دورِ غلامی کے غداری قانون کا معطل کیا جانا فا ل نیک

Updated: May 15, 2022, 9:28 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

سڈیشن قانون پر غوروخوض اچھی بات ہے مگر یہ واحد قانون نہیں ہے جو حقوق انسانی کی پامالی کا باعث بنتا ہے۔ ایسے مزید کئی قوانین ہیں جو خود ہمارے بنائے ہوئے ہیں۔

Supreme Court
سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے غداری کے قانون (سڈیشن لاء) کو معطل کیا ہے جبکہ مرکزی حکومت نے بھی کہا ہے کہ وزیر اعظم نوآبادیاتی دور کے اس قانون کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے۔ اس قانون میں درج ہے: ’’جو بھی (شہری) لکھے ہوئے یا زبان سے ادا کئے ہوئے الفاظ کے ذریعہ یا علامات اور اشاروں کے ذریعہ یا ایسی نمائندگی کے ذریعہ  ظاہر ہو یا ظاہر نہ ہو، حکومت کے خلاف نفرت کا اظہار کرتا ہے، یا حکومت کی تحقیر کرتا ہے یا لوگوں کو اشتعال دلاتا ہے یا لوگوں میں بے چینی پیدا کرتا ہے اسے عمر قید کی سزا دی جائے گی۔‘‘ ’’آرٹیکل ۱۴؍ کام‘‘ نامی ویب سائٹ نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اُن تمام مقدمات کی فہرست تیار کی ہے جو حکومت نے اس قانون کے تحت دائر کئے ہیں۔ اسی کی وجہ سے یہ معاملہ موضوع بحث بنا۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ (۱) حکومت غداری کے مقدمات اب بھی دائر کرسکتی ہے، اور (۲) اور بھی کئی قوانین ہیں جو اتنے ہی پریشان کن ہیں اور جن کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے پیش کردہ یہ دونوں ہی انتباہات قابل غور ہیں۔ اگر عدلیہ چند غیر متعلق قوانین کو مرکز توجہ بنالے کہ ہماری ۲۱؍ ویں صدی کی جمہوریت میں بھی یہ قوانین ہمارا تعاقب کررہے ہیں تو پریشان کرنے والے قوانین بھی موضوع بحث بنیں گے۔ جب کسی ملک کو ایسی سچائیاں کا شعور اور ادراک ہونے لگتا ہے تب وہ داخلی اصلاحات کی جانب قدم بڑھاتے ہیں۔ 
 وطن عزیز میں ایسے کئی قوانین ہیں جو شہریوں کو آئین میں دی گئی آزادی پر قدغن لگاتے ہیں۔ جہاں تک نوآبادیاتی دور کے قوانین کا تعلق ہے، تو غداری واحد قانون نہیں ہے جو اُس دور سے متعلق ہے۔ رولڈ ایکٹ جس کی شدید مخالفت گاندھی جی نے کی تھی اور جس کی وجہ سے جلیان والا باغ کا واقعہ پیش آیا تھا، قانون کے بنیادی اُصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف تھا۔ اس کے تحت لوگوں کو بغیر الزام عائد ہوئے یا مقدمہ چلائے حراست میں لیا جاسکتا تھا۔ جج حضرات بند کمروں میں جرح سن لیتے تھے۔ اسے انتظامی حراست کہا جاتا تھا۔ بہ الفاظ دیگر کسی شخص کو جرم کے ارتکاب کے بغیر گرفتار کرنا محض اس شک میں کہ یہ شخص آگے چل کر جرم کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ ہمارے آج کے ہندوستان میں بھی ایسے قوانین ہیں۔ ۲۰۱۵ء میں ۳؍ ہزار ۲؍ سو افراد کو ’انتظامی حراست‘ میں لیا گیا تھا۔گجرات میں غیر سماجی سرگرمیوں کے انسداد کا قانون ۱۹۸۴ء    میں وضع کیا گیا تھا جس کے تحت کسی شخص کو بغیر فرد جرم اور بغیر مقدمہ ایک سال تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ اُترپردیش میں نیشنل سیکوریٹی ایکٹ ہے ۔ اس میں بھی کسی شہری کو فرد جرم عائد کئے یا مقدمہ چلائے بغیر ایک سال تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ قانون اُن مسلم ملزمین کے خلاف استعمال کیا گیا جنہیں مویشیوں کو ذبح کیلئے اسمگل کرنے کا مرتکب باور کرایا گیا تھا۔ تمل ناڈو میں شراب مافیا، ریت مافیا، منشیات مافیا، جنگلات کو نقصان پہنچانے والوں، غنڈہ گردی کرنے والوں، ٹرافک کی غیر اخلاقی خلاف ورزی کرنے والوں،جنسی استحصال کرنے والوں، شہروں میں غیر قانونی سلم بستیاں بسانے والوں اور جعلی ویڈیو تیار کرنے والوں کے خلاف بھی ایسا ہی قانون ہے جو ۱۹۸۲ء میں بنایا گیا تھا۔ اس کے تحت بھی کسی ملزم کو مقدمہ چلائے بغیر حتیٰ کہ فرد جرم عائد کئے بغیر جیل بھیجا جاسکتا ہے۔ مثالیں اور بھی ہیں:
 کرناٹک میں تیزاب پھینکنے، شراب مافیا، ماحولیات کو نقصان پہنچانے والوں، منشیات کی خریدوفروخت کرنے والوں، غنڈہ گردی کرنے والوں وغیرہ کے خلاف ۱۹۸۵ء میں ایک قانون بنایا گیا تھا۔اس کے تحت کسی ملزم کو بغیر فرد جرم اور بغیر مقدمہ ۱۲؍ ماہ جیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ آسام میں ایک قانون حفظ ماتقدم کے نام پر بنایا گیا تھا۔ ۱۹۸۰ء کے اس قانون کے تحت کسی بھی ملزم کو فرد جرم اور مقدمہ کے بغیر دو سال تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ 
 بہار میں غیر ملکی زر مبادلہ اور اسمگلنگ روکنے کا قانون ہے جو ۱۹۸۴ء میں بنایا گیا تھا۔ اس کے تحت، کسی بھی طرح کی اسمگلنگ یا اس مقصد کے تحت اشیاء کی نقل و حمل کرنے والے کو دو سال تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ جموں کشمیر میں تین قوانین ہیں۔ ایک وہ ہے جس کے تحت فرد جرم اور مقدمہ کے بغیر کسی شخص کو چھ ماہ تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ دوسرا وہ ہے جس میں ایک سال تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے اور تیسرا وہ ہے جس کے تحت دو سال تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔
 مغربی بنگال میں متشدد سرگرمیوں کے انسداد کا قانون ہے جو ۱۹۷۰ء میں بنایا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ کے بارے میں آپ جانتے ہیں۔ یہاں وقفے وقفے سے صحافیوں کو این ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا اور ایک سال تک جیل میں رکھا گیا۔
 مذکورہ بالا قوانین جن برسوں میں بنائے گئے اُن سے واقفیت کے بعد آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ ان میں سے کوئی قانون نوآبادیاتی دور کا نہیں ہے۔ یہ سب آزاد ہندوستان میں بنائے گئے اور ہم نے اپنے آپ کو تحفے میں پیش کئے ہیں۔ ہر ریاست ان قوانین کا بے دریغ استعمال کرتی ہے اور عدلیہ اُنہیں روک نہیں پاتا۔ دور حاضر میں ہم نے اپنے ہی آبادی کے کچھ طبقات کو دشمن تصور کرلیا ہے جن کیلئے اینٹی نیشنل کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
 اب ہمارے ملک میں جلیان والا باغ جیسے اجتماعات نہیں ہوتے، اگر ان قوانین کے خلاف ویسا ہی اجتماع، احتجاج یا مظاہرہ ہو تو ہمیں بآسانی اینٹی نیشنل کہہ دیا جائیگا۔ مگر ایسا کہنے سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ ایک صدی پہلے جو رولیٹ ایکٹ آیا تھا ویسے ہی کئی قوانین کا ہمیں آج بھی سامنا ہے۔ کیا اب وقت نہیں آگیا ہے کہ ان قوانین پر بھی غوروخوض ہو اور ان سے پنڈ چھڑانے کی کوشش کا آغاز ہو؟غداری کے قانون (سڈیشن لاء) کا معطل کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ اب اعلیٰ عدالتیں نہ صرف غداری قانون بلکہ مذکورہ بالا دیگر قوانین پر بھی غور کریں گی تاکہ ان سے نجات پائی جائے جن سے بغیر مقدمہ چلائے جیل بھیجنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔  n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK