہ راست پر لے آنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ جن ملکوں سے میانمار کے سفارتی تعلقات ہیں، ان میں دیگر کے علاوہ امریکہ، چین، جرمنی، ہندوستان، مصر، فرانس، جاپان، کویت، ملائیشیا، قطر، روس، سعودی عرب اور برطانیہ شامل ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اول تو اتنے برسوں کی آمریت کے باوجود دُنیا نے میانمار سے سفارتی تعلقات جاری رکھے، دوئم یہ کہ انہیں میانمار کے جمہوریت شکن حالات اور ظلم و جبر کی خبروں بالخصوص روہنگیاؤں کے مسئلہ پر غصہ نہیں آیا۔ حالیہ دنوں میں آنگ سان سوچی کی گرفتاری پر بھی یہ ممالک برہم نہیں ہوئے۔ اسی لئے تو میانمار کی فوجی حکومت کسی کی نہیں سنتی۔ اسی باعث یہ بھی ہوتا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد کوئی اور نہیں، خود آنگ سان سوچی بھی ظلم، جبر اور روہنگیاؤں کو بھول جاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK