یوکرین، قزاخستان ....اور روس

Updated: January 11, 2022, 1:33 PM IST

روس کا دُنیا کے یک قطبی ہوجانے پر معترض ہونا اور اس کی مخالفت کرنا غلط نہیں مگر اپنی برتری مستحکم کرنے کیلئے توسیع پسندانہ عزائم کو بروئے کار لانا بھی ٹھیک نہیں ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

روس کا دُنیا کے یک قطبی ہوجانے پر معترض ہونا اور اس کی مخالفت کرنا غلط نہیں مگر اپنی برتری مستحکم کرنے کیلئے توسیع پسندانہ عزائم کو بروئے کار لانا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ دُنیا کا ہر وہ ملک جو اپنا انتظام و انصرام خود سنبھال سکتا ہے اس کے اُمور میں مداخلت درست نہیں تاوقتیکہ وہ خود مدد کی اپیل کرے ۔ اگر وہ اپنا نظام ٹھیک طریقہ سے سنبھال نہ پائے اور کسی سے مدد کی درخواست بھی نہ کرے تب بھی کسی دوسرے ملک کو دخل در معقولات کا اختیار نہیں۔ اُس کے معاملات پر غور کرنا اور مناسب حکمت عملی کو بروئے کار لانا اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ روس، سوویت یونین کے انتشار کے پہلے تک بڑی عالمی طاقت کے طور پر مشہور اور مستحکم تھا مگر ۱۹۹۰ء کی دہائی میں جب سوویت یونین متعدد جمہوریاؤں میں تبدیل ہوگیا تو روس بھی متزلزل ہوا۔ امریکہ واحد سپرپاور کے طور پر خود کو منوانے لگا۔ اس دوران روس خاموش تھا۔ مگر اس نے دھیرے دھیرے اپنے آپ کو نئے سرے سے مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اسے امریکہ سے دوستی میں اپنا مفاد دکھائی دیا سو اس نے سرد جنگ کو فراموش کرکے امریکہ سے رسہ کشی ختم کردی یا یوں کہہ لیں کہ دوستی کرلی ۔  سرد جنگ قصہ پارینہ ہوچکی تھی مگر ایسا لگتا ہے کہ کمانیں پھر کھنچ رہی ہیں۔ یوکرین اور قزاخستان کے حالات مجبور کر رہے ہیں کہ ان دو ملکوں کے انتشار کو اسی پس منظر میں دیکھا جائے۔ کل سے جنیوا میں شروع ہوئے مذاکرات پر پوری دُنیا کی نگاہیں مرکوز ہیں کہ ان کے نتیجے میں امریکہ اور روس کے مابین کیا طے پاتا ہے مگر حالات اس بات کی غمازی کررہے ہیں کہ روس اُن ریاستوں اور جمہوریاؤں پر جو سوویت یونین کا حصہ تھیں، ازسرنو اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے، روس کے توسیع پسندانہ عزائم یوکرین اور قزاخستان کی شورش اور اس کے نتیجے میں روس کی فوجی تیاری کسی سے مخفی نہیں ہے۔ ۱۹۹۶ء میں وزیر خارجہ بنائے گئے یوگنی پریماکوف کی وضع کردہ خارجہ پالیسی، جسے ’’پریمانکوف ضابطہ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ روس، امریکہ کے مرتب کردہ خطوط کو نقش راہ نہیں مانے گابلکہ عالمی نقشے پر خود کو ایک آزاد مرکز کی حیثیت سے اُبھارنے اور منوانے کی جدوجہد کرے گا تاکہ یک قطبی دُنیا کے امریکی لائحہ عمل کے مقابلے میں کثیر قطبی دُنیا کی تشکیل و تعمیر کیلئے اپنی خدمات پیش کرے۔ اکتوبر ۲۰۱۴ء میں یوگنی پریماکوف کے جانشین سرگی لاروف نے بھی اسی پالیسی پر صاد کیا تھا۔ انہوں نے پریماکوف کی بابت کہا تھا کہ جب انہوں نے وزارت خارجہ سنبھالی، تب ہی روسی خارجہ پالیسی کے ڈرامائی احیاء کا آغاز ہوا تھا جس کے نتیجے میں روس نے اُس راستے کو ترک کردیا جس پر اُسے سوویت یونین کے انتشار کے بعد ڈال دیا گیا تھا۔ اگر روس چاہتا ہے کہ سابقہ ریاستوں کو جوڑ کر ’’نیا سوویت یونین‘‘ تشکیل دے اور ایسا کرنے میں اس کے عزائم مخلصانہ ہوں تو شاید یہ عمل مبنی برانصاف قرار پائے مگر اس کیلئے اُسے دیگر ریاستوں کے عوام اور ان کی حکومتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا اور اسے ’وفاق‘ کی شکل دینی ہوگی۔ یہ کام مشکل بھی ہے اور وقت طلب بھی۔ ہمارے خیال میں پوتن کے ذہن میں اتنا جامع، منظم اور متحدہ کوششوں کے ذریعہ مشترکہ مفاد کا خاکہ نہیں ہے۔ کم از کم یوکرین اور قزاخستان کے حالات سے یہی تاثر ملتا ہے۔ اعتماد سازی الگ چیز ہے اور توسیع پسندی الگ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK