ہمیں ہر سطح پر فکر و شعار میں تبدیلی لا نے کی ضرورت ہے

Updated: July 19, 2020, 11:53 AM IST | Mubarak Kapdi

کورونا کی تالہ بندی کی آڑ میں سیاستداں حرکت میںآگئے ہیں۔ طبی سائنس میں ہماری کوتاہیاں جگ ظاہر ہیں۔ ایسے میں مثبت فکر اور نتیجہ خیز اقدامات کیلئے ہمارے نوجوانوں کی ذہن سازی کا آغاز ہمارے گھروں سے ہونا چاہئے

Health Worker - Pic : PTI
ہیلتھ ورکر ۔ تصویر : پی ٹی آئی

وبا کا موسم طاری ہے۔ ہر چیز مہنگی ہے سوائے موت کے۔ الامان الحفیظ ، اب جبکہ اس وبا کا کوئی علاج نہیں ہے تو احتیاط واحد علاج ہے مگر آج یہاں ایک انتشار ہے، خلفشار ہے جس نے اس ملک کو اپنی حصار میں لے رکھا ہے۔ معاشرے کی جہالت ، محتاجی، بے کسی و بے بسی حکمرانوں کی منشا کے عین مطابق ہے۔ انھوںنے عوام پر اپنا جال پھینکا ہے کہ۸۰؍کروڑ بھوکوں کو ہر ماہ پانچ کلو چاول (یعنی روزانہ تین نوالے) اور ایک کلو چنا (یعنی روزانہ چنے کے ۷؍ دانے )کھلانے والے ہیں۔ اس سفّاکی اور استحصال کی شکایت کس سے کریںکیونکہ ملک کے منصفین نے اپنے ضمیر کی قیمت لگاکر انصاف کے نظام کو مفلس، درماندہ اور کھوکھلا بناکر رکھ دیاہے۔ مرتّبین نصاب تعلیم (حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو،ان میں سے بیشترسنگھ پریواری ہی ہوتے ہیں) نے بڑی چالاکی سے اسکولی نصاب کے شہریت کے مضمون کو سیاسی سائنس میں تبدیل کردیا ہے تاکہ ۱۸؍ سے ۲۵؍سال عمر کے ووٹرس جو تیس کروڑ سے زائد ہیں ، اپنے امتحانات اور کریئر کے منصوبوں میںمصروف رہتے ہیں، اُن کے ووٹوں کو اُچک لیا جائے تو وہ ہر بار اپنی پسند کی حکومت بنا سکتے ہیں۔ 
 ۱۸؍تا ۲۵؍سال کے نوجوانان آج بے حد دُکھی ہیں کہ جمہوری نظام نے انھیں جو ۱۸؍سال کی عمر ہی میں ووٹ کے حق کا تحفہ دیا ہے، اُسے وہ کیسے استعمال کریں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اسمبلی الیکشن سے ایم ایل اے بننے کیلئے کم از کم پانچ کروڑ روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔ پھر اُس ایم ایل اے کو اپوزیشن پارٹی والے ۲۵؍کروڑ کی رشوت دیتے ہیں کہ دَل بدلی یا استعفیٰ دے کر حکومت کو گِرا دو یا سیاست سے رِٹائر ہوجائو، وہ سوچتا ہے سَودا بُرا نہیں ہے۔ پھر آج کے نوجوان تو ہنس ہنس کر بے دم ہوجاتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کے پاسبان اُن منتخب عوامی نمائندوں سے موبائل وغیرہ چھین کر بائونسرس کا خوف دلاکر اُنھیں کسی انجانی جگہ پر قید کردیتے ہیں۔ اس قید میںبھی اُنھیں دھمکی والے پیغامات ملتے رہتے ہیں کہ اُن کی ساری کالی دولت کا کچا چٹّھا اُن کے پاس ہے، ای ڈی ، آئی ٹی حتّیٰ کہ این آئی اے کے ذریعے اُنھیںجیل یاترا کرنی پڑسکتی ہے، اسلئے شرافت سے وہ ریاستی حکومت کو گِرانے میں مدد کریں۔ ہمارے کالج کے طلبہ سوچتے ہیں کہ اگر جمہوریت کا یہ حال ہے تب تو وہ سیاست کو کریئر بنانے کاسوچ بھی نہیں سکتے اور پھر وہ یہ سوچتے ہیں کہ آج کل تو صرف ’پرچارک بننے‘  کا کریئر ہی سب سے اچھا کریئر ہے کیونکہ آج پرچارک ہی منسٹر، گورنر، مکھیہ منتری، جج، راشٹر پتی اور پردھان منتری بن سکتے ہیں۔ نوجوان اگر بیدار اور متحد ہوکر میدان میں اُترتے ہیں تو منظر نامہ بدل بھی سکتا ہے کیونکہ یہ دیکھنا بہر حال اُن کی ذمہ داری ہے کہ اس ملک میں فرقہ پرستی کا وائرس پھیلنے نہ پائے اور نہ ہی نفرت کا ٹِڈی دَل اِس ملک پر نازل ہو!
 آج ملک میں اس وبائی دَور میںحکمراں جماعت کو صرف سیاست سوجھ رہی ہے۔ کیا اس ملک کے سارے دانشور بے زبان ہوگئے ہیں کہ وہ ان برسرِ اقتدار سیاست دانوں سے یہ پوچھیں کہ اتنی بڑی وبا کے پھیلائو کو روکنے میں مکمل ناکامی پر بھی وہ میڈیکل سہولتوں پر ذرّہ برابر بھی سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ جس دن اس ملک میں کورونا کے صرف ۵۰۰؍مریض تھے تب اس ملک کے سربراہ نے سبھوں کو راستے پر اُتر کر تالی اور تھالی بجانے کا حکم دیا تھا۔ اب مریضوں کی تعداد ۹؍لاکھ کے اوپر ہوچکی ہے۔ اب اُن کا کیا حکم ہے ، ڈھول بجائیںیا ڈی جے ؟
 آج ہمارے ذمہ داروں کو اربابِ حکومت سے یہ دریافت کرنے کی جرأت کرنی ہے کہ اِس ملک میں لاکھوں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، اس کیلئے اُن کے پاس کیا ماسٹر پلان تیار ہے؟ اس ملک کے یہ اعداد و شمار دِل دہلانے والے ہیں کہ آج ۱۲؍منٹ میں ایک ماں زچگی کے وقت دم توڑ تی ہے۔ تین لاکھ بچّے جس روز پیدا ہوتے ہیں، اُسی روز فوت ہوجاتے ہیں۔ ملک میں ہر سال ۱۲؍لاکھ بچّے اپنی پہلی سالگرہ سے قبل گزر جاتے ہیں ۔ ہر سال ۵۲؍لاکھ خواتین کی سیزر ئین کے ذریعے زچکی ہوتی ہے جس کیلئے کم از کم ۲؍لاکھ گائناکولوجسٹ کی ضرورت ہے، جبکہ ابھی یہ تعداد صرف ۴۰؍ہزار ہے۔ بچّوں کے ڈاکٹر کم از کم۲؍ لاکھ چاہئے اور آج ۲۵؍ہزار سے کم ڈاکٹر اس ملک میں موجود ہیں۔ آج ملک بھر میں دل کے صرف ۴؍ہزار ڈاکٹر ہیں جبکہ ۸۸؍ہزار کی ضرورت ہے ، وجہ یہ ہے کہ کارڈیالوجسٹ کے پوسٹ گریجویشن میں صرف ۳۱۵؍ سیٹیں دستیاب ہیں، جبکہ ہر سال ۳۳۷۵؍مزید سیٹوں کی سخت ضرورت ہے۔ اینڈوکرائنا لوجی میں آج یہاں صرف ۶۵۰؍ماہر ڈاکٹر ہیںجبکہ ۲۸؍ہزار کی ضرورت ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو اگر یہ کہا جائے کہ وہ ایم بی بی ایس کی فی سیٹ ایک کروڑ اور پی جی کی فی سیٹ پانچ کروڑ کے حساب سے قائم کرنے کیلئے میڈیکل کالج کھولیں، تب تو وہ میدان میںاُترجائیں گے۔ اسی رویّے اور پالیسیوں کی بنا پر آج ہمارے ملک میں ڈاکٹر بننا صرف امیروں اور سرمایہ داروں کا حق بنتا جارہا ہے کہ وہ پانچ کروڑ کی سرمایہ کاری کرکے دس بیس کروڑ کی کوئی سرجری یا میڈیسن کی دکان کھول لیں جبکہ ہمارا اب تک کا سارا تجربہ وہ مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ غریبی کے پس منظر سے آنے والے طلبہ زیادہ اچھے، محنتی اورکمیٹیڈ ڈاکٹر ثابت ہو رہے ہیں۔ دراصل اُن کے پیٹ کی غریبی کی آگ اُن کیلئے کامیابی کا ایندھن بن جاتی ہے۔ 
 ’زندگی کورونا کے بعد‘کی سریز میں ہر بار ہمارے سماج میں پنپنے والی کسی معاشرتی بیماری اور اس کے علاج پر گفتگو کر رہے ہیں۔ آج ہی سے ملک بھرکے مختلف امتحانی بورڈ کے دسویں /بارہویں کے نتائج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ برسہابرس سے وطیرہ یا روش رچ بس سی گئی ہے کہ جب بھی کبھی کسی امتحان کا نتیجہ آنے والا ہوتا ہے اُس کے دوسرے دن کے اخبارات کی سرخیاں کچھ ایسی ہوں گی ’ لڑکیوںنے پھر بازی ماری‘، ’ہر اسٹریم میں لڑکیاں آگے‘ وغیرہ ۔ دسویں /بارہویں تک تو یہی سرخیاں چھائی رہتی ہیں۔ پھر اس کے بعد؟ پتہ نہیں رفتہ رفتہ وہ لڑکیاں کہاں غائب ہوجاتی ہیں؟ چند ایک گھر وں میںانھیں اعلیٰ تعلیم کیلئے تحریک بھی دی جاتی ہے البتہ اکثر مرتبہ فوراً شادی کرانے ہی میں عافیت سمجھی جاتی ہے۔ ذہین ، فطین اور محنتی بیٹیوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ دراصل ہمارے یہاں اعلیٰ تعلیم کا مصرف صرف نوکری ، ملازمت ا ور کمائی ہی سمجھا جاتا ہے۔ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اعلیٰ تعلیم سے انسانی ذہن کے کتنے دروازے وا ہوجاتے ہیں، ذہنی سکون ملتا ہے، خود اعتمادی میں اضافہ، عزت نفس کو تقویت اور زندگی و زمانے سے مقابلہ کی ہمت و حوصلہ حاصل ہوتا ہے۔ ماں کے علم ، تعلیم، بصیرت، زندگی کوپرکھنے و برتنے کے تحمل و برد باری کی روشنی ہی میں تو نئی نسل اپنی منزل کی جانب رواںدواں ہوجاتی ہے۔
 آج کیا ہورہا ہے؟ بے جوڑ رشتوں کی بھٹّی ہمارے یہاں تپ رہی ہے، کلاس میں فرسٹ آنے والی انتہائی ذہین،   ذمہ دار ، اُصول پسند، خوش اخلاق، خوش فکر، گلاب کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار کردار کی مالک لڑکی کو شادی کا پیغام جاتا ہے اُسی کلاس میں آخری  بنچ پر بیٹھنے والے انتہائی غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ لڑکے کے گھر سے۔ لڑکی کے گھر والے رشتہ قبول کرتے ہیں کہ کسی خلیجی ملک میں ڈرائیور کی پکّی نوکری تو ہے اُس کے پاس۔ شادی کا پیغام بھیجنے سے قبل لڑکے کے گھر پر سارے رشتہ داروں کی ایک طویل میٹنگ ہوتی ہے کہ لڑکا لااُبالی ، غیر ذمہ دار اور ہاتھ سے نکل چکا ہے اب اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اُس کی شادی کردو۔ لڑکی کو بھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ ایک بگڑی ہوئی گاڑی کے میکینک کے طور پر اُس کا تقرر ہورہا ہے۔پھر وہ آخری بنچ پر بیٹھنے والا لڑکا کلاس میں فرسٹ آنے والی لڑکی کو سبق سکھانا شروع کردیتا ہے۔ اُس کے شعور و لاشعور میں ہر ہر منظر محفوظ ہے کہ کس طرح وہ لڑکی اُستاد کا سوال پورا ہونے سے پہلے ہی جواب دینے کیلئے ہاتھ اونچاکرتی تھی۔ ہر تقریری مقابلہ جیت کر آتی تھی۔ اُس کی بیاض مکمل ، اُس کا خط موتیوں جیسا۔ اب یہ لڑکا اُس سے وقت بے وقت چائے مانگتا ہے، اگر لڑکی کے ہاتھ میں کوئی کتا ب ہے، اُسے فوراً پھینک کر لڑکے کے رشتہ داروں کی خاطر مدارت کا حکم دیا جاتا ہے۔کھانے میں نمک زیادہ ہونے پر تھپّڑ اور میکے کے سارے افراد کو لعن طعن ! بیٹی رو رو کر اپنی بِپتا گھر میں سناتی ہے تو وہاں سے ایک ہی جواب آتا  ہے،برداشت کر بیٹی، صبر کر، اب یہاں بہوئیں بھی آچکی ہیں اور تم پڑھنا،لکھنا وہاں کیوں کرتی ہو، وہ تو تمہارے اسکول کے زمانے کے شوق تھے، وہاں تو تم کھانا پکانے گئی ہو۔ جب تمہارا شوہر کہتا ہے کہ اُسے تمہارا پڑھنا لکھنا پسند نہیں، تم کو فوراً اپنے شوہر کی بات ماننی چاہئے اور کتاب کو ہاتھ بھی نہیں لگانا چاہئے۔ کلاس میں اوّل آنے والی لڑکی، آخری بنچپر بیٹھے ہوئے لڑکے سے کب تک بیاہ رچاتی رہے گی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK