اب ویسی کتابیں کہاں اور ویسا بستہ کہاں؟

Updated: November 22, 2020, 5:38 AM IST | Mubarak Kapdi

عنقریب دوبارہ اسکول کھلنے جارہے ہیں۔ اس موقع پر پچھلے وقتوں کی کتابوں اور اُس دَور کے بستے کا ذکر ضروری ہے کہ ہم خالی بستے اسکول لے جاتے اور اقدار سے بھر بھر کر گھر واپس آتے تھے۔ اب ڈیجیٹل زمانے کا ذکر تو بہت ہورہا ہے مگر جو قدریں گھٹ رہی ہیں، اُن کی فکر ہم سب کو کرنی ہے

School Bag - Pic : INN
اسکول بیگ ۔ تصویر : آئی این این

وہ بھینی بھینی خوشبو :
 نئے تعلیمی سال کے پہلے روز جب نئی کتابیں ہمیںدستیاب ہوتیں تب ہماری یہ عادت تھی کہ اُن کتابوں کے اوراق ہم سونگھتے اور پلٹتے جاتے اور اُن کی خوشبو سے محظوظ ہوتے۔ اُن اوراق سے ایک عجیب بھینی بھینی خوشبو آتی تھی بالکل ویسی ہی جیسی گائوں میں پہلی بارش کی بناء پر مٹّی سے خوشبو آتی ہے۔ پھر چندر وز بعد وہ خوشبو ختم ہوجایا کرتی تھی البتہ اُن کتابوں میں کچھ ایسی تحریریں ہوتیں جن کی خوشبو سال بھر اور بعد میں بھی آیا کرتیں۔ کچھ تحریریں ایسی تھیں اُن کی خوشبو سے آج بھی ذہن معطّر ہے جیسے محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیر احمد، سرسیّد ، الطاف حسین حالی، مولانا آزاد، علّامہ اقبال اور مولوی اسماعیل میرٹھی وغیرہ کی تحریریں۔ 
 اِن سبھو ں کی تحریروں سے آج بھی خوشبو آتی ہے اور کیوں نہ آئے جب ڈپٹی نذیر احمد یہ لکھیں کہ’’پیسہ مل گیا تو روزی، نہیں تو روزہ ۔ اللہ بھوکا اُٹھاتا ہے، بھوکا سلاتانہیں‘‘۔ اسماعیل میرٹھی لکھیں کہ’’ یہ قدرت کی کاریگری ہے جناب کہ ذرّے کو چمکائے جوں آفتاب‘‘۔ مولانا الطاف حسین حالی لکھیں کہ’’ سُرخ رو آفاق میں وہ راہ نما مینار ہیں، روشنی سے جن کی ملّاحوں کے بیڑے پار ہیں‘‘۔ مفکّر قوم اقبال نے شکوہ و جوابِ شکوہ کے علاوہ بچّوں کیلئے لکھا ’’آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ، وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا۔‘‘ ذاکر حسین نے مرغی کا نرالا بچّہ میں لکھا کہ’’ مرغی کا کوئی چھوٹا سا بچّہ اب اگر اُس کے پروںسے نکل کر اِدھر اُدھر جاتا ہے تو دُکھیاری مرغی ٹھنڈی سانس بھرتی ہے‘‘۔ خواجہ حسن نظامی نے جھینگر کی ہجو لکھی، راشدالخیری نے ’غدر کی ماری شہزادی‘کی کہانی بچّوں کو سُنائی۔مولوی عبد الحق نے ’گڈری کا لال‘ لکھا تو مسلمانوں کے سب سے بڑے تہوار عید کے پس منظر میںاردو کی اب تک کی سب سے دل نشین کہانی پریم چند نے تحریر کی۔
 آج اس جیسا ادب اطفال کیوںتخلیق نہیں ہورہا ہے؟ چند افراد اس محاذ پر دل جمعی سے ڈٹے ہوئے بھی ہیں البتہ آج کے ادب اطفال سے وہ بھینی بھینی خوشبو کیوںنہیں آتی؟ دراصل وجہ یہ ہے کہ ادب کے وہ سورما ، وہ سارے ادباء و شعراء بغیر اطلاع کے نہیں گئے۔جاتے وقت اُن میں سے ہر ایک نے کہا تھا کہ’’ساغر کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلامیں‘‘ مگر ہم میںسے علم و ادب کا وہ ساغر تھامنے کیلئے ہم نہیں لپکےلہٰذا وہ اپنا قلم، کاغذ اور دوات سبھی کچھ اپنے ساتھ لے گئے۔ وہ اور اُن جیسے تخلیق کار اب واپس آنے سے رہے۔ اُن کے قلم کے امین بننے کیلئے ہم کیوں تیار نہیں ہوئے؟کیوں کہ ہم اندیشہ سود و زیاں سے نکلنے کو ہی تیار نہیں ہیں۔ بچّوں کی، نوجوانوں کی ذہنی آبیاری کرنے،  ادب ِ اطفال، علمی، ادبی،تعلیمی مضامین و کالم نگاری  میں ہمیں صرف اور صرف گھاٹے کا سودا نظر آتا ہے۔ زندگی کی ساری فریبی آسائشوں کو چھوڑ کر مسلسل کرب سے گزرنے کو ہم تیار نہیں۔ لازوال تحریریں تخلیق کرنے کیلئے جنون چا ہئے، اعلیٰ درجے کا جنون و دیوانگی اور کمٹمنٹ اور اگر وہ نہیں ہے تو بھینی بھینی خوشبو والی تحریریں تخلیق ہونے سے رہیں۔ پھر اسکول کے پہلے روز درسی کتابوں کے اوراق کی خوشبو تو بچّے سونگھیں گے مگر اُن کتابوں کی تحریروں کی خوشبو سے  اُن کے ذہن اس طرح معطّر نہیں ہوں گے جیسا کہ ہونا چاہئے۔ 
میرا بستہ کہیں کھوگیا ہے
 ٹاٹ کا بناہوا ہے ، رنگ خاکی ہے، گلے میں لٹکانے کیلئے اُس کو ایک پٹہ ہے۔ گائوں کی گاڑی سے شہر کی طرف آتے وقت وہ بستہ کہیں گُم ہوگیا ہے۔ 
 اُس بستے کے ایک حصّے میں کتابیں رکھی ہوئی ہیں دوسرے میں بیاضیں۔ کتابوں میں آپ کو اردو کی کتاب ڈھونڈنے میںدقّت نہیں ہوگی کیوںکہ میری سب سے زیادہ استعمال شدہ کتاب وہی ہے۔ بستے میںمیری اردو زباندانی کی بیاض کھولیں گے تو اُس میں کئی اشعار کی تشریح پائیں گے، وہ سب ہمارے انتہائی لائق استاد نے بڑی ہی جامع اور پیاری تشریح لکھوائی تھی۔ میرے بستے میں ایک چھوٹا سا بکس بھی ہے، اُس میں ایک قلم ہے جن کی نِب کٹی ہوئی ہے۔ اُس کٹی ہوئی نِب کے قلم سے ہم خوش خط اِملا لکھا کرتے تھے۔ اِملا کی بیاض میں دیکھ لیجئے کہ ہمیں  روزانہ دس سطر اِملا کتنی نفاست سے لکھوایا جاتا تھا۔ میرے بستے میںایک تختی بھی ہے، کچھ ٹوٹی ہوئی مگر بڑی پیاری تختی ہے۔ مجھے وہ اسلئے بھی عزیز ہے کہ وہ آج کےٹیبلٹ پر بھاری ہے۔ ساری ریاضی، ساری سائنس کی مشق ہم اُس پر کرتے تھے۔ اس میں ایک دو پنسل بھی ہے، ایک اسکیل بھی ہے، جومیٹری بکس ہم ہر دو سال میں ایک بار ہی خریدتے تھے مگر علم ہندسہ میںنمبر ہمیشہ پورے ملتے تھے۔ میرے بستے میں آپ کو ایک اور ڈبہ ملے گا ۔ میں اس ڈبّے میںمہنگے مہنگے چاکلیٹ یا سینڈویچ وغیرہ لے کر نہیں جاتا تھا۔ دراصل میںنے تو اِن چیزوں کے نام بھی نہیںسُنے تھے۔ اُس ڈبّے میں میری ماں کے ہاتھ کی بنی ہوئی دو روٹیاں لے جایا کرتا تھا۔ روکھی سوکھی روٹیاں، جن پر ماں اپنا پیار دُلار لگایا کرتیں، اسلئے مکھّن یا گھی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔ ہمارے بستے میں پانی کی بوتل نہیں ہے کیوں کہ پانی کی بوتل لے جانے کا اس وقت رواج نہیں تھا۔ ہمارے اسکول کے قریب ہی ایک کنواں تھا ۔ اُس کا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی ہمارے اسکول کے مٹکے میں بھراجاتا تھا۔ کنویں کا وہ پانی پینے کی بنا پر شاید ہم کبھی بیمار نہیں ہوئے۔
 میر ے بستے میں بچّوں کا ایک رسالہ بھی ہے ۔ یہ وہ رسالہ ہے جس کا ہم پورے مہینے انتظار کرتے تھے۔ اس رسالے میںمیری ایک کہانی بھی چھپی ہے۔ میرے بستے میں ہیری پوٹر جیسی کوئی کتاب نہیں ہے بلکہ میری لائبریری سے حاصل کیا ہوا ایک کتابچہ ہے۔حضرت عمرؓکاکردار۔ میرے بستے میںایک چھوٹی سی بیاض بھی ہے۔چھوٹی بیاض سے مراد آپ یہ نہ سمجھیں کہ وہ کوئی آٹو گراف کی بُک ہے۔ وہ میرے چنندہ اور پسندیدہ اقوالِ زرّیں کی بیاض ہے۔ کئی کتابوں اور رسالوں سے میں نے یہ سارے اقوال جمع کئے تھے۔ میرے بستے میں ایک فوٹو بھی ہے۔ کسی فلم اسٹار کی نہیں، گائوں میں ایک چلتا پھرتا فوٹو گرافر آیا تھا۔ ہم چند دوستوںنے اپنے۲؍ اساتذہ سے درخواست کی کہ وہ ہمارے ساتھ فوٹو کھنچوائیں اور انھوںنے رضا مندی کا اظہار کیا تھا، وہ یادگار فوٹو بھی اسی بستے میں ہے۔
 میرے بستے میں ایک اور قیمتی چیز ہے، وہ ہے میرے استاد کا بنایا ہوا ایک ٹائم ٹیبل جس میں انھوںنے پڑھائی اور نمازوں والا ایک ٹائم ٹیبل مرتّب کیا تھا، کچھ اس طرح کی پڑھائی بھی مکمل ہوجائے اور کوئی نماز بھی نہ چھوٹے۔ ہم اُس زمانے میں سُنتے تھے کہ ہمارے اُس اُستاد کی ماہانہ تنخواہ صرف چار سو روپے تھی۔ کوئی چھٹا پے کمیشن تھا نہ ساتواں، محکمۂ تعلیم کی جانب سے کوئی جی آر بھی نہیں تھا کہ طلبہ کو ٹائم ٹیبل بنانے میں اساتذہ مدد کریں مگر وہ اساتذہ کچھ عجیب مِٹّی کے بنے تھے جو ہم طلبہ کی ہمہ جہت تربیت و تعلیم میں ہر دم کوشاں رہتے۔ میرے بستے میں ایک قیمتی چیز وہ قلم بھی ہے جس کو ضلعی سطح کے تقریری مقابلے میں اوّل آنے پر میرے اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے اپنی جیب سے نکال کر دی تھی۔ میںہر بار اُس قلم کو تکتا رہتا تھا کہ میرے اُستاد نے اپنی قلم مجھے انعام دی ہے۔ میرے لئے یہ بڑا اعزاز ہے۔ آج ہر سُو ڈیجیٹل بستے کی دھوم ہے کیوں کہ اسمارٹ فون بھی اس بستے کا ایک حصّہ بن گیا ہے مگر کیا میرے بستے کے سارے اوصاف آج کے کسی بستے میں ہیں؟
 میرا بستہ ٹاٹ کا بنا ہوا ہے، رنگ خاکی ہے، سادہ سا ہے مگر مجھے بڑا پیار ا ہے۔ گائوں سے شہر آکر میں نے روپیہ پیسہ کمایا، خوب نام کمایا مگر میرا ایک ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ گائوں سے شہر آتے وقت میرا بستہ کہیں کھوگیا۔ اگر کسی کو ملے تو براہِ کرم وہ مجھے لوٹا دے تاکہ میں اپنے نواسے، نواسیوں ، پوتے، پوتیوں کو بتا سکوں کہ میرا بستہ سارے ڈیجیٹل بستوں پر کیسے بھاری تھا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK