ذبیحہ سے متعلق چند اہم پہلو جن پر توجہ ضروری ہے

Updated: July 09, 2021, 5:33 PM IST | Maulana Khalid Saifulah Rahmani

عام طور پر گوشت خریدنے اور کھانے والے بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اُنہیں گوشت خریدتے وقت کن باتوں کی تفتیش کرکے ضمانت حاصل کرنی چاہئے تاکہ وہ شرعاً جائز گوشت کھائیں۔ یہاں ان باتوں کا احاطہ کیا گیا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

غذا انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے؛ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کائنات میں غذا کے وافر وسائل پیدا فرمائے ہیں۔ یہ وسائل نہ صرف دنیا میں انسان کے گرد پھیلے ہوئے ہیں؛ بلکہ آخرت میں بھی فراہم رہیں گے، یہ اور بات ہے کہ اہل جنت کو ہر قسم کی تکلیف و مشقت سے محفوظ غذائیں دی جائیں گی اور اہل دوزخ کو کھانے پینے کی بدمزہ، بدبودار اور تکلیف دہ  چیزیں فراہم کی جائیں گی۔ دُنیا میں انسان کو غذا کے طور پر جو چیزیں میسر ہیں، وہ بنیادی طورپر تین ہیں: جمادات، نباتات اور حیوانات ۔
جمادات سے مراد مٹی، لوہا وغیرہ ہیں۔ ایسی چیزیں جن میں زندگی نہیں ہوتی اور جن میں تیز رفتار نمو کی کیفیت نہیں پائی جاتی۔ جمادات میں بہت کم چیزیں ہیں، جو غذا کے طورپر استعمال ہوتی ہیں، ان کا زیادہ تر استعمال دواؤں میں ہوتا ہے، لوہا، چونا، پتھر، سونا چاندی وغیرہ قدیم زمانہ سے ہی دواؤں میں استعمال کئے  جاتے رہے ہیں اور آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی اس طریقہ پر استعمال ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح قدرتی نمک، غذا اور دوا دونوں کاموں میں استعمال ہوتا ہے ۔
غذا کا سب سے بڑا وسیلہ نباتات ہیں۔ چاول، گیہوں،  دال، تیل اور ترکاریاں، یہ سب یا تو نباتات ہیں، یا نباتات سے حاصل ہونے والی اشیاء ہیں ۔ بڑی حد تک انسانی غذا کا انحصار نباتات کی پیداوار ہی پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نباتات میں یہ خصوصیت رکھی ہے کہ ان کی افزائش میں کم محنت اور مدت درکار ہوتی ہے اور پیداوار کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان غذاؤں میں ایسی صلاحیت رکھی ہے کہ جسم کو جو وٹامن اور اجزاء مطلوب ہوتے ہیں، وہ بڑی حد تک ان کے ذریعہ مہیا ہوجاتے ہیں؛ اسی لئے بہت سے لوگ نباتاتی اشیاء کے ذریعہ ہی اپنی غذا کی ضرورت پوری کرتے ہیں ۔
نباتات کے بعد انسانی خوراک کا دوسرا بڑا وسیلہ حیوانات ہیں۔ گزشتہ زمانہ میں جب حمل و نقل کے ذرائع محدود بھی تھے اور سست رفتار بھی، تب صحرائی علاقوں میں لوگوں کا دار و مدار زیادہ تر حیوانی غذاؤں پر ہوتا تھا، اسی طرح جنگلات میں ’ جہاں باضابطہ کھیتی نہیں ہوتی‘ تھی، شکار کے جانور اور پھلوں کے ذریعہ آدمی اپنی ضرورت پوری کرتا تھا؛ لیکن لحمی غذاؤں کی اہمیت ہر علاقہ میں بسنے والے لوگوں کے لئے رہی ہے؛ کیوںکہ جسم کی بہت سی ضرورتیں لحمی غذاؤں کے ذریعہ ہی بہتر طورپر پوری ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان میں جو لذت رکھی ہے، نباتات کے ذریعہ وہ حاصل نہیں ہوپاتی؛ اسی لئے دنیا میں ہمیشہ لحمی غذاؤں سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ رہی ہے اور دُنیا کے بیشتر مذاہب نے اس کی اجازت دی ہے۔ مسلمان، یہودی، عیسائی اور بدھسٹ تو اس کو درست سمجھتے ہی ہیں؛  لیکن ہندو مذہبی کتابوں میں بھی جانوروں کی قربانی اورجانوروں کے گوشت کو بطور غذا استعمال کرنے کا ذکر موجود ہے۔
غور کیا جائے تو قدرت کا اشارہ بھی یہی ہے، جو جانور چارہ کھاتے ہیں   ان کے اندر گوشت کو ہضم کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، وہ قدرتی طورپر گوشت خور نہیں ہوتے۔ اس کے برخلاف جو جانور قدرتی طورپر گوشت خور ہوتے ہیں، وہ گوشت ہی کو ہضم کرتے ہیں، طبعی طورپر وہ چارہ نہیں کھاتے۔   اسی لئے کبھی یہ نہیں سنا گیا کہ بھینسیں گوشت کھانے لگی ہوں اور شیروں نے گھاس پھوس کھانا شروع کردیا ہو؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کے معدہ میں دونوں طرح کی غذاؤں کو ہضم کرنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ اسی طرح جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے دانت دیئے ہیں، جو کھانے والی چیزوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرنے کے کام آتے ہیں، اس طرح ان کو ہضم کرنا آسان ہوجاتا ہے، چارہ خور جانوروں کو چپٹے دانت دیئے گئے ہیں جو نباتاتی چیزوں کو چبانے کے کام آتے ہیں، انہیں نوک دار دانت نہیں دیئے گئے، جن کو گوشت وغیرہ کو کاٹنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف گوشت خور جانوروں کو نوکدار دانت دیئے گئے ہیں، جو لحمی غذاؤں کو ٹکڑے کرنے اور کاٹنے کے کام آتے ہیں ، جیسے: کتا اور شیر وغیرہ۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے دونوں طرح کے دانت دیئے ہیں، یہ سب قدرت کے اشارے ہیں؛ تاکہ انسان اپنی غذا کے دائرے کو سمجھ لے ۔
جب ہم غذاؤں پر شرعی نقطۂ نظر سے غور کرتے ہیں تو جمادات اور نباتات کا مسئلہ آسان اور واضح ہے؛ کیوںکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس نے کائنات کی تمام چیزوں کو انسان ہی کے لئے پیدا کیاہے۔ ترجمہ:  ’’وہی ہے جس نے سب کچھ جو زمین میں ہے تمہارے لئے پیدا کیا، پھر وہ (کائنات کے) بالائی حصوں کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے انہیں درست کر کے ان کے سات آسمانی طبقات بنا دیئے۔‘‘ (البقرۃ : ۲۹) فقہاء نے اسی حکم ربانی کی روشنی میں یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ چیزوں میں اصل مباح ہونا ہے، جب تک کہ اس کے حرام ہونے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو۔ ( البحر المحیط فی أصول الفقہ : ۱؍۲۱۲) لیکن حیوانات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ حیوانات اصل میں حرام ہیں جب تک کہ ان کے حلال ہونے کی شرعی دلیل فراہم نہ ہو؛ اس لئے لحمی غذاؤں کے حلال ہونے کے لئے تین باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اول یہ کہ جس جانور کا گوشت ہے، وہ خود حلال ہو، ایسے جانوروں کی تعداد محدود ہے۔ قرآن و حدیث میں اس سلسلہ میں اُصول بھی ذکر کردیئے گئے ہیں اور ان کی جزوی تفصیلات بھی مذکور ہیں؛ چنانچہ تمام درندہ جانور حرام ہیں، نیز رینگنے والے جاندار کیڑے مکوڑے وغیرہ بھی حرام کئے گئے ہیں، اونٹ ، بیل ، بھینس ، بکرے ، ہرن ، مرغ میں نر و مادہ نیز پالتو و جنگلی جانور حلال کئے گئے ہیں۔ دوسری قابل لحاظ چیز یہ ہے کہ حلال جانور کے بھی بعض اجزاء حرام ہیں، جس کا ذکر خود حدیث میں ہے اور وہ یہ ہیں : ’’ نر و مادہ کے اعضاء تناسل، فوطے ، بہتا ہوا خون، مثانہ، پتھہ ، جس گوشت میں گرہ پڑ گئی ہو۔ ‘‘ ( کتاب الآثار : ۱۱۶) بعض فقہاء نے اِن پر اُس کا بھی اضافہ کیا ہے، جس کو قصاب حضرات ’’ مغز حرام ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں، یہ کل آٹھ ہیں۔ تیسری ضروری بات یہ ہے کہ وہ حلال جانور شرعی اُصولوں کے مطابق ذبح کیا گیا ہو ۔
شرعی طریقہ پر ذبح کرنے کے سلسلہ میں دو باتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں، اول یہ کہ جانور کی گردن سے چار نالیاں گزرتی ہیں: ایک غذا کی ، ایک سانس کی اور دو خون کی، جن کو شہ ِرگ کہا جاتا ہے، ذبح کے صحیح ہونے کے لئے ان میں سے تین کا اچھی طرح کٹ جانا ضروری ہے، (الفتاویٰ الہندیہ : ۵؍۲۸۷) اس کا ایک فائدہ تو جانور کی تکلیف کو کم کرنا ہے ؛ کیوںکہ اگر دماغ کی طرف جانے والی خون کی سپلائی لائن کٹ جائے تو چند سکنڈ میں قوت احساس ختم ہوجاتی ہے، دماغ کی موت ہوجاتی ہے اور تکلیف کا احساس باقی نہیں رہتا، اس طرح جانور کو تکلیف کا احساس کم ہوتا ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ رگوں میں گردش کرتا ہوا خون اچھی طرح نکل جاتا ہے، اس خون کے نکل جانے سے گوشت میں مضرِصحت اثر باقی نہیں رہتا۔  اگر خون اچھی طرح نہ بہہ پائے اور وہ جسم کے اندر ہی جذب ہوجائے تو خون میں صحت کو نقصان پہنچانے والے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں اور گوشت انسان کے لئے نقصاندہ ہوجاتا ہے، غالباً مردار کے گوشت کو حرام قرار دینے کی حکمت یہی ہے ۔
ذبح کے عمل کے درست ہونے کیلئے دوسری ضروری بات یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور پر اللہ کا نام لیا جائے، اللہ تعالیٰ نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ وہی جانور حلال ہے، جو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو اور ایسے جانور کا گوشت کھانے سے منع فرمایا گیا ہے، جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہو۔(الانعام : ۱۲۱) احادیث میں اس کی اور بھی وضاحت آئی ہے۔ یوں تو اصل مقصود جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لینا ہے، خواہ کسی بھی طریقہ پر نام لیا جائے؛ لیکن افضل طریقہ یہ ہے کہ ’’ بسم اللہ اللہ اکبر ‘‘ کہا جائے۔ ذبیحہ پر اللہ تعالیٰ کے نام لینے کا یہ حکم ایمان وعقیدہ کے پہلو سے ہے ۔
دنیا کی مختلف مشرک قومیں ذبح اور قربانی کو مشرکانہ نقطۂ نظر سے انجام دیتی آئی ہیں، لوگ اپنے معبودوں کے نام پر جانوروں کو چھوڑتے تھے، تہواروں میں ان کے نام سے قربانی کیا کرتے تھے، عبادت گاہوں پر جانوروں کے نذرانے پیش کیا کرتے تھے اور کھانے کے لئے بھی غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے ، گویا ذبح و قربانی کو وہ اپنے مشرکانہ عقائد کے اظہار کا ذریعہ بناتے تھے۔ رسولؐ اللہ  نے لوگوں کے ذہن میں عقیدۂ توحید کو راسخ کرنے اور مشرکانہ افکار سے انہیں بچانے کیلئے یہ تدبیر فرمائی کہ جن کاموں کو وہ شرک اور غیر اللہ کی تقدیس کے طورپر کرتے تھے، ان ہی کو توحید کے سانچے میں ڈھال دیا گیا، قربانی دینا چوںکہ ایک فطری جذبہ ہے اور گوشت انسان کی ایک فطری غذا ہے ؛ اس لئے آپؐ نے قربانی کے طریقہ کو باقی رکھا، شرعی ذبیحہ کو حلال قرار دیا گیا؛ لیکن ان کو شرک کی بجائے عقیدۂ توحید کا مظہر بنادیا کہ قربانی کی جائے مگر اللہ ہی کے نام پر جانور ذبح کیا جائے؛ غیر اللہ کے نام پر نہ قربانی جائز ہے اور نہ جانوروں کو چھوڑنا اور ذبح کرنا۔ 
علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی اورکے نام پر جانور ذبح کرے تو اس کا کھانا حرام ہے؛ کیوںکہ خود قرآن مجید میں اس کی صراحت ہے، ( المائدۃ : ۳) اس پر بھی قریب قریب اتفاق ہے کہ اگر ذبح کرتے وقت قصداً اللہ کا نام چھوڑ دے تو اس صورت میں بھی ذبیحہ حلال نہیں ہوگا ۔ (الہدایہ : ۴؍۳۴۷)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK