لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں کا نعرہ اور کانگریس کا خواتین کیلئے ۴۰ ؍فیصد سیٹیں

Updated: October 24, 2021, 11:38 AM IST

یوپی اسمبلی انتخابات۲۰۲۲ء کیلئے پرینکا کے تیور اور اُن کی پارٹی کی تیاری سے بی جے پی کی پریشانی میں اضافہ ہورہا ہے مگر نعروں اور اعلانات سے زیادہ اہم ہے زمین پر اپنا اثرورسوخ قائم کرنا جس میں بوتھ مینجمنٹ کو خاص اہمیت حاصل ہے

Priyanka Gandhi.Picture:INN
پرینکا گاندھی واڈرا میں بہتوں کو ان کی دادی اندرا گاندھی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان کی اپیل میں بھی دم ہے اسلئے کامیابی کا امکان زیادہ ہے۔ تصویر: آئی این این

خواتین کو با اختیار بنانے اور اتر پردیش کی سیاست میں انہیں براہ راست شامل کرنے کی غرض سے کانگریس کی جنرل سیکریٹری اور یوپی کی انچارج پرینکا گاندھی واڈرا نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں اس اعلان کے ذریعہ کہ یوپی انتخابات میں پارٹی کی ۴۰؍ فیصد سیٹوں پر ٹکٹ خواتین کو دیئے جائینگے، بی جے پی کے دانت کھٹے کردیئے ہیں جو نت نئی اسکیموں سے خواتین کا دل جیتنا چاہتی ہے۔ پریس کانفرس میں پرینکا گاندھی نے ایک بینر کی رونمائی بھی کی جس میں ’’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘‘ کا نعرہ تحریر تھا جو بالکل تازہ بہ تازہ ہے اور خواتین کو اعتماد میں لینے کی بظاہر تیر بہدف تدبیر معلوم پڑتی ہے۔ ۲۰؍ اکتوبر کو پرینکا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک نوعمر لڑکی کا ویڈیو جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ایک کم عمر دوست کی جانب سے پیغام۔‘‘ اس ویڈیو میں وہ لڑکی خواتین کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے ہوئے ’’میں لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘‘ کا نعرہ بلند کررہی ہے۔ اُس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’جو لڑکی لڑتی ہے میں بھی اس کے ساتھ کھڑی ہوں۔‘‘ 
 لکھنؤ کی مذکورہ پریس کانفرس میں ۴۰؍ فیصد ٹکٹ کے اپنی پارٹی کے فیصلے پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ اب خواتین اترپردیش کی سیاست میں پوری طرح حصہ دار ہوں گی۔ انہوں نے مزید کیا کچھ کہا یہ اُنہی کی زبانی سنئے: 
 ’’۲۰۱۹ء میں الہ آباد یونیورسٹی کی کچھ طالبات مجھ سے ملی تھیں، انہوں نے بتایا تھا کہ کس طرح یونیورسٹی اور ہوسٹل کے قوانین لڑکوں کیلئے الگ اور لڑکوں کیلئے الگ ہیں۔ کانگریس کا یہ فیصلہ ان طالبات کیلئے ہے۔ یہ فیصلہ اس خاتون کیلئے ہے جس نے گنگا یاترا میں میری ناؤ کو بلا کر کہا تھاکہ میرے گاؤں میں اسکول نہیں ہے، میں اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتی ہوں۔ (یہ فیصلہ) پریاگ راج کی لڑکی پارو کیلئے ہے جس نے کہا تھا میں نیتا بننا چاہتی ہوں۔ (یہ فیصلہ) چندولی میں رہنے والے ایئرفورس کے اس شہید پائلٹ کی بہن ویشنوی کیلئے ہے جو پائلٹ بننا چاہتی ہے۔ اناؤ کی اس لڑکی کیلئے ہےجس کو جلایا گیا تھا۔ اس کی بھابھی کیلئے ہے جو آج بھی انصاف کیلئے لڑ رہی ہے، اس کی ۹؍ سال کی بیٹی کیلئے ہے جسے اسکول میں دھمکایا گیا تھا۔ ہاتھرس کی اس ماں کیلئے ہے جس نے مجھے گلے لگا کر کہا تھا کہ اسے انصاف چاہئے، اسے انصاف نہیں مل رہا ہے۔ یہ فیصلہ رمیش کشیپ (لکھیم پور کے مقامی صحافی) کی بیٹی ویشنوی کیلئے ہے جو ڈاکٹر بننا چاہتی ہے، لکھیم پور کی اس لڑکی کیلئے ہے جس نے بتایا تھا کہ وہ پردھان منتری بننا چاہتی ہے۔ (یہ فیصلہ) لکھنؤ کی ایک بستی میں رہنے والی رشمی والمیکی کیلئے ہے جو پڑھی لکھی ہے لیکن ملازمت سے محروم۔ (۴۰؍ فیصد ٹکٹ کا یہ فیصلہ) سون بھدر کی اس خاتون کیلئے ہے جس کا نام قسمت ہے جس نے اپنے لوگوں کیلئے آواز اٹھائی۔ یہ فیصلہ یوپی کی ہر اس خاتون کیلئے ہے جو اتحاد چاہتی ہے، انصاف چاہتی ہے، تبدیلی چاہتی ہے اور ملک کی ترقی چاہتی ہے۔ میرا ہر خاتون سے، چاہے وہ کسی بھی پیشے سے وابستہ ہو، یہی کہنا ہے کہ اگر آپ تبدیلی چاہتی ہیں تو انتظار مت کیجئے۔ آپ کو بچانے کیلئے کوئی نہیں آنے والا۔ بچایا ان کو جاتا ہے جو آپ کو کچلتے ہیں۔ آج اقتدار کا نام یہی ہے کہ آپ کھلے عام لوگوں کو کچل سکتے ہیں۔ یہ غلط ہے۔ یہاں نفرت کا بول بالا ہے۔ اسے خواتین ہی بدل سکتی ہیں۔ خواتین اس لئے بدل سکتی ہیں کہ ان میں رحمدلی، استقامت اور خدمت کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ خواتین آگے آئیں اور سیاست کے میدان میں میرے ساتھ شانے سے شانہ ملا کر چلیں۔‘‘
 پرینکا کے اعلان سے واضح ہوگیا ہے کہ کانگریس خواتین کو اپنے پالے میں رکھنے کے بی جے پی ایجنڈے کو بے اثر کرنے کی جانب قدم بڑھا چکی ہے۔ یہ اسکیم نہ صرف ریاستی سطح بلکہ قومی سطح پر بھی اپنائی جاسکتی ہے۔ بی جے پی حکومت نے خواتین کیلئے کئی اسکیمیں شروع کی ہیں لیکن انہیں براہ راست سیاست میں شامل کرنے کا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ کانگریس کے اس فیصلے سے مودی، امیت شاہ، جے پی نڈا اور یوگی آدتیہ ناتھ سمیت بی جے پی کے کئی سینئر لیڈر وں کو پریشانی ضرور ہوگی۔ بر سر اقتدار حکومت خواتین کے تحفظ کا دعویٰ تو کرتی ہےلیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK