ٹرمپ کے ستارے گردش میں ہیں

Updated: July 01, 2020, 9:40 AM IST | Parvez Hafiz

سیاہ فام جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کے بعد پورے امریکہ میں اتنے بڑے پیمانے پراحتجاج ہوئے کہ کئی خطوں میں بدامنی بلکہ طوائف الملوکی پھیل گئی۔امریکیوں کا الزام ہے کہ ملک میں اس طرح کے نفرت پر مبنی جرائم میں اضافےکیلئے ٹرمپ کے نسل پرستانہ نظریات اور ارشادات ذمہ دار ہیں۔

US Protest - Pic : INN
امریکہ میں احتجاج ۔ تصویر : آئی این این

  پچھلے چندہفتوں سے ڈونالڈ ٹرمپ کے ستارے مسلسل گردش میں نظر آرہے ہیں۔ کورونا کی قیامت خیزیاں کیا کم تھیں کہ سیاہ فام جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کے بعد پورے امریکہ میں اتنے بڑے پیمانے پراحتجاج ہوئے کہ کئی خطوں میں بدامنی بلکہ طوائف الملوکی پھیل گئی۔امریکیوں کا الزام ہے کہ ملک میں اس طرح کے نفرت پر مبنی جرائم میں اضافےکیلئے ٹرمپ کے نسل پرستانہ نظریات اور ارشادات ذمہ دار ہیں۔ عوامی برہمی، میڈیا کی تنقید کے علاوہ ٹرمپ کو اس وقت فوج کی ناراضگی بھی جھیلنا پڑی ہے۔ عوامی مظاہروں سے نمٹنے کیلئےجب ٹرمپ کی ملٹری اتارنے کی تجویز فوجی سربراہ اور وزیر دفاع دونوں نے مسترد کردی تو صدر ان سے الجھ پڑے۔ وہائٹ ہاؤس اور پنٹاگان کے درمیان تصادم ملک کیلئے نیک شگون نہیں ہے کیونکہ امریکی صدر تینوں افواج کا کمانڈر ان چیف ہوتا ہے۔ جیسے جیسے صدارتی انتخابات قریب آرہے ہیں، ان کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ جب برا وقت آتا ہے تو دوست بھی دشمن اور اپنے بھی پرائے ہوجاتے ہیں۔ یہ قدیم کہاوت اس وقت ٹرمپ پر پوری طرح سچ ثابت ہورہی ہے۔ سنتے آئے ہیں کہ پرانے وقتوں میں کسی گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھائی تھی۔اب دور جدید میں ٹرمپ کے’’سفید گھر‘‘ کے بھیدی واشنگٹن ڈھانے پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔
  ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن نے ایک کتاب لکھ کر ٹرمپ کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں ایسے ایسے انکشافات کئے ہیں جن سے ٹرمپ کی خفت بھی بڑھی ہے اور خوف بھی۔ بولٹن کی متنازع کتابThe Room Where it Happened کی ا شاعت رکوانے کی ٹرمپ کی تمام کوششیں رائیگاں ثابت ہوئیں۔ ابھی وہ بولٹن کے حملے سے نکل بھی نہیں پائے تھے کہ ان کی اپنی بھتیجی  میری ٹرمپ نے بھی اعلان کردیا ہے کہ وہ بھی ایک کتاب بم لے کر آنے کے لئے پر تول رہی ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت جولائی میں ہوگی اور اس کا ثانوی ٹائٹلHow My Family Created the World`s Most Dangerous Manہے۔ قارئین سمجھ لیں کہ جس شخص کا اپنا خون ہی اسے’’ دنیا کا خطرناک ترین شخص‘‘قرار دے، اسے بھلا دشمنوں کی کیا ضرورت ہے۔
 بولٹن کی کتاب کے مندرجات نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے تمام اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں اور ان سے ٹرمپ کو بڑی ذلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہ بات حیرت انگیز تو ہے لیکن سچ بھی ہے کہ ٹرمپ نے۲۰۱۶ء  میں الیکشن جیتنے کے لئے امریکہ کے ایک دشمن ملک سے مدد لی تھی اور ۲۰۲۰ء میں بھی وہ ایک دشمن ملک سے مدد کے طلب گار ہیں۔ ٹرمپ نے جب صدارتی الیکشن جیتا تھا اس وقت ان پریہ الزام لگا تھا کہ ان کی فتح میں روس نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ پچھلے چاربرسوں میں اس الزام نے ٹرمپ کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔ اور اب جب اگلے صدارتی انتخابات میں پانچ ماہ رہ گئے ہیں تو بولٹن نے اپنی کتاب میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ دوبارہ منتخب ہونے کیلئےانہوں نے چین سے مدد طلب کی ہے۔ بولٹن کا الزام ہے کہ ٹرمپ کے سر پر دوبارہ صدر منتخب ہونے کاایسا جنون سوار ہے اور وہ اپنی ہر پالیسی اسی بات کومدنظر رکھ کر بناتے ہیں۔ بولٹن نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پچھلے سال جاپان کے اوساکا میں جی ۔ ۲۰چوٹی کانفرنس کے موقع پر ٹرمپ کی اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے علاحدگی میں بات کی تھی۔ ٹرمپ نے مجوزہ صدارتی الیکشن کی بات چھیڑ دی اورچین کے عظیم معاشی طاقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے در خواست کی کہ وہ ان کی دوسری بار فتح یابی کو یقینی بنائیں۔ چینی صدر جب ان کا مدعا نہ سمجھ پائے تو ٹرمپ نے وضاحت کی کہ چین اگر بھاری مقدار میں امریکی زرعی پیداوار خصوصاً گندم اور سویا بین کی خریداری کرتا ہے تو اس سے امریکی کاشت کاروں کو کافی فائدہ ہوگا۔ امریکی کاشت کاروں کی حیثیت ایک مضبوط ووٹ بینک کی ہے اور ۲۰۱۶ء  کے الیکشن میں ٹرمپ کی فتح یابی میں ان کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ٹرمپ نے چین کی مدد کی خاطر جن پنگ کو یہاں تک کہہ دیا  کہ چینی حکومت ایغور مسلمانوں پر ظلم کرنے میں حق بجانب ہے۔
  بولٹن کے مطابق ٹرمپ ایک جھوٹے، کرپٹ، متلون مزاج، بد دماغ اور غیر ذمہ دار شخص ہیں جو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اپنے ملک کے قومی مفاد بلکہ سلامتی تک سے سمجھوتہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں۔کورونا  نے امریکہ پر سب سے زیادہ قہر ڈھایا ہے۔ امریکہ میں ۲۵؍ لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں اور اس معتدی وبا سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ کورونا سے نمٹنے میں امریکہ کی بے بسی نے اس کے دنیا کے واحد سپر پاور ہونے اور ٹرمپ کے سپر مین ہونے کے غرور کو خاک میں ملادیا ہے۔
  ٹرمپ چودہ جون کو ۷۴؍ سال کے ہوگئے اور سالگرہ کے ایک دن قبل وہ ویسٹ پوائنٹ میں ملٹری اکادمی کے کیڈٹس سے خطاب کررہے تھے۔ بولتے بولتے ان کا گلا خشک ہوگیا تو انہوں نے پانی کا گلاس اٹھا لیا لیکن وہ اسے اپنے ہونٹوں تک نہیں لے جاسکے شاید ان کا داہنا ہاتھ اور اوپر نہیں اٹھ سکا۔ انہوں نے پھر دونوں ہاتھوں سے گلاس پکڑ کر اپنی پیاس بجھائی۔ تقریر ختم کرکے جب وہ اسٹیج سے نیچے اترے تو رک رک کر قدم بڑھا رہے تھے۔ انہیں نارمل طریقے  سےچلنے میں پریشانی ہورہی تھی۔پورے ملک میں یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ صدر بیمار ہیں۔ ماہر نفسیات جان ڈین جو وہائٹ ہاؤس میں کبھی رچرڈ نکسن کے معالج تھے، کا خیال ہے کہ ویسٹ پوائنٹ میں ٹرمپ کی تقریر اور ان کے حرکات و سکنات سے یہ صاف ظاہر ہورہاتھا کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر بیمار ہوچکے ہیں۔
 ٹرمپ کی درج بالا پریشانیاں کیا کچھ کم تھیں کہ متعدد اوپینین پول کے نتائج سے ظاہر ہورہا ہے کہ ٹرمپ تیزی سے اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں اور ان کے ڈیموکریٹ حریف جو بائیڈن کو ٹرمپ  پربھاری سبقت حاصل ہورہی ہے۔ ٹرمپ کی فکر اسلئے اور بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ  ان ریاستوں میں بھی جو ریپبلیکن پارٹی کا گڑھ مانی جاتی تھیں اور جہاں انہیں پچھلی بار بھاری کامیابی ملی تھی،شکست ان کی منتظر نظر آرہی ہے۔تاہم الیکشن ساڑھے چار ماہ بعد نومبر میں ہونے والے ہیں اور سیاست میں ایک ہفتہ ایک طویل مدت ہوتا ہے۔ جمی کارٹر اور جارج ایچ ڈبلیو بش وہ دو آخری بدقسمت امریکی صدورتھے جنہیں عوام نے دوسری بار وہائٹ ہاؤس میں داخلے کا پروانہ نہیں دیا۔ یہ آنے والا وقت  بتائے گا کہ کیا ٹرمپ کا نام اس فہرست میں شامل ہونے والا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK