لاک ڈاؤن کے ایک سال، تلخ یادوں کے ساتھ کچھ حوصلہ افزا باتیں بھی ہیں

Updated: March 22, 2021, 3:07 PM IST | Agency

گزشتہ سال ۲۵؍ مارچ سے لگنے والے لاک ڈاؤن نے نہ صرف ایک بڑے طبقے کے منہ سے نوالہ اور ان کا روزگار چھینا بلکہ ہزاروں کی تعداد میں انسانی زندگیاں چھیننے کا سبب بھی بنا،اسلئے حوصلہ افزا باتوں پر تلخ یادیں غالب رہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

گزشتہ سال ۲۲؍ مارچ کو ملک گیر سطح پر جنتا کرفیو نافذ ہوا تھا اور اسی کے ساتھ  لاک ڈاؤن کا بھی اشارہ دے دیا گیا تھا۔ اس کے دو دن بعد۲۴؍ مارچ کو ہنگامی طور پر مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا جو ۲۵؍ مارچ سے نافذ ہوگیا۔  یہ اعلان جس قدر آناً فاناً اور غیر منظم طور پر ہوا،اس نے   ملک  کے تمام شہریوں کو پریشان کردیا، خواہ ان کا تعلق  غریبی کی سطح سے نیچے رہنے والےطبقے سے رہا ہو، مزدور طبقے سے رہا ہو یا پھر متوسط، اعلیٰ متوسط اور امیر طبقے سے رہا ہو۔ لاک ڈاؤن  سے متاثر ہوئے بغیر کوئی نہیں رہ سکا۔ اس لاک ڈاؤن نے نہ صرف لوگوں کے منہ سے نوالہ اور ان کا روزگار چھینا بلکہ ہزاروں کی تعداد  میں انسانی زندگیاں چھیننے کا سبب بھی بنا۔ اس لاک ڈاؤن نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کیا، ان کی جمع پونجی پر ہاتھ صاف کیا، معاشی پریشانی سے نبرد آزما ایک بڑے طبقے کی رسوائی کا سامان کیا اور لاکھوں طلبہ کی ایک سال کے تعلیمی نقصان کی وجہ بھی بنا۔ اس دوران پیش آنےوالی پریشانیوںاور دشواریوں کی ایک طویل فہرست ہے جسے لاک ڈاؤن کے نام کیا جاسکتا ہے لین اسی بیچ کچھ اچھی باتیں بھی ہوئیں ۔ کچھ لوگوں کا روزگارگیا تو انہوں نے تجارت کا راستہ اختیار کیا، کچھ لوگوں کا کاروبار خراب ہوا تو انہوں نے دوسرے کاروبار کا جوکھم اٹھایا۔ کچھ کو فراغت ملی تو برسوں کے ملتوی کام مکمل کرلئے۔ فضائی آلودگی سے نجات ملی، دریاؤں کا پانی صاف ہوا، بچوں کے ساتھ وقت گزارنے، انہیں سمجھنے اور سمجھانے کا موقع ملا۔ رزق کی تلاش میں ۲۴؍ گھنٹہ سرگرداں رہنے والوں کو لاک ڈاؤن میں رزق دینے والے سے رجوع کا موقع ملا۔ غرض یہ کہ کئی ایسی باتیں ہیں جنہیں لاک ڈاؤن کا حاصل کہا جاسکتا ہے۔ اس خصوصی پیش کش میں ہم سال بھر کی بھولی بسری باتوں کا اعادہ کرنے کی کوشش کریںگے۔

کورونا وائرس سے مقابلہ کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا ہے

 ’’آئی سگڑے لوکا گھرا مدھون راہون کام کرت آہے پن بابا کا ناہی گھرا مدھون راہون کام کرتے ، پاپا لا کورونا ہوئیل تر ہمچا کائے ہونار ، تو پاپا لا سانگ نا کی تمہی جَسے لوکانچی کالجی گھیتو، امچی انی اپلی پن گھیا۔‘‘جی ہاںممبئی اور مہاراشٹر میں جب کورونا وائرس کا حملہ ہوا تو پولیس کے ادنیٰ و اعلیٰ افسران کے گھروں میں موجود والدین، بیوی  اوربچے اپنی ماں سے کہتے تھے کہ ’’امی سبھی لوگ گھر میں رہ کر کام کررہے ہیں لیکن ابو گھر میں رہ کر کیوں نہیں کام کرتے ، پاپا کو کوررونا ہوگیا تو ہمارا کیا ہوگا، تم پاپا سے کہو کہ جیسے تم دوسروں کا خیال کررہے ہو ، ہمارا اور اپنا بھی خیال کریں اور ہمارے بارے میں بھی سوچیں۔‘‘ایک سال قبل جب کورونا سے بچنے کیلئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو یہ پولیس اہلکار ہی تھے جنہیں سڑکوں پر رہ کر لوگوں سے کورونا سے احتیاطی تدابیر اختیار کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ ذمہ داری وہ آج بھی پوری کررہے ہیں۔  اس خدمت کو انجام دیتے ہوئے ممبئی پولیس کے تقریباً ۱۰۰؍ جوان کورونا کا شکار ہوئے جبکہ مہاراشٹر پولیس کے تقریباً ۱۶۰؍ سے زائد افسران اور اہلکار کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔ کورونا کی دوسری لہر کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر پولیس نے الگ الگ علاقوں میں مورچہ سنبھال لیا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بنا ماسک کے اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں ۔ ہدایت پر عمل نہ کرنے والوں او ر بارہا ہدایتوںکے باوجودخلاف ورزی کرنے والوں پر پولیس کی جانب سے سخت کارروائیاں بھی ہورہی ہیں۔
 پولیس افسران کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے ابھی حال ہی میں کہا تھا کہ ’’ممبئی کی ۱۵۰؍ سالہ تاریخ میں ممبئی پولیس کے کارناموں کا اعادہ کرنا تو ممکن نہیں ہے لیکن کورونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والے سنگین حالات اور انتہائی سخت آزمائش میں پولیس نے نہ صرف نظم و نسق کو برقرار رکھا اورمجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پایا بلکہ کورونا سے لڑتے ہوئے شہریوں کی حفاظت کرکے سب سے بڑی خدمات انجام دی ہے۔ یہی نہیں ممبئی اور مہاراشٹر پولیس کے جوانوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر شہریوں کی حفاظت کی اور اس کوشش کے دوران ۱۰؍ ہزار پولیس افسر اور اہلکار کورونا سے متاثر ہوئے جبکہ ڈھائی سوسے زائد جوان اس کا شکار ہوئے ہیں لیکن وہ آج بھی اس پوشیدہ دشمن سے لڑ رہے ہیں اور اسے مات دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔‘‘  ممبئی پولیس کے ترجمان اور ڈپٹی کمشنر آف ایس چیتنیہ کا کورونا سے ایک سال تک مسلسل مقابلہ کرنے کے تعلق سے کہنا تھا کہ ’’ کورونا سے جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ممبئی اور مہاراشٹر پولیس کا جوان آج بھی پہلی صف میں کووڈ سے لڑ رہا ہے ۔ورلی ، بائیکلہ ، دادر، کرلا ، گونڈی اور شہر کے دیگر علاقوں اور سب سے زیادہ دھاراوی میں کورونا سے متاثرہ ہونے کے سبب پورے شہر میں سختی کی گئی تھی۔ایک سال کے عرصے میں اکثر لوگوں کو پولیس کی سختی نظر آئی لیکن ان کی قربانی اور خدمت خلق کو نظر انداز کر دیا گیا۔ خیر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے، اسلئے ہمیں بھی نظر انداز کر دینا ہی بہتر ہے کیونکہ اس شہر میں ایسے لوگ بھی آباد ہیں جنہوں نے اس اَن دیکھے دشمن کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کو دو وقت کا کھانا ہی نہیں فراہم کیا بلکہ سر چھپانے کی جگہ بھی دی۔پولیس نے بھی سڑکوں پر آباد بے یار و مدد گار غریبوں اور مزدوروں کو سر چھپانے کی جگہ دینے کے ساتھ ساتھ ان کے پیٹ کی آگ کو بجھانے کے علاوہ  شہریوں کو کورونا سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اب بھی کررہی ہے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK