کس سے کہیں کیا چھن گیا، کیا رہ گیا

Updated: June 25, 2022, 11:02 AM IST | Shahid Lateef | Mumbai

جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیں اس میں ایک آندھی کے بعد دوسری آندھی چلتی ہے اس لئے بہت کچھ سنبھالا ممکن نہیں رہ گیا ہے۔ اس کے باوجود سماج کو فکر تو کرنی پڑے گی کہ جو باقی رہ گیا ہے وہ بچا رہے اور نئی نسل تک پہنچایا جاسکے۔ یہ فکر ہوگی تب ہی ہم اُسے کچھ دے پائینگے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

انسان کی زندگی اکہری نہیں ہوتی، متنوع ہوتی ہے۔ انسان کا تعلق معاش سے بھی ہوتا ہے ، اس کی ترجیحات میں سماجی روابط بھی ہوتے ہیں، روزمرہ کی سرگرمیوں میں بچوں کی پڑھائی لکھائی اور صحت بھی شامل رہتی ہے، بچوں کی بہتر نشوونما کے نقطۂ نظر سے اُن کیلئے کھیل کود کے مواقع بھی اہم ہوتے ہیں اور مذہب کا بھی خاصا عمل دخل رہتا ہے مگر ہندو ستانی سماج کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اِن تمام شعبوں پر سیاست حاوی رہتی ہے۔ آدمی معاش کی فکر بھی کرتا ہے اور اس کے سر میں یہ سودا بھی سمایا ہوا رہتا ہے کہ کہاں الیکشن ہورہا ہے اور اس میں کس کو برتری حاصل ہے۔ آدمی سماجی روابط کو بھی اہمیت دیتا ہے مگر اس بات سے غافل بھی نہیں رہنا چاہتا کہ کہاں کس کی ریلی ہورہی ہے، کس نے کس کی حمایت میں یا کس کے خلاف بیان دیا ہے، کہاں کس بات پر تنازع جاری ہے، کون ٹرول ہورہا ہے اور کیا ٹرینڈ کررہا ہے۔ہندوستانی سماج پر سیاست کل بھی حاوی تھی مگر اس قدر ہرگز نہیں تھی جس قدر آج ہے۔  ٹی وی کے سیکڑوں چینل، موبائل پر وقفے وقفے سے خبروں کے اشارے (اَلرٹ)، احباب سے فون پر ہونے والے گفتگو میں تازہ ترین خبروں پر تبادلۂ خیال، فارغ وقت میں یوٹیوب کے پسندیدہ چینلوں پر ہونے والی بحثیں، اِس طرح چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے وہ سیاست کو خود پر مسلط رکھتا ہے۔ سیاست چاہتی بھی یہی ہے کہ انسان اُسے صَرف (کنزیوم) کرتا رہے، اس سے روگردانی نہ کرے اور عدم دلچسپی کے مرض میں مبتلا نہ ہوجائے۔ اِس زاویئے سے سوچئے تو محسوس ہوگا کہ ہم سب، جس طرح بجلی یا نیٹ ورک کے صارف ہیں، بالکل اُسی طرح سیاست کے بھی صارف ہیں، فرق یہ ہے کہ بجلی یا نیٹ ورک کمپنی ’’صرف‘‘ (کنزمپشن) کی قیمت بہ شکل ِزر طلب کرتی ہے، سیاست کے قیمت وصول کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔ وقت کے ساتھ سیاست میں جھوٹ کی شمولیت ہوئی۔ اس کے بعد باقاعدہ پرورش ہونے لگی۔ جھوٹ پھلنے پھولنے لگا۔ پھر وہ وقت آیا کہ جھوٹ نے سفید جھوٹ کی شکل اختیار کرلی۔ اس کے بعد نوبت یہاں تک آگئی کہ جھوٹ ہی رہ گیا جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں۔  جب انسان اتنا جھوٹ سنتا ہے تو کسی نہ کسی سطح پر جھوٹ کو قبولیت بھی عطا کرنے لگتا ہے۔  سیاست اور بدعنوانی کا چولی دامن کا ساتھ ہوگیا ہے۔ بدعنوانی بھی ہر طرح کی۔ اخلاقی تعلیم بدعنوانی کو جرم اور گناہ قرار دیتی ہے۔ جو روپوں کی خرد بُرد اور رشوت ستانی میں ملوث ہے وہ بھی بدعنوانی کا مرتکب ہے، جو تقرریوں میں جانبداری برتتا ہے وہ بھی بدعنوانی کا مجرم ہے اور جو سفارش ، خوشامد، اقرباء پروری وغیرہ سے کام لیتا ہے وہ بھی بدعنوانی کو فروغ دینے کا مجرم ہے مگر سیاست نے بدعنوانی کو پہلے گوارا ہونے کی سند دی اور پھر ناگزیر قرار دے دیا۔اب یہ عالم ہے کہ ایک سیاسی جماعت اپنی بدعنوانی کا جواز دوسری سیاسی جماعت کی بدعنوانی میں تلاش کرتی ہے یا یہ سمجھاتی ہے کہ دوسروں کی بدعنوانی کے مقابلے میں اس کی بدعنوانی معمولی ہے۔  ہٹ دھرمی بھی سیاست کو مرغوب ہے۔ کسی وزارت سے کوئی غلطی ہوجائے یا غفلت کی وجہ سے کوئی نقصان ہوجائے تب بھی وزارت کے متعلقہ افسران کے خلاف چارہ جوئی نہیں ہوتی، اُن کا باقاعدہ دفاع کیا جاتا ہے اور ہٹ دھرمی کی بہترین مثال پیش کی جاتی ہے۔ افسران تو افسران، وزراء بھی کبھی اخلاقی بنیادوں پر استعفےٰ دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ اسی ملک میں ایک دور وہ بھی تھا جب اگست ۱۹۵۶ء میں محبوب نگر (آندھراپردیش) میں ایک ریلوے حادثہ ہوا تو مرارجی دیسائی نے حادثہ کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے، وزیر اعظم نہرو کو استعفےٰ روانہ کردیا تھا، یہ الگ بات کہ بعد میں نہرو نے اُنہیں استعفےٰ نہ دینے کیلئے ہموار کرلیا تھا۔ مگر، چند ماہ بعد (نومبر میں) جب دوسرا ریلوے حادثہ تمل ناڈو میں ہوا اور مرارجی دیسائی نے دوبارہ استعفیٰ دیا اور جواہر لال نہرو ایک بار پھر اسے قبول نہ کرنے پر قائم رہے تو مرارجی دیسائی نے بہت اصرار کیا اور استعفیٰ منظور کروا کر رہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب ’’نَیتِکتا‘‘ پر اتنی گفتگو نہیں ہوتی تھی جتنی آج ہوتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ اُس دور میں ’’نَیتِکتا‘‘ تھی اس لئے اُس کا حوالہ یا درس نہیں دیا جاتا تھا، اب نہیں ہے اس لئے اس کے حوالے اور درس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سیاست بہت تیزی سے بے حسی کی طرف بھی گامزن ہوئی ہے۔ اب سے پچاس سال پہلے وسائل کی کمی کے باوجود عوام کے جتنے کام ہوتے تھے اب نہیں ہوتے۔ اب سے پچیس سال پہلے تک بھی عوام کی جتنی فکر کی جاتی تھی اب نہیں کی جاتی۔ ہاں یہ تغیر ضرور آیا ہے کہ اب ’’جنتا جنتا‘‘ زیادہ پُکارا جاتا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جنتا ہی سب کچھ ہے۔  سیاست میں وفاداری بھی بے معنی ہو تی جارہی ہے۔ حالیہ برسوں میں بے وفائی جتنی عام ہوئی ہے اُس سے پہلے شاید نہیں تھی۔ لوگ آئے دن وفاداری تبدیل کرنے لگے ہیں۔ ایک پارٹی سے وابستہ ہونے، پرورش پانے، شہرت حاصل کرنے اور اہم مناصب تک پہنچنے کے بعد اُس سے علاحدگی اختیار کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ یہ عام روش ہے۔ پارٹی کے لیڈران بھی نہیں جانتے کہ کون کب کس جانب چلا جائے گا۔  اس مضمون میں سیاست کی محض چند خامیوں (جھوٹ، بدعنوانی، ہٹ دھرمی، بے حسی اور ’’عدم وفاداری‘‘) پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کچھ نیا نہ ہونے کے باوجود یہ ساری باتیں اس لئے بیان کی گئی ہیں تاکہ ان کے ذریعہ یہ عرض کیا جاسکے کہ جب سیاست اخلاقیات کو دفن کرچکی ہے ا ور غیر اخلاقی رجحانات اور رویوں کے ذریعہ روزانہ سماج تک پہنچ رہی ہے تو سماج کو بھی سچ، راست بازی، وفاداری اور اخلاق مندی کے جوہر سے دور کررہی ہے۔ انسان کتنا ہی محتاط رہے،  ماحول اُس پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم بھی جھوٹ کو کسی نہ کسی سطح پر قبول کرنے لگے ہیں اور راست بازی، وفاداری نیز اخلاقی قدروں کا بالائے طاق رکھا جانا گوارا کرنے لگے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK