یوپی اور انتخابی تیاریاں

Updated: December 01, 2021, 3:57 PM IST

یوپی اسمبلی انتخابات کا ہنوز اعلان نہیں ہوا ہے۔ جب ہوگا تب صرف یوپی کا نہیں ہوگا، دیگر چار ریاستیں بھی ساتھ رہیں گی، اسکے باوجود بڑی تیزی کے ساتھ ’’یوپی چناؤ‘‘ روزمرہ کی خبروں میں اہمیت کے ساتھ جگہ پانے لگا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

یوپی اسمبلی انتخابات کا ہنوز اعلان نہیں ہوا ہے۔ جب ہوگا تب صرف یوپی کا نہیں ہوگا، دیگر چار ریاستیں بھی ساتھ رہیں گی،  اسکے باوجود بڑی تیزی کے ساتھ ’’یوپی چناؤ‘‘ روزمرہ کی خبروں میں اہمیت کے ساتھ جگہ پانے لگا ہے۔ بی جے پی، جس کیلئے حالات ویسے نہیں ہیں جیسے کہ ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۹ء میں، یا ۲۰۱۷ء کے ریاستی الیکشن کے وقت تھے مگر یہ پارٹی پورے لاؤ لشکر کے ساتھ یوپی کو ازسرنو فتح کرنے کے تانے بانے بن رہی ہے۔ وزیر اعظم، اب تک کئی دورے کرچکے ہیں۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں مثلاً راج ناتھ سنگھ، اَمیت شاہ اور جے پی نڈا کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جبکہ دھرمیندر پردھان اور رادھا موہن سنگھ جیسے کئی دیگر لیڈران بھی خاصے سرگرم ہیں۔ کوشش کی جارہی ہے کہ اقتدار محفوظ رہے اور کسی بھی صورت میں ہاتھ سے کھسکنے نہ پائے۔ 
 ریاست میں بی جے پی کی سب سے بڑی مدمقابل سماج وادی پارٹی اس الیکشن کو اقتدار میں واپسی کے بہترین موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے کیونکہ اس میں ’’اینٹی اِن کم بینسی فیکٹر‘‘ بھی متحرک رہے گا، کورونا کی دوسری لہر میں یوگی حکومت کی انتہائی ناقص کارکردگی بھی رائے دہندگان کے پیش نظر رہے گی، نئے روزگار کا بحران بھی اکھلیش کی پارٹی کے امکانات کو روشن کرسکتا ہے اور مہنگائی کے خلاف ناراضگی بھی  ووٹوں کی منتقلی میں اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ اکھلیش کی انتخابی حکمت عملی، کہ بڑی یا قومی سیاسی جماعتوں سے دور رہا جائے اور چھوٹی علاقائی پارٹیوں سے اتحاد کیا جائے، اُنہیں فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ وہ اب تک جن پارٹیوں سے اتحاد کرچکے ہیں یا اتحاد کا ڈول ڈال چکے ہیں اُن میں اوم پرکاش راج بھر کی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی، جینت چودھری کی آر ایل ڈی اور ڈاکٹر سنجے سنگھ کی جن وادی پارٹی شامل ہیں۔ اکھلیش، کیجریوال کی عام آدمی پارٹی، رگھو پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا کی جن ستادل اور کرشنا پٹیل کی اپنا دل سے بھی اتحاد کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ یہ اچھی کوششیں ہیں جن سے ایس پی کی طاقت یقیناً بڑھے گی۔ 
 تیسری جانب بی ایس پی ہے جس کا ووٹ بینک کبھی ٹس سے مس نہیں ہوا مگر اس بار پارٹی میں، جو کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد نہ کرنے کا اعلان کرچکی ہے، پہلے جیسی تیزی ہے نہ پارٹی سربراہ مایاوتی کے وہ تیور ہیں جن سے ظاہر ہو کہ وہ پورے عزم و ارادہ کے ساتھ یوپی اسمبلی کا اپنا حصہ کھونا نہیں چاہتیں۔ چوتھی طرف کانگریس ہے جو پرینکا گاندھی واڈرا کی قیادت میں اپنے ہونے کا ثبوت تو دے رہی ہے مگر تنظیمی ڈھانچہ مخدوش ہونے کے سبب ان کے جارحانہ تیوروں سے کتنا انتخابی فائدہ کشید کیا جاسکے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ انتخابی میدان میں اور بھی کئی پارٹیاں ہیں مگر اُن کی زمین پختہ نہیں ہے، انہوں نے بہت زور مارا تب بھی چند ایک سیٹوں کے علاوہ انہیں کچھ حاصل نہیں ہوسکےگا۔  اس طرح، یوپی میں چہار رُخی مقابلہ ہوگا۔ یہ ممکن تو نہیں تھا مگر ممکن بنایا جاسکتا تھا کہ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس اپنی متحدہ طاقت کو بروئے کار لاتے اور ایک مضبوط سیکولر محاذ تشکیل پاتا۔ ایسا نہیں ہوا مگر سماج وادی پارٹی کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بالخصوص ’’اے بی پی ۔سی ووٹر‘‘ کے تازہ سروے کی روشنی میں کہ ۴۸؍ فیصد لوگ ناراض ہیں اور حکومت بدلنا چاہتے ہیں، ۲۷؍ فیصد ناراض ہیں مگر حکومت بدلنا نہیں چاہتے اور ۲۴؍ فیصد نہ تو ناراض ہیں نہ ہی حکومت بدلنا چاہتے ہیں۔ تین میں سے دو زمروں میں عوام کی ناراضگی قدر مشترک ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK