کورونا کے دَور میں تعلیمی نظام پر منظم شب خون

Updated: July 12, 2020, 10:24 AM IST | Mubarak Kapdi

وبائی مرض کورونا کے پھیلائو اور پھر ملک گیر تالہ بندی سے پیدا شدہ حالات کو کیا اس ملک کے گھاگ سیاست داں اور اُن کے وفادار بیوروکریٹ اپنے فرقہ پرستی کے ایجنڈے کی تعمیل و تکمیل کیلئے استعمال کر رہے ہیں؟ یقیناً ایسا ہی کچھ چل رہا ہے،اسلئےطلبہ ، اساتذہ ، والدین اور تمام ذمہ دار شہریوں کو اس شب خون کو ناکام بنانا ہے

School - Pic : INN
اسکول ۔ تصویر : آئی این این

اسپینش وائرس،مارس، ایچ آئی وی، ایبولا، برڈ فلو،سوائن فلو اور اب کورونا وائرس نے تو دنیا بھر میں کہرام مچایا ہے۔ اُن ساری جان لیوا وبائوں سے اور اِنسان ساختہ بیماری جیسے دوسری جنگِ عظیم میں نیو کلیائی حملے سے بھی کئی ملکوں نے اپنے آپ کو سنبھالا ہے۔ آج بھی چند ملکوں میں نظامِ زندگی نئے خطوط پہ استواری کا عمل جاری ہے۔ ہمارے ملک میںالبتہ معاملہ قطعی مختلف ہے۔ ایسے ماحول میں جب یہ آوازیں آرہی ہوں کہ’’ قزاق اجل کا لوٹے ہے، دن رات بجاکر نقّارہ ‘‘ ہمارے یہاں ضمیر فروشو ں کی بد عنوانی عروج پر ہے۔ کیا کچھ نہیں ہوا یہاں، ماسک، سینی ٹائزر، صابن، گرین ٹی ہر چیز کی پہلے ذخیرہ اندوزی اور پھر اُس کی کالابازاری ہوئی۔ حکومتِ وقت نے تو دروغ گوئی اور مجرمانہ تساہل کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میڈیکل ترقی کی پول اب بھی کھُل رہی ہے کچھ اس حد تک کہ دو ڈاکٹر دوست جو اسکول اور کالج کے زمانے سے ہم جماعت تھے، ایک ہی اسپتال میں، ایک ہی وارڈ میں ڈیوٹی پر تھے۔ اُن میں سے ایک کے میڈیکل حفاظتی کِٹ میں نقص تھا، اسلئے  وہ خود بیماری کا شکار ہوکر اس دنیا سے چل بسا۔ جو بچ گیا وہ رو رو کر کہہ رہا ہے کہ ایک ڈاکٹر کے ہاتھوں دوسرے ڈاکٹر کی موت واقع ہوئی ہے۔ 
 میڈیکل سائنس میں ہماری پیش رفت کا یہ حال ہے اور آج حکومتِ وقت کے ۳۰۳؍ ممبران پارلیمنٹ کی اکثریت کے نشے میں چور حکمراں ہمارے ماہرینِ طب کو مبینہ طور پر دھمکا بھی رہے ہیں کہ ۱۵؍اگست سے پہلے پہلے کووِڈ ۱۹؍ کا ٹیکہ ایجاد کرو تاکہ لال قلعے سے پردھان سیوک ساری دنیا کو یہ بتاسکیں کہ انھوںنے بڑی    تپسّیا  اور ریاضت سے ٹیکہ ایجاد کرلیا ہے۔ نوجوانو! اس قسم کی شعبدہ بازی پر سب سے پہلے آپ کو باخبر ہونا ہے اور آپ کے والدین کو احتجاج کرنا ہے کیوں کہ اس ملک کے سارے داخلہ امتحانات میں جس امتحان کے نتیجے کے دن صف ماتم بچھ جاتا ہے وہ ہے ’نیٖٹ‘ (میڈیکل کاداخلہ امتحان) کورونا کے اس دَور میں یہ تو جگ ظاہر ہوگیا کہ اس ملک میں کتنے سارے ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے تین سطح پر اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ (۱) پرائیویٹ کے بجائے حکومت کے میڈیکل کالجوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ (۲) موجودہ اسپتالوں میںمیڈیکل کی نشستیں بڑھائی جائیں۔ (۳) داخلہ امتحان کے نصاب اور پیپر پیٹرن میں اس طرح تبدیلی لائی جائے کہ موجودہ ۷۲۰ ؍میں سے ۳۲۰؍نمبرات والا بھی حکومتی میڈیکل کالج میں داخلہ پاسکے۔ حکومتِ وقت اور اُس کے مشیران کی بے حِسی پر صرف ماتم ہوسکتا ہے کہ ہر سال وہ دیکھ رہے ہیں کہ دو دو تین تین کوششوں کے باوجود طلبہ کامیاب نہیںہورہے ہیں۔ نیٖٹ کے رزلٹ کے دن سارے ماہرین نفسیات حرکت میں آتے ہیں کہ کہیں ناکام طلبہ انتہائی قدم نہ اُٹھائیں ، اُس کے باوجود سیکڑوں طلبہ کو کوئی بچا نہیں پاتا اور ہزاروں طلبہ مستقل ڈپریشن ، ذہنی انتشار اور فرسٹریشن کا شکار ہوہی جاتے ہیں جبکہ آج اس ملک میں ہزاروں ڈاکٹروں کی شدید ضرورت ہے ورنہ خدانخواستہ مستقبل میں وارِد ہونے والی کسی وبا کا مقابلہ یہ ملک نہیں کرپائے گا۔
 نوجوانو!آپ سبھی دیکھ ہی رہے ہیں ہوں گے کہ بدبختی سے ایک ایسا پریوار یہاں برسرِ اقتدار ہے جس کا اپنا ایجنڈا ہے اور اس پر عمل کرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ عوام کو ہپناٹائز کرکے مدہوش بلکہ بے ہوش بھی کرسکتا ہے۔ جیسے اگر دیہاڑی مزدور بھوکے پیاسے سیکڑوں کلومیٹر پیدل چلنے پر مجبور ہوجائیں تو اُن کو کہا جائے کہ’ گرو‘ (فخر) سے کہو ہم ہندو ہیں، یہ بولتے جائو تو سفر آسان ہوجائے گا۔ نوکری کی فکر ستائے تو وہ زور زور سے دیش بھکتی کے گانے گائیں۔ مہنگائی پر غصہ آئے تو گولی مارو..... قسم کے نعرے یاد کرو۔ کہیں سے یہ خبر آئے کہ کورونا دَور میں چار ماہ سے ملک بھر میں اسکولوں کے بند رہنے کی بنا پر ۱۲؍کروڑ بچّے مِڈ ڈے میل سے محروم ہوچکے ہیں اور اب وہ کچرا اُٹھانے ، مزدوری کرنے پر مجبور ہیں تو اُن حکمرانوں سے جواب ملتا ہے کہ یہی اُن کے خوابوں کا ’آتم نربھربھارت‘ (خود مختار بھارت ) کا خواب ہے کہ ۶؍برس سے بڑا ہر بچّہ مزدوری کرے اور کسی پر نِربھر (منحصر ) نہ رہے۔
 نوجوانوں کے بعد اس ضمن میں اب ہم اپنے بڑوں کی توجہ چاہیں گے کیوںکہ اب بات بالکل جگ ظاہر ہورہی ہے کہ کورونا وائرس ، لاک ڈائون اور اس کے بعد کے المناک حالات اس ملک کے موجودہ حکمرانوں کیلئے ایک بڑی نعمت ثابت ہورہی ہے اور اُن سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کیلئے وہ دیوانے ہوئے جارہے ہیں جیسے اس بار جو کورونا وائرس کی بنا پر ملک بھر میں تعلیمی سال کا کم و بیش تین ماہ کا نقصان ہوا ہے۔ اُس کو پورا کرنے کا واحد راستہ یہ تھا کہ نصاب میں سے ۲۵۔۳۰ ؍فیصد حصہ حذف کیا جائے۔ بس پھر کیا تھا پورا ’پریوار‘ فوراً حرکت میں آگیا اور اُس نے سی بی ایس ای کے نویں سے گیارہویں جماعت کے پولیٹیکل سائنس کے مضمون سے وہ سارے اسباق حذف کردیئے جن سے انھیں الرجی اور نفرت ہے جیسے سیکولرازم ۔ جی ہاں ہندو راشٹر میں یقین رکھنے والی برسرِ اقتدار منڈلی کا تو سیکولرازم کے نام سے خون کھولتا ہے، گنگا جمنی تہذیب سے وابستہ سارے اسباق حذف کردیئے گئے کیوں کہ اُس پریوار کی نظر میں ساری تہذیبیں بکواس ہیں اور اُن کی نظر میں اُن کی’ سبھیتا اور سنسکرتی‘ ہی سب سے اچھی ہے۔ نہ ہم سب ایک ہیں یا یکساں ہیں، کا پرچار کرنے والا سبق بھی نصاب سے خارج کردیا گیا کیوں کہ اُن کا کہنا یہ ہے کہ سب یکساں کیسے؟ برہمنوں کے برابر تو کوئی ہوہی نہیں سکتا۔ ساری دنیا جب کورونا جیسے جان لیوا وائرس سے نبرد آزما ہے اُس وقت سنگھ پریواری حکمراں اور اُن کے سرکاری دانشوران فرقہ پرستی کے اپنے ایجنڈے پر کس قدر عیّاری اور مکّاری سے محنت کر رہے ہیں!
 ہم  اپنے بڑوں سے استفسار کریں گے کہ کیاموجودہ حالات میںسماعت کے باوجود ہم سننے سے محروم ، بصارت کے باوجود دیکھنے سے عاری اور ادراک کے باوجود تفکّر سے خالی رہیں ؟ کیا ہمارے بس میںیہی ہے کہ ہم ہر ظلم پر صرف بین کریں، نوحہ کریں، ظالموں کو کوسیں اور پھر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہونے میں عافیت سمجھیں؟ اس ضمن میں کہنے والے تو عجیب و غریب حجّت و تکرار کرتے ہیں، (دراصل یہ وائرس ایک وبا کے بجائے بَلا کی طرح ہمارے اعصاب پر سوار ہوگئی)، اسلئے کہنے والے یہ بھی کہتے سنائی دیئے کہ حضرت غالبؔ نے بھی اس وائرس کی پیش گوئی کی تھی جب انھوںنے یہ کہا تھا :
رہے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زبان کوئی نہ ہو
پڑئیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار
اور اگر مرجائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
  دوسرے الفاظ میں وہ توبس یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کورونا وائرس کے موجّد ہی غالبؔ تھے۔ ان نادانوں کو معلوم ہونا چا ہئے کہ (اور اسے ہمارے ادب کے طلبہ بھی نوٹ کریں کہ) غالبؔ ، اقبالؔ، میرؔ، فیضؔ ، ساحرؔ یہ سب عہد ساز شعراء ہیں، وہ بخوبی جانتے تھے کہ اُن کے ہر لفظ پر اہلِ علم اور علم خرد کی نظرو پکڑ ہوگی۔ غالب بھی قنوطیت میں رجائیت کا پہلو بخوبی نکالنا جانتے تھے لہٰذا ان کے کسی ضرب المثل کی طرح مشہور اشعار ملاحظہ کریں اور اُن سے رہنمائی حاصل کیجئے اور تحریک بھی:
اِن آبلوں سے پائوں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر 
رنج کا خوگر ہوا اِنساں تو مٹ جاتا ہے رنج
 مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں
 نوجوانو! زندگی سے مایوسی صرف اُنھیں ہوتی ہے جو زندگی بس کسی نہ کسی طرح گزار  رہے ہیں، یعنی وہ سانسوں کی گنتی پوری ہونے کو زندگی سمجھتے ہیں، بامقصد سانسوں کو نہیں۔ زندگی کیا ہے؟ تتلیاں ،کاغذ کی کشتی،سبزہ، ندی کا صاف پانی، اِملی کا درخت ، ست رنگی چوڑیاں، گرم روٹی کی خوشبو، تازہ ترکاری کی تھیلی، نوکری کی پہلی عرضی ، امّی کی عینک ، دادا جان کی لاٹھی، غرض کہ ہزار داستان اور موت؟ ایک نس، ٹس سے مس اور بس۔  نوجوانو! ( نوجوانوں کو کرکٹ بہت پسند ہے اسلئے  اس حوالے سے بات کریں) وہ اپنے حصے کی اننگز کھیل کر جائیں۔صرف گیند (سانس) کی تعداد گنتے کھڑے نہ رہیں۔ رہی بات اُجالے کی، سورج روز طلوع ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا ، خواہ وہ چمگادڑ کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ وہ صبح آئے گی جس کی نوید خود خالقِ کائنات نے اپنی آخری کتاب میں  دی ہے کہ ’’ سچ نمودار ہوا اور باطل غائب، کذب کو تحلیل ہونا ہی تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK