Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیشنلزم کے دو روپ

Updated: March 06, 2020, 9:35 AM IST | Shamim Tariq | Mumbai

مسلمان اپنے عقیدہ کا تحفظ اور اس کی اشاعت کرنے کے باوجود جس ملک میں  رہتا ہے اس کا وفادار اور اس ملک کے دفاع اور ترقی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ آر ایس ایس اگر اس حقیقت کو تسلیم کرلے کہ ہندوستانی ثقافت پر اپنے عقیدہ و مذہب کو قربان کرنے سے مسلمانوں کا انکار ملک کی ثقافتی رنگا رنگی میں  اضافہ ہے غداری نہیں تو کئی جھگڑے ختم ہوجائیں۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک ہفتہ پہلے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے رانچی میں کہا کہ ہمیں ’’ راشٹر واد ‘‘ لفظ کے استعمال سے بچنا چاہئے ہاں ’’ راشٹر ‘‘ ، ’’راشٹریہ ‘‘ اور ’’ راشٹریتا ‘‘ جیسے لفظوں کا استعمال کرسکتے ہیں ۔ راشٹر واد کیلئے انگریزی میں ’نیشنلزم‘ اور اردو میں ’’ قوم پرستی ‘‘ اور ’’قوم پروری ‘‘ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔ قومیت کے مفہوم کے سلسلے میں ڈاکٹر اقبال اور مولانا حسین احمد مدنی میں  طویل بحث ہوچکی ہے۔ اقبال کی ایک نظم بھی ہے جس کا عنوان ’’ وطنیت ‘‘ ہے۔ اس نظم اور ایک اور نظم ’’ ترانۂ ملی ‘‘ کی بنیاد پر اقبال پر الزامات بھی عائد کئے جاتے رہے ہیں حالانکہ انہوں نے واضح کردیا تھا کہ وہ وطن کو بحیثیت سیاسی تصور پیش اور قبول کئے جانے کے مخالف ہیں ۔
 ’’ وطنیت ‘‘ یا نیشنلزم سے ایک تو وہ جذبہ مراد ہے جو اس خطۂ ارض سے محبت کرنا سکھاتا اور اس کی حفاظت و ترقی کیلئے جینے اور مرنے پر آمادہ کرتا یا تحریک دلاتا ہے جہاں وہ پیدا ہوتا اور پرورش پاتا ہے۔ یہ ایک فطری جذبہ ہے۔ اقبال نے بھی ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ کہہ کر اسی جذبے کا اظہار کیا ہے۔ ہونا بھی یہی چاہئے تھا کہ جو شخص اس دھرتی اور اس کے باشندوں سے محبت نہیں  کرتا جہاں  وہ پیدا ہوا ہے یا اپنے ملک کے دفاع سے غفلت برتتا ہے یا وطن کو نقصان پہنچانے والوں سے جا ملتا ہے تو وہ شخص قابل مذمت ہے ہاں  وطن سے محبت کرنے والے شخص کو وطن کی پرستش کرنے یا ایسے الفاظ کو استعمال کرنے پر مجبور نہیں  کیا جاسکتا جن سے وطن کی محبت کے بجائے وطن کی پرستش کا گمان ہوتا ہو۔ اس لئے قوم پرستی، وطن پرستی، قوم پروری جیسی تراکیب کے استعمال سے بعض لوگ گریز کرتے ہیں مگر حب وطن، وطن دوستی، قومی حمیت جیسی تراکیب کے استعمال سے کسی کو گریز نہیں ہے۔ وطن یا جائے پیدائش سے محبت کا احساس وطن میں  رہنے والوں کا مشترکہ احساس ہے سب اپنے وطن پر مر مٹنے کیلئے تیار ہیں ۔ ہاں  اس کے اظہار کے طریقے مختلف ہیں ۔
 وطنیت یا نیشنلزم سے وہ سیاسی تصور یا اصطلاح بھی مراد ہے جس میں  انسان کی ہر قسم کی وابستگی کا مرکز وطن کو قرار دیا گیا ہے یعنی وفاداری کے نام پر ایک طرح سے پرستش کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ وطنیت کے اسی مفہوم نے ہٹلر اور مسولینی کو انسانوں کے قتل عام پر اکسایا تھا۔
 آر ایس ایس نے اس تصور کو مذہب کی بنیاد پر نہیں ’’ ثقافت ‘‘ کے نام پر مسترد کیا ہے۔ یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود کو ’’ ہندو راشٹر وادی ‘‘ کہتے نہیں تھکتے۔ مگر ان کی ذہنی تربیت جس تنظیم میں  ہوئی ہے وہ تنظیم خود کو ثقافتی تنظیم کہتی ہے اور آج بھی وہ اسی پر اصرار کرتی ہے۔ اس کے نزدیک قومیت یا وطنیت کا تصور بھی سیاست اور ثقافت کے اجتماع پر مبنی ہے۔ اس کی بنیادی سوچ یہ ہے کہ ہندوستانی ثقافت کو حکمرانوں نے نہیں بلکہ رشیوں منیوں نے پروان چڑھایا ہے جو غلط بھی نہیں  ہے مگر اس کے دوسرے عوامل بھی ہیں ۔
 نیشنلزم یا راشٹر واد کا تصور اس بنیاد یا دلیل پر قائم ہے کہ ایک شخص کی تمام وفاداریاں ملک کیلئے ہوں یعنی نیشنلزم خدا، مذہب اور دوسرے ملکوں کو اپنی مرضی پر چلانے کیلئے ان پر جنگ مسلط کرنے اور عوام کا قتل عام کرنے کا رجحان پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے مغربی ملکوں  میں اس لفظ کو ہٹلر اور مسولینی کی آمریت اور انسان کشی کے اقدامات کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے۔ موہن بھاگوت جب لندن گئے اور وہاں ان کی ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی جو وسیع تر روایت کے حامل تھے تو انہیں احساس ہوا کہ اس لفظ سے اس تصور حیات تو کیا اس تصور وطنیت کی بھی ترجمانی نہیں ہوتی جو آر ایس ایس عام کرنا چاہتی ہے۔ پچھلے سال راجدھانی دہلی میں  ’’ نارد جینتی ‘‘ کا انعقاد ہوا تھا۔ یہاں  بھی آر ایس ایس کے ایک بڑے لیڈر منموہن ویدیہ نے کہا تھا کہ ہندوستان میں  راشٹرواد کبھی رہا ہی نہیں  ہے۔ یہ تصور مغربی ملکوں سے مستعار لیا گیا ہے۔ اقبال اور موہن بھاگوت یا منموہن ویدیہ کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اقبال نے وطن یا وطنیت کے یورپ سے درآمد کئے ہوئے تصور کو مسترد کرکے جس تصور وطنیت کی تبلیغ کی تھی اس کی بنیاد اگرچہ عقیدئہ مذہب پر رکھی ہوئی ہے مگر اس معنی میں  حقیقی ہے اس سے جارحیت پر لگام لگی ہے اور اب آر ایس ایس ’’ راشٹر واد ‘‘ سے بچنے کا پیغام دے کر جس تصور وطنیت کو فروغ دینا چاہتا ہے اس کی بنیاد اس ثقافت پر رکھی ہوئی ہے جو ایک خاص عقیدہ اور ایک خاص طرزِ زندگی کا پرتو ہے اور جس میں  اپنے شہریوں میں بھی اپنے پرائے کی تفریق کی جاتی ہے۔
 آر ایس ایس کے نئے پرانے سبھی سربراہ بار بار یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ہر شخص کو اپنی عبادت اپنے طور پر کرنے کا حق ہے مگر ثقافت یا ثقافتی قومیت کیلئے وہ جس طرزِ زندگی یا تصور حیات پر اصرار کرتے ہیں  ان کو اپنا کر ایک مسلمان مسلمان رہ ہی نہیں سکتا۔ اس لئے بعض اعمال و اقوال سے اس کا انکار ضروری ہے اس انکار کو ملک سے غداری پر محمول نہیں  کیا جاسکتا۔ مسلمان اپنے عقیدہ کا تحفظ اور اس کی اشاعت کرنے کے باوجود جس ملک میں  رہتا ہے اس کا وفادار اور اس ملک کے دفاع اور ترقی کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ آر ایس ایس اگر اس حقیقت کو تسلیم کرلے کہ ہندوستانی ثقافت پر اپنے عقیدہ و مذہب کو قربان کرنے سے مسلمانوں کا انکار ملک کی ثقافتی رنگا رنگی میں  اضافہ ہے غداری نہیں تو کئی جھگڑے ختم ہوجائیں ۔ راشٹر واد یا نیشنلزم کے ایک خاص تصور سے بچنے کی تلقین کرنے میں  اس کو تقریباً ۱۰۰؍ سال لگ گئے امید ہے یہ حقیقت وہ جلد ہی سمجھ لے گی۔ مسلمانوں کو ملک کے دفاع میں  جان قربان کرنے یا اس کے ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بننے سے کبھی انکار نہیں  رہا ہے۔ اقبال نے جو باتیں اپنی نظم میں لکھی ہیں وہ اسی صورت میں مؤثر ہوسکتی ہیں جب قابل عمل ہوں ۔ کیا دین مصطفوی کا دم بھرنے والے متعدد ملکوں  کے وجود اور ان کی باہمی کشمکش سے قومیت اسلام کی جڑ نہیں کٹ رہی ہے؟ اور کیا قیامِ پاکستان یا قیامِ بنگلہ دیش کے ساتھ برصغیر کے تمام مسلمانوں  کے مسائل حل ہوگئے؟ نظریاتی بنیاد پر قائم مملکتوں کا برا حال ہے۔ ہندوستان جیسے ملکوں میں  جہاں نہ صرف کئی مذاہب اور کئی تہذیبوں  کے ماننے والے لوگ موجود ہیں بلکہ ایک ہی مذہب اور ایک ہی تہذیب کے بھی کئی مظاہر موجود ہیں یکسانیت پر کیسے اصرار کیا جاسکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ نیشنلزم یعنی قوم پرستی کی کسی خاص شکل پر اصرار کئے بغیر وطن دوستی اور حب وطن پر اصرار کیا جائے۔ وطن دوستی یا ’پیٹرواِزم‘ کا یہی مطلب ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK