ہر زمانے میں عذابِ الٰہی کی نہ تو کوئی متعین شکل رہی ہے اور نہ اس کے لئےطبعی عوامل کی خلاف ورزی بھی ضروری ہے بلکہ اللہ تعالیٰ مجرم اور گنہگار قوموں کو اسی ماحول اور انہی حالات میں، انہی اسباب کے ذریعے عذاب سے دوچار کرتا ہے، جن سے وہ اپنی عام زندگی میں مستفید ہوتے تھے اور ان کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ چیز نہیں آتی کہ یہی اسباب جو آج ہمارے لئےزندگی کا سامان بنے ہوئے ہیں، کبھی ہمارے لئےہلاکت کا باعث بھی بن سکتے ہیں
سابقہ امتوں پر نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے جو عذاب آئے ، ان کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این
قرآنِ مجید وہ صحیفہ ٔ ہدایت ہے، جسے اس دُنیا کے خالق و مالک نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئےسب سے آخر میں نازل فرمایا ہے۔ یہ کتاب انسان کی صلاح و فلاح اور رُشدوہدایت کے لئےہرپہلو سے کامل و اکمل ہے۔ قیامت تک پیدا ہونے والی ساری انسانیت اس کی مخاطب ہے۔ اس میں انسانی مسائل کا صحیح، اطمینان بخش اور فطری حل موجود ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی زمانے یا کسی بھی جگہ سے کیوں نہ ہو، جو انسان کی ہدایت و ضلالت سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کے احکامات کی مکمل پیروی جہاں کامیابی کا یقینی ذریعہ ہے، وہیں اس سے ذرا سی بھی بے توجہی یا دُوری کا نتیجہ انتہائی خطرناک اور نوعِ انسانی کے لئےنہایت ناخوش گوار ہوتا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت سے لے کر آج تک کی پوری تاریخ اس پر گواہ ہے۔
قرآنِ مجید کی طرف سے بے توجہی اور اس سے دُوری کے نتیجے میں جو بے شمار فکری اور عملی کوتاہیاں شعوری یا غیرشعوری طور پر مسلمانوں میں پیدا ہوگئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوںنے اپنے ذہنوں میں عذابِ الٰہی کا ایسا تصور قائم کرلیا ہے، جو کسی بھی طور پر قرآنی تصریحات سے میل نہیں کھاتا۔ ان کے نزدیک گویا ضروری ہے کہ عذابِ الٰہی بھی معجزات کی طرح خرقِ عادت کی شکل میں نمودار ہو، اور اس دُنیا میں طبعی اسباب و عوامل کا جو سلسلہ چل رہا ہے، اس کی خلاف ورزی ہو، ورنہ اسے سب کچھ کہا اورسمجھاجاسکتا ہے، لیکن عذابِ الٰہی نہیں۔ لہٰذا ، وہ اس بات کو بعید سمجھتے ہیں کہ وہی اشیاء جن سے وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں مستفید ہو رہے ہیں، جن پر ان کی زندگی کا انحصار ہے، اور ان کے بغیر وہ چند لمحے بھی زندہ نہیں رہ سکتے، ہدایت الٰہی سے رُوگردانی کے نتیجے میں مشیت الٰہی کے تحت کسی بھی وقت ان کے لئےتازیانۂ عذاب میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج اُمت مسلمہ ان عذابوں اور خدا کی پکڑ سے بار بار دوچار ہونے کے باوجود، ان پر اس پہلو سے غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتی کہ کہیں یہ ہمارے اعمالِ بد کی پاداش میں ہمارے لئےعذاب کی کوئی صورت تو نہیں ہے، بلکہ ان کے لئےطبعی اسباب و عوامل تلاش کرکے مطمئن ہورہتی ہے۔ اور اس طرح ان میں اصلاح و تذکیر کا جو پہلو تھا، اس سے غافل رہ جاتی ہے۔ ان کی حالت قرآن مجید کی اس آیت کے مصداق ہے:
’’کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہرسال ایک دومرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں؟ مگر اس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں ، اور نہ کوئی سبق لیتے ہیں۔‘‘ (التوبہ :۱۲۶)
یا ان لوگوں کی مثال اس اُونٹ سے دی گئی ہے، جس کواس کا مالک کبھی کھول دیتا ہے اور کبھی باندھ دیتا ہے، لیکن اس کو کچھ پتہ نہیں کہ کیوں اس نے اس کو باندھا اور کیوں کھول دیا۔
قرآنِ مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عذابِ الٰہی کی ہر زمانے میں نہ تو کوئی متعین شکل رہی ہے اور نہ اس کے لئےطبعی عوامل کی خلاف ورزی ضروری ہے بلکہ اللہ تعالیٰ مجرم اور گنہگار قوموں کو اسی ماحول اور انہی حالات میں، انہی اسباب کے ذریعے سے عذاب سے دوچار کرتا ہے جن سے وہ اپنی عام زندگی میں مستفید ہوتے تھے اور ان کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ چیز نہیں آتی کہ یہی اسباب جو آج ہمارے لئےزندگی کا سامان بنے ہوئے ہیں، کبھی ہمارے لئے ہلاکت کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
دُنیا میں عذابِ الٰہی کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں: پہلی قسم وہ عذاب ہے جو ایسی قوم پر بھیجا جاتا ہے، جس پر حجت تمام ہوچکی ہو اور اصلاحِ احوال کی اُمید معدوم ہوچکی ہو، اور اس میں کسی خیر کے پنپنے کے امکانات تقریباً پوری طرح ختم ہوچکے ہوں، تو عذاب کے ذریعے پوری قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا ہے اور صفحۂ ہستی کو اس کے ناپاک وجود سے پاک کردیا جاتا ہے۔
اس قسم کی جو مثالیں قرآنِ مجید نے بیان کی ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:
۱- غرق کرنا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان میں سے ایک اہم نعمت یہ بھی ہے کہ اس نے سمندروں کو اس کے لئےمسخر کر دیا ہے۔ لکڑی کی ایک معمولی سی کشتی کے ذریعے وہ سمندر کی پشت پر دندناتا پھرتا ہے۔ وہ اپنے رزق کا ایک بڑا حصہ سمندری مخلوقات سے حاصل کرتا رہا ہے۔ اس سے طرح طرح کے قیمتی موتی اور آرائش و زینت کی دیگر اشیاء نکالتا ہے۔ دوسری جانب اس کے روح پرور نظارے اور خوب صورت و دلکش مناظر انسانی طبیعت کو سرور، خوشی اور راحت سے ہمکنار کرتے ہیں۔ بہت زیادہ وزنی اشیاء کے نقل و حمل کے لئےآج بھی سمندر ہی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔
لیکن جب انسان سرکشی پر اُتر آتا ہے، اور اس کے نتیجے میں مشیت الٰہی کارفرما ہوتی ہے، تو یہی سمندر جو ایک لمحہ قبل تک اس کے لئےنفع بخش تھا، اسے ڈبو دیتا ہے، اور اس کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔ اس الٰہی پکڑ سے اس کو رحمت ِ الٰہی کے علاوہ کوئی اور نجات نہیں دے سکتا :
’’ ہم چاہیں تو ان کو غرق کر دیں، کوئی اِن کی فریاد سننے والا نہ ہو اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انھیں پار لگاتی ہے۔‘‘(یٰسین :۴۳-۴۴)
فرعون نے جب سرکشی اختیار کی تو خدائی کا دعوے دار ہوا اور حضرت موسٰی و ہارون ؑ کی رسالت کو ماننے سے انکار کیا۔ بنی اسرائیل کو آزاد کرنے سے بھی انکار کردیا اور حضرت موسٰی اور بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی اور بنی اسرائیل کو بحرقلزم میں راستہ دے کر پار کرا دیا، اور اسی سمندر میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کر دیا۔ قرآن نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی یہ عظیم نعمت یاد دلاتے ہوئے بیان فرمایا ہے:
’’یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمہارے لئےراستہ بنایا، پھر اس میں سے تمہیں بخیریت گزروا دیا، پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونوں کو غرقاب کیا۔‘‘(البقرہ :۵۰)
۲- ہَـوا : جن بنیادی اشیاء پر انسانی زندگی کا انحصار ہے، ان میں سے ایک ’ہوا‘ بھی ہے۔ ہرجاندار سانس کے ذریعے سے اسے اپنے بدن میں داخل کرتا ہے اور اسی ذریعے سے خارج کرتا ہے۔ اگر سانس کی یہ ڈور کٹ جائے یا سانس لینے کیلئےمناسب ہوا میسر نہ ہو، تو چند لمحوں میں ایک جیتا جاگتا وجود لاشے میں تبدیل ہوجائے۔ انسانی زندگی کیلئےہوا، غذا اور پانی سے بھی زیادہ اہم ہے۔
سمندر کی طرح اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے فائدے کے لئےمسخر کیا ہے۔ ہوا بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ہانک کر لے جاتی ہے اور بارش کا سبب بنتی ہے۔ خوشگوار موسم میں جب بادِ صبا چلتی ہے، تو انسان پر سُرور و نشاط کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔انجن کی ایجاد سے قبل سمندری سفر اور کشتیوں کی آمدورفت کا مکمل انحصار ہوا پر ہی ہوتا تھا۔ آج بھی سمندری سفر کی خوشگواری اور ناخوشگواری میں ہوا کی سازگاری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جدید سائنس نے نباتاتی پہلوسے ہوا کے چلنے کے مختلف فوائد دریافت کئے ہیں۔ یہی ہوا مرطوب بن کر فصلوں کو نشوونما دیتی اور پروان چڑھاتی ہے۔ گرم اور خشک ہو کر ان کو پکاتی اور تیار کرتی ہے۔ حضرت سلیمانؑ اسی ہوا کے ذریعے مہینوں کی مسافت گھنٹوں میں طے کرلیا کرتے تھے۔(سورئہ سبا :۱۲)
لیکن یہی ہوا، اگر مشیت الٰہی چاہے تو انسانوں کی ہلاکت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ ’قومِ عاد‘ نے جب اپنے نبی حضرت ہودؑ کی بات ماننے سے انکار کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک تیزوتند ہوا بھیجی، جو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر چلتی رہی:’’اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیئے گئے ،اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلط رکھا۔‘‘(الحاقۃ : ۶۔۷) اس کی زد میں جو چیز بھی آتی، وہ ہلاک ہوجاتی تھی (الذاریات: ۴۲ ، الاحقاف:۲۵) یہاں تک کہ قومِ عاد باوجود اپنے لحیم و شحیم طاقت ور جسموں اور مضبوط اور بلندوبالا ستونوں والے گھروں کے ہلاک ہوگئے اور ان کی لاشیں ایسی بے حس و حرکت پڑی تھیں جیسے کھجور کے کھوکھلے اور بوسیدہ تنے۔ (الحاقۃ:۷)اسی لئےجب تیز ہوا چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہوجاتے اور اللہ سے لَو لگاتے:’’ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ جب کبھی تیز ہوا چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دُعا فرماتے کہ اے اللہ! میں آپ سے اس کی بھلائی، اس میں جو کچھ پنہاں ہے، اس کی بھلائی، اور جس مقصد سے یہ بھیجی گئی ہے، اس کی بھلائی کا طلب گار ہوں، اور اس کی بُرائی اور اس میں جو کچھ پوشیدہ ہے اس کی بُرائی اور جس غرض سے یہ بھیجی گئی ہے اس کی بُرائی سے میں تیری پناہ کا خواستگار ہوں۔‘‘
نیز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اس بات کا حکم دیا کرتے تھے:’’ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہوا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر ہے۔ رحمت اور عذاب لے کر آتی ہے۔ لہٰذا تم اُسے بُرا بھلا نہ کہو، بلکہ اللہ سے اس کی بھلائی طلب کرو اور اس کے شر سے پناہ چاہو۔‘‘۳- آواز: آواز بھی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جو اس نے انسان کوعطا فرمائی ہے۔ جب تک انسان نے لکھنے پڑھنے کافن نہیں سیکھا تھا، اس وقت تک مافی الضمیر کو ادا کرنے اور باہم رابطے کا ذریعہ صرف آواز ہی تھی۔ فنِ کتابت کی ایجاد اور آلاتِ رسل و رسائل اور کتابت میں گوناگوں ترقی کے باوجود آج بھی آواز پیغام رسانی اور لوگوں کے درمیان رابطہ پیدا کرنے میں کتابت سے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ آواز کے ذریعے انسان نہ صرف مختلف جانوروں کے درمیان تمیز کرتا ہے بلکہ وہ ابنائے انسانی کے مختلف افراد کے درمیان امتیاز کابھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ سُریلی، شیریں اور دل کش آواز سے انسان محظوظ ہوتا ہے اور وجد میں آجاتا ہے۔ دل کش آوازوں کی پسند کی وجہ سے انسان نے مختلف آلات موسیقی اور اشعار کے لئےاوز ان ایجاد کئے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہتاہے تو یہی آواز انسان کے لئےہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔ ’قومِ ثمود‘ نے جب حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور ان کی قوم کے بدبخت عناصر نے اس اُونٹنی کو قتل کر دیا، جو ان کے معجزہ طلب کرنے پر پتھر سے پیدا کی گئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ایک سخت اور ہولناک آواز کے ذریعے پوری قوم کو نیست و نابود کر دیا۔ ان کے وہ مضبوط اور محفوظ گھر جو انہوںنے چٹانوں کو تراش تراش کر بنائے تھے، وہ عذابِ الٰہی کو روک نہ سکے: ’’وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے آخرکار ایک زبردست دھماکے نے اُن کو صبح ہوتے ہی آلیا اور اُن کی کمائی اُن کے کچھ کام نہ آئی۔‘‘ (الحجر: ۸۲؍تا۸۴) صرف حضرت صالح ؑاور ان پر ایمان لانے والے افراد اس عذاب سے نجات پاسکے ۔(ھود:۶۶)
موجودہ دور میں، جب کہ ہم دھماکوں اور صوتی آلودگی سے ہونے والے واقعات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں، اس عذاب کی نوعیت اور اس کی ہلاکت خیزی کا اندازہ کرنا قطعاً مشکل نہیں۔ ’اصحابِ مدین‘ کے عذاب کی بھی یہی کیفیت تھی جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے:’’ مدین والے بھی دُور پھینکے گئے، جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے۔‘‘ (ھود : ۹۵