پڑوسی پاکستان کی عجوبہ ٔروزگار سیاست

Updated: May 17, 2022, 11:04 AM IST | Hassan Kamal | Mumbai

پاکستان کے سیاست دانوں بالخصوص موجودہ حکمرانوں نے اپنی حرکتوں سے آج پاکستان اور اس کی سیاست کو عجوبۂ روزگار بنا رکھا ہے۔ لندن میں چھپ کر بیٹھے ہوئے نواز شریف نے وفاقی کابینہ کو گزشتہ ہفتہ لندن طلب کیا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے دوست بدل سکتے ہیں، اپنے پڑوسی نہیں بدل سکتے۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر ہم اپنے پڑوسی سے بے خبر بھی نہیں رہ سکتے اور اگر پڑوسی کے گھر میں ہنگامہ بپا  ہو تو پھر ہم آنکھیں اور کان بند بھی نہیں رکھ سکتے۔ پاکستان کے سیاست دانوں بالخصوص موجودہ حکمرانوں نے اپنی حرکتوں سے آج پاکستان اور اس کی سیاست کو عجوبۂ روزگار بنا رکھا ہے۔ لندن میں چھپ کر بیٹھے ہوئے نواز شریف نے وفاقی کابینہ کو گزشتہ ہفتہ لندن طلب کیا۔ یاد رہے کہ نواز شریف کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے سیاست کے لئے تا حیات نااہل قرار دیا ہے۔ وہ نہ صرف پاکستانی عدالتوں کو مطلوب ہیں،بلکہ سزا یافتہ مجرم بھی ہیں اور ان کی سزا کی مدت ابھی باقی ہے۔اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس کابینہ کو لندن طلب کیا گیا اس کے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع سب کے سب ضمانت پر رہا ہیں۔تمام کابینہ کے۶۰ ؍ فیصد وزراء بدعنوانی، مالی خرد برد اور جعلسازی میں  ملوث پائے گئے تھے۔ اس طرح یہ کابینہ بھی عجوبۂ روزگار کابینہ ہے۔ عجائبات کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ کابینہ کا یہ ’’اجلاس‘‘ لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر اس ڈر سے نہیں ہوا کہ کہیں گھر کے باہر ہزاروں پاکستانی جمع ہو کر ’’چور چور اور غدار غدار‘‘ کے نعرے نہ لگانے لگیں، جیسا کہ شہباز شریف اور ان کے وزراء کو دیکھ کر مدینہ منورہ میں لگائے گئے تھے۔ نواز شریف نے عید کی نماز گھر سے تھوڑی ہی دور پر واقع مسجد میں نہیں پڑھی گھر ہی میں پڑھ لی۔ بہر حال پاکستان کی اس حکومت نے، جسے عمران خان نے ’’امپورٹیڈحکومت‘‘ کا نام دیا ہے، پاکستانیوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ان پر کون حکومت کرے گا، اس کا فیصلہ واشنگٹن میں کیا جائے گا اور ان پر کیسے حکومت کی جائے گی ، اس کافیصلہ لندن میں ہوگا۔اسلام آباد کو تو بس سرجھکا کر حکم کی تعمیل کرنا ہوگی اور پاکستانیوں کو بھی بے بس تماشائیوں کی طرح خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہنا ہوگا۔اس عجوبۂ روزگار سیاست کی داستان کا آغاز ۸ ؍مارچ ۲۰۲۲ء کو ہوا تھا، جس دن عمران خان کی مخالف ان تمام اپوزیشن پارٹیوں نے اچانک متحد ہو کر عمران حکومت کے خلاف تجویز عدم اعتماد پیش کر دی۔یہ پارٹیاں جو ہمیشہ ایک دوسرے سے دست و گریباں رہیں ، ان کا ایک ہوجانا بجائے خود ایک عجوبہ تھا۔ بعد میں ہونے والے انکشافات سے معلوم ہوا کہ در اصل آصف زرداری کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی وہ تمام پارٹیوں حتیٰ کہ عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کے ناراض ممبروں کو یقین دلائیں کہ اس تحریک کو امریکہ کی پوری حمایت حاصل ہے اور امریکی ایڈمنسٹریشن نے یقین دلایا ہے کہ تحریک کی کامیابی کی صوررت میں نئی حکومت کو امریکہ کی ہر طرح کی مددحاصل رہے گی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت بہت نیچے آچکی ہے۔ چند ضمنی اسمبلی انتخابات اور خیبر پختون خوا کے چند بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف پارٹی کی شکستوں کو اس کا بیّن ثبوت بتایا گیا۔ زرداری نے یہ بھی یقین دلایا کہ ایسا صرف وہ اورنواز شریف ہی نہیں سوچتے بلکہ فوج اور عدلیہ کابھی یہی سوچنا ہے۔  پاکستانیوں نے عمران خان کا یہ بیانیہ ہاتھوں ہاتھ لیا کہ امریکی ایڈمنسٹریشن ،نواز شریف اور آصف زرداری نے مل کر ایک سازش کے ذریعہ ہٹایا ہے اور عین اس وقت ہٹایا ہے جب پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف گامزن تھی۔اور یہ کہ انہیں اس لئے ہٹایا گیا کہ وہ پاکستان کے مفاد کو امریکی مفاد پر ترجیح دینے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ امریکہ نے ان کی جگہ ان لوگوں کو بٹھا دیا ہے جو اس کی غلامی سے انکار نہ کریں۔ عمران خان نے تابڑ توڑ جلسے شروع کر دیئے، ان کا ہرجلسہ پچھلے جلسے سے بڑا نظر آنے لگا۔ اب الیکشن کے نام سے ان پر کپکپی طاری ہونے لگی پھر جب فوج کے بہت اعلیٰ  ِسبکدوش افسروں نے عمران خان سے اظہار ہمدردی کیا تو فوج کے بھی اوسان خطا ہو گئے۔عدلیہ کو بھی احساس ہوا کہ عمران کی جگہ پاکستان کو ایک ملزموں اور مجرموں کے ٹولے کے حوالے کرنے کے لئے عوام عدلیہ کو بھی ذمہ دار سمجھ رہے ہیں۔کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عمران خان کی عوامی مقبولیت آسمان چھونے لگے گی۔دوسری طرف عمران خان عوام کے جم غفیر کے ساتھ تمام اداروں پر دبائو بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔ عدلیہ اور فوج پچھلے دروازوں سے ان سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی، لیکن عمران خان نے الیکشن کی تاریخوں کے اعلان سے پہلے عوام کے سوا کسی سے بھی بات کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔ 
                امریکی ایڈمنسٹریشن اور شریفوں ، زرداریوں کے مابین ڈیل میں کس کے ہاتھ کیاآ یا،ادھر یہ دیکھا جائے توصورت حال بہت دلچسپ نظر آتی ہے۔جہاں تک امریکی ایڈمنسٹریشن کا تعلق ہے ۔وہ تو جو چاہتا تھا،اسے مل گیا۔عمران خان کو امریکہ سے دوری بنانے اور چین و روس سے قربت بڑھانے کی سزا دے دی گئی۔ آصف زرداری ۹؍سال سے وفاق کے اقتدار میں کسی بھی حصہ سے محروم تھے۔ آج قومی اسمبلی کا اسپیکر ان کا ہے، ان کا بیٹا وزیر خارجہ بن چکا ہے۔ ان کے پاس کئی وزارتیں ہیں اور سب سے بڑی بات سندھ کا صوبہ ان کے پاس ہے۔ اسی لئے وہ  چاہتے ہیں کہ الیکشن فوراًنہ ہوں اور وہ کچھ دن اور اقتدار کے مزے لوٹ سکیں۔بس نواز شریف کو کچھ نہیں ملا۔ وہ سراسر گھاٹے میں نظر آرہے ہیں۔وہ سمجھتے تھے کہ عمران خان کے ہٹتے ہی ان کے دن پھر جائیں گے۔ ان کا سفارتی پاسپورٹ بحال ہو جائے گا۔ ان کی لاڈلی بیٹی مریم نواز کا ضبط شدہ پاسپورٹ بھی واپس مل جائے گا۔ پھر وہ عمرہ کے بہانے جدہ جائیں گے۔ ان کی بیٹی بھی وہیں آجائے گی،پھر چونکہ ان کا چھوٹابھائی شہباز شریف وزیر اعظم ہو گا۔ اس لئے وہ کچھ چکر چلا کر عدالتوں سے ان کی باقی  سزا معاف کروا دے گا۔پھر وہ  پاکستان واپس آجائیں گے اور اپنی بیٹی اور ریموٹ کے ذریعہ پاکستان پر حکومت کریں گے۔ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا دکھائی دے رہاہے۔ الٹے انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جہاں ہیں وہیں رہیں۔ نواز شریف کو یہ غم بھی کھائے جا رہاہے کہ چھوٹا بھائی وزیر اعظم ہے۔ اس کا بیٹا وزیر اعلیٰ ہے اور وہ خود اور ان کی بیٹی ٹکے کے تین تین ہو کر رہ گئے ہیں۔ رہا امریکہ تو وہاں کہا جا رہا ہے کہ بائیڈن نے ۱۷۶ ؍ان پاکستانیوں کی دوستی تو ضرور جیت لی یا خرید لی، جنہوں نے عمران کے خلاف ووٹ دیئے تھے، لیکن ۲۲؍ کروڑ پاکستانیوں کی دوستی کھو دی۔ اب بائیڈن جانیں کہ یہ امریکہ کا فائدہ ہے یا نقصان؟ ہاں ان سب نے مل کر عمران خان کو وہ مقبولیت ضروردلا دی، جو گھٹتی دکھائی دے رہی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK