سماج کے مختلف مظاہر میں سچائی کی تلاش ہی سے سچا اَدب وجود میں آتاہے

Updated: March 14, 2021, 8:55 PM IST | Azhar Qadri

جو ادیب عوامی دھاروں سے کٹ جاتے ہیں سماجی سچائیوں پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے اور ان کیلئے لفظی ہیرپھیر، اسلوبی بازیگری اور سنسنی خیزی سے ادب میں جھوٹ کی اشاعت کے علاوہ اور کچھ نہیں رہ جاتا

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

خواب  دیکھنا اور اُس کو خواب کے دائرے تک محدودرکھنا اور بات ہے لیکن خواب کو حقیقی زندگی پر مسلط کرکے حقیقت کو ذہنی عکس قرار دینا اور خارجی زندگی اور اس کے مادی مظاہر کو جھٹلانے کی کوشش کرنا ادب کا بذات خود بہت بڑا جھوٹ ہے۔ خواب دیکھنا عیب نہیں۔ ہر اچھا ادیب خواب دیکھتا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ خواب کو حقائق کی  دھوپ دکھا کر مسرتوں اور بہتر زندگی کی جستجو کی کوشش میں صرف کیا جائے۔ ادب میں یہی دو قسم کے خواب ہر دور میں جھوٹ اور سچ کی جلوہ   سامانیوں میں مصروف عمل رہے ہیں۔ کبھی جھوٹ غالب رہا اور کبھی سچ کا بول بالا ہوا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ زندگی اور سماج کے ارتقائی عمل کے کڑے تیور نے جھوٹے عناصر کو اپنے عہد کے حصار سے بہت کم آگے بڑھنے دیا ہے لیکن زندگی اور سماج کی راہ میں مزاحمت بننے کی کوشش میں جھوٹ نے انسان کی اکثریت کو نقصان ضرور پہنچایا ہے اور فکر  و فلسفہ کے رخ کو غلط سمتوں میں موڑ کر خیال کی راہ میں ذہنی سفر کو بے راہروی کا شکار بنا کر منزل کو نظروں سے اوجھل بھی رکھا ہے۔
 طبقاتی کشمکش نے کسی دور کو انقلابی جدوجہد سے خالی نہیں رہنے دیا ہے۔ استحصال سے پاک غیرطبقاتی معاشرہ  کی خواہش اور انسانی ضرورتوں، تقاضوں اور امنگوں کی بیباک ترجمانی ہمیشہ بڑے ادب کی محرک رہی ہے۔ نظام تقسیم کی معاشی بنیادیں جو مسائل پیدا کرتی ہیں ان کا حل انقلابی جدوجہد چاہتا ہے۔ اس جدوجہد سے وہ سماجی، سیاسی، تہذیبی، معاشی و معاشرتی تبدیلیوں کے سرچشمے پھوٹتے ہیں جن کا صحیح اور صحتمند ادراک ادبی شعور کے لئےنئے نئے فکری گوشوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ بدلتے ہوئے  حالات پر شعورِ گرفت فن اور زندگی کے باہمی  رشتوں کو سمجھنے  ہی میں مدد نہیں دیتا بلکہ خام مواد کی فراہمی سے لے کر اظہار کے لئے اسالیب کے دمکتے ہوئے گرانقدر ہیرے بھی تراشتا ہے۔ سماج کے مختلف مظاہر میں سچائی کی تلاش ہی سے سچا ادب وجود میں آتا ہے اور ادیب عوام کی سماجی و معاشی جدوجہد سے اپنا رشتہ جوڑنے کے بعد ہی اپنے عہد کی سچائی تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ جو ادیب  عوامی دھاروں سے کٹ جاتے ہیں سماجی سچائیوں پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے اور ان کے لئے لفظی ہیرپھیر، اسلوبی بازیگری اور سنسنی خیزی سے ادب میں جھوٹ کی اشاعت کے علاوہ اور کچھ نہیں رہ جاتا۔
  یہ ٹھیک ہے کہ  انسان اپنے اردگرد کے حالات سے براہِ راست اثر قبول کرتا ہے اور اس لحاظ سے وہ بڑی حد تک اپنے ماحول کا پروردہ و پرداختہ ہے لیکن اس کا تعلق عام انسانی برادری سے بھی ہے چنانچہ بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والے واقعات تمام سرحدوں کو پھاند کر اس کی زندگی اور سماج پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں اور اس اعتبار سے عالمی مسائل اس کے سماجی و معاشی مسائل کا حصہ بن جاتے ہیں اور اس کی قومی و طبقاتی  جدوجہد عالمی جدوجہد سے اپنا ناطہ جوڑ کر اور عالمی سطح سے اٹھنے والی انقلابی لہروں سے کسب ِ نمو کرکے زبردست تاریخی قوت میں بدل جاتی ہے۔ اس اعتبار سے ادیب کے لئے عالمی جدوجہد سے پیدا ہونے والے نئے انسانی معاشرے اور نئی انسانی تہذیب کا مطالعہ و تجزیہ ضروری ہے۔ 
 اس کا صحیح ادراک ہی اس کے اندر وہ عالمی شعور پیدا کرسکتا ہے جو اسے خود اپنے سماج کے تہ بہ تہ  ادبی و تہذیبی محرکات اور عوامل پر گرفت مضبوط رکھنے میں مدد دے سکتا ہے اور اس طرح عالمی انقلابی سرگرمیوں سے وابستگی اس کی ادبی سرگرمیوں کے لئے کائنات پر پھیلی ہوئی زندگی کی وسیع ترین فضاؤں میں پرواز کے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔ قومی صداقتوں سے عالمی سطح پر رونما ہونے والی ہمہ گیر صداقتوں تک کی راہ دشوار گزار ضرور ہے لیکن سماجی کوائف کی بدلتی ہوئی شکلوں سے باخبر ادیب کیلئے یہ ذہنی سفر ناممکن نہیں۔
  جدت کے نام پر بھی ادب میں جھوٹ کی اشاعت ہوتی رہی ہے۔ آج ہمارے ادب میں جدت کی آڑ میں جو کچھ لکھا جارہا ہے وہ بھی جھوٹ کے اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ ادب کو لایعنی اسالیب ِ اظہار تک محدود کردینے کا نام جدت نہیں۔ ابہام پرستی، لفظی ہیرپھیر، استعاراتی بازیگری اور تشبیہاتی کرشمہ سازی سے ادب میں جادو جگانے کی کوشش دھول کی رسی بٹنے کی مثال ہے۔ لایعنیت اور مہمل گوئی کی اشاعت سے جدت کی کسی تحریک کو تقویت تو نہیں پہنچائی جاسکتی البتہ اس فریب ِ عمل سے انسانی اقدار پر مبنی ادب کی نفی ضرور کی جاسکتی ہے۔ جدت کی یہی وہ غلط تحریک ہے جس نے جدید ادب کے اندر اذیت پسندی، احساس تنہائی،  زندگی سے بیزاری، شکست خوردگی اور خودکشی کی خواہش کو جنم دیا ہے۔
  بات یہ ہے کہ جب ادیب زندگی کے بہاؤ سے الگ ہوجاتا ہے تو اس کے اندر جمود کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ آگے بڑھتی ہوئی زندگی سے اپنا  رشتہ جوڑنے کے بجائے جدت کے لفظ سے خود کو فریب میں رکھنا چاہتا ہے اور اس فریب میں قاری کو بھی اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کرتا ہے۔ جدت کی اس برخود غلط توضیح نے موجودہ ادب میں جدت کی ایک ایسی لہر دوڑا دی ہے جس میں نئی نسل کے ساتھ کچھ پرانے لکھنے والے بھی بہتے چلے گئے ہیں۔
  ادب میں جدت کی جلوہ سامانیاں دراصل زندگی کے تغیر پزیر عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے کوشش ِ تجدید کوئی غیرادبی فعل نہیں بلکہ عین ادبی تقاضا ہے۔ ہر آن بدلنے والی زندگی کے سفر میں جو عناصر اس کی تیزروی کا ساتھ نہیں دے سکتے وہ گردِ راہ بن کر پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان عناصر کی جگہ لینے کے لئے نئی مثبت قدریں آگے بڑھتی ہیں جن کا اظہار نئے اسالیب اور ابلاغ کے نئے وسیلے چاہتا ہے۔ پرانے اور روایتی اسالیب کی یکسانیت موضوعات  کے اظہار کے لئے اپنا رنگ و اثر کھو بیٹھتی ہے ۔ لیکن جب تخلیقی ذہن متحرک زندگی کی بدلتی ہوئی اقدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھتا ہے اور  بدلے ہوئے ماحول میں بدلے ہوئے انسانی رشتوں کا پوری طرح احاطہ کرلیتا ہے تب  وہ نئے موضوعات کیلئے نئے اسالیب بھی اختراع کرتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ادیب کا شعور بدلتی ہوئی زندگی اور اس کے متعلقات سے اچھی طرح ہم آہنگ ہے ۔
 ادیب کا اپنے وجود کو ادب کا مرکزی کردار بنانے  اور خاجی مظاہر کو اپنا ذہنی عکس سمجھنے سے بھی  ادب میں فتور پیدا ہوتا ہے۔ ادیب جب اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کردیتا ہے کہ اس کا شعور خارجی و مادی حالات کا پرتو ہے  اور اس کو خارجی دنیا ہی غذا فراہم کرتی ہے تو وہ ادب میں اپنی ذات کا افسانہ چھیڑ دیتا ہے اور اس فریب میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اس کے ذاتی احساسات اور دلی کیفیات ہی سے ادب کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ادیب کی ذات اور شخصیت اس کی تخلیقی کاوشوں میں جھلکتی ہے اور اس لئے اس کی ذات اور شخصیت کو اس کی تخلیقات سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن اسی  کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ خارجی عوامل اور سماجی کوائف اس کی  ذات پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں  اور اس کی شخصیت کی صورت گری میں اہم حصہ لیتے ہیں۔ 
 یہی نہیں بلکہ اس کی شخصیت کی جاذبیت اور رنگا رنگی بہت بڑی حد تک خارجی ماحول ہی  کی عطا اور بخشش ہوتی ہے۔ ادیب کی شخصیت  اور خارجی مظاہر کی مکمل آہنگی سے سچے ادب کے لئے زمین ہموار ہوتی  ہے لیکن جب ادیب خارجی حالات سے توانائی  حاصل کرنے کے بجائے انہیں ہی اپنی ذات کا تابع بنانا چاہتا ہے تو ادب میں جھوٹ کی اشاعت ہونے لگتی ہے۔ ادب میں جھوٹ سے چشم پوشی نہیں کی جانی چاہئے۔ اس کی وجہ ہے۔
 وجہ یہ ہے کہ جھوٹ صرف ادبی دائرے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے استحصالی قوتوں کو طبقاتی سماج پر اپنا تسلط برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اس لئے ادیب اور قاری دونوں کے لئے سچے اور جھوٹے میں امتیاز ضروری ہے تاکہ ادب میں جھوٹ کی مؤثر مزاحمت کا عمل جاری رہ سکے۔ n

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK